چھ قومی اسمبلی اور سات پنجاب اسمبلی نشستوں پر ہائی سٹیکس بائی الیکشنز میں ووٹنگ جاری

Vote Polling Room

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، آج 23 نومبر 2025 کو چھ قومی اسمبلی اور سات پنجاب اسمبلی کی نشستوں پر بائی الیکشنز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ الیکشنز لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، سرگودھا، میانوالی، مظفر گڑھ، ہری پور اور دیگر علاقوں میں ہو رہے ہیں۔ ووٹنگ کا آغاز صبح 8 بجے ہوا اور یہ شام 5 بجے تک جاری رہے گی۔ ECP نے یقین دہانی کرائی ہے کہ الیکشن میٹریل محفوظ طریقے سے پولنگ سٹیشنز تک پہنچا دیا گیا ہے اور آزادانہ اور منصفانہ الیکشنز کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔

یہ نشستاں زیادہ تر پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے اراکین کی نااہلی کی وجہ سے خالی ہوئیں، جو 9 مئی 2023 کے فسادات سے متعلق مقدمات میں سزا پانے والے تھے۔ یہ فسادات سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد شروع ہوئے تھے۔ ECP کے اعداد و شمار کے مطابق، ان الیکشنز میں لاکھوں ووٹرز حصہ لے رہے ہیں، جن میں NA-129 لاہور میں 558,364 رجسٹرڈ ووٹرز اور NA-143 ساہیوال میں 610,044 ووٹرز شامل ہیں۔

اہم نشستاں اور امیدوار

بائی الیکشنز کی اہم نشستوں میں سخت مقابلہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہاں کچھ نمایاں نشستاں اور امیدواروں کی تفصیلات ہیں:

  • NA-18 ہری پور: PTI کی حمایت یافتہ امیدوار محترمہ شہناز (نااہل ایم این اے عمر ایوب خان کی اہلیہ) کا مقابلہ PMLN کے بابر نواز سے ہے۔ یہ نشست سیاسی دلچسپی کا مرکز ہے۔
  • NA-129 لاہور: PMLN کے حافظ میاں نعمان کا مقابلہ مرحوم میاں اظہر کے بھتیجے ارسلان احمد سے متوقع ہے۔
  • NA-96 اور NA-104 فیصل آباد: یہاں PTI اور PMLN کے درمیان شدید مقابلہ ہے، جہاں مقامی مسائل جیسے صنعتی ترقی اور روزگار اہم موضوعات ہیں۔
  • NA-143 ساہیوال اور NA-185 ڈیرہ غازی خان: یہ نشستاں دیہی علاقوں کی نمائندگی کرتی ہیں، جہاں زرعی پالیسیاں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔

پنجاب اسمبلی کی نشستوں میں PP-73 سرگودھا، PP-87 میانوالی، PP-98، PP-115 اور PP-116 فیصل آباد، PP-203 ساہیوال اور PP-269 مظفر گڑھ شامل ہیں۔ ان نشستوں پر PTI کے نااہل اراکین کی جگہ نئے امیدوار میدان میں ہیں۔

سیکیورٹی انتظامات اور کوڈ آف کنڈکٹ

ECP نے سیکیورٹی کے لیے جامع پلان تیار کیا ہے۔ پاکستان کی آئین کی دفعہ 245 کے تحت فوج اور سول آرمڈ فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی کا ڈھانچہ تین درجوں پر مشتمل ہے:

  • پہلا درجہ: پولیس، جو پہلے ردعمل کی ذمہ دار ہے۔
  • دوسرا درجہ: سول آرمڈ فورسز، جو اسٹینڈ بائی اور کوئیک ری ایکشن موڈ میں رہیں گی۔
  • تیسرا درجہ: پاکستان آرمی، جو ان سیٹو کوئیک ری ایکشن فورس کے طور پر کام کرے گی۔

سیکیورٹی اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پولنگ سٹیشنز کے باہر تعینات رہیں اور صرف اسلحہ، دھماکہ خیز مواد رکھنے والوں یا خلل ڈالنے والوں کو روکیں۔ وہ پولنگ سٹاف کی ذمہ داریاں نہیں سنبھالیں گے اور نہ ہی الیکشن میٹریل کی تحویل لیں گے۔

میڈیا کے لیے بھی کوڈ آف کنڈکٹ جاری کیا گیا ہے۔ پولنگ ختم ہونے کے ایک گھنٹے بعد تک غیر سرکاری نتائج نشر نہیں کیے جا سکتے، اور انہیں غیر سرکاری اور جزوی طور پر پیش کیا جائے۔ خلاف ورزی پر ECP متعلقہ اتھارٹیز سے کارروائی کی سفارش کرے گی۔ صرف ریٹرننگ آفیسر ہی حتمی نتائج جاری کر سکتا ہے۔

تاریخی تناظر اور ممکنہ اثرات

یہ بائی الیکشنز PTI کی نااہلیوں کے بعد ہو رہے ہیں، جو 2023 کے فسادات کا نتیجہ تھے۔ پچھلے الیکشنز کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ان نشستوں پر PTI کا مضبوط ووٹ بینک تھا، لیکن PMLN کی حالیہ کارکردگی، جیسے 2024 جنرل الیکشنز میں کامیابی، اسے فائدہ دے سکتی ہے۔ اگر PMLN زیادہ نشستیں جیتتی ہے تو یہ پنجاب میں اس کی حکومت کو مزید مستحکم کرے گی، جبکہ PTI کی کامیابی پارٹی کی بحالی کی علامت ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں: دبئی ایئر شو میں بھارتی جنگی طیارہ ’تیجس‘ گر کر تباہ — پائلٹ ہلاک، بھارتی فضائیہ کے لیے عالمی سطح پر بڑی شرمندگی

ECP کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ان الیکشنز میں ووٹر ٹرن آؤٹ 50-60% متوقع ہے، جو پچھلے بائی الیکشنز سے زیادہ ہے۔ یہ اعداد معتبر ذرائع سے لیے گئے ہیں۔

ووٹرز کے لیے مفید مشورے

ووٹرز کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنا شناختی کارڈ ساتھ لے کر جائیں اور پولنگ سٹیشن پر ماسک اور سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔ اگر کوئی شکایت ہو تو ECP ہیلپ لائن 051-111-327-000 پر رابطہ کریں۔ مرحلہ وار گائیڈ:

  1. پولنگ سٹیشن پہنچیں اور قطار میں کھڑے ہوں۔
  2. شناختی کارڈ دکھا کر داخل ہوں۔
  3. بیلٹ پیپر حاصل کریں اور ووٹ ڈالیں۔
  4. فنگر پرنٹ اور دستخط کریں۔
  5. باہر نکلیں اور کسی کو اپنا ووٹ نہ بتائیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

بائی الیکشنز کیوں ہو رہے ہیں؟

PTI اراکین کی نااہلی کی وجہ سے، جو مئی 2023 فسادات سے متعلق ہیں۔

ووٹنگ کا وقت کیا ہے؟

صبح 8 سے شام 5 بجے تک۔

نتائج کب آئیں گے؟

پولنگ ختم ہونے کے بعد، صرف ریٹرننگ آفیسر سے سرکاری نتائج۔

سیکیورٹی کیسے یقینی بنائی جا رہی ہے؟

تین درجوں کی فورسز تعینات ہیں۔

انٹرایکٹو عنصر: پول

آپ کی رائے کیا ہے؟ کیا PMLN یہ الیکشنز جیتے گی یا PTI واپسی کرے گی؟ کمنٹس میں بتائیں یا ہمارے پول میں ووٹ دیں:

  • PMLN جیتے گی
  • PTI جیتے گی
  • غیر جانبدار

یہ پول آپ کی رائے جمع کرنے کے لیے ہے اور وقت گزارنے میں اضافہ کرے گا۔

نتیجہ اور کال ٹو ایکشن

یہ بائی الیکشنز پاکستان کی سیاست میں اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے ساتھ رہیں۔ کیا آپ نے ووٹ ڈالا؟ کمنٹس میں شیئر کریں، آرٹیکل کو شیئر کریں، اور تازہ ترین خبروں کے لیے ہمارے WhatsApp چینل کو جوائن کریں۔ بائیں طرف فلوٹنگ WhatsApp بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفیکیشنز آن کریں – یہ آپ کو فوری اپ ڈیٹس دے گا اور آپ کی سیاسی بصیرت بڑھائے گا!

Confirm all discussed information before taking any steps; the provided information is published through public reports.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے