اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا ختم: علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان سمیت تمام کارکن رہا

اڈیالہ جیل کے قریب دھرنا

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر آج ایک بار پھر PTI کارکنوں کا احتجاج دیکھنے میں آیا۔ عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر ان کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان نے گورکھپور ناکے پر دھرنا دے دیا تھا۔ پولیس نے کچھ دیر بعد آپریشن کیا اور دھرنا ختم کروا دیا۔

کیا ہوا؟

  • علیمہ خان نے دھرنا ختم کرنے سے واضح انکار کر دیا تھا۔
  • پولیس نے 8 سے 10 کارکنوں کو تحویل میں لے کر قیدی وین میں ڈالا۔
  • دھرنے کے دوران نورین نیازی کی طبیعت خراب ہو گئی۔
  • سڑک خالی کرانے کے لیے پانی کا چھڑکاؤ بھی کیا گیا۔
  • چند گھنٹوں بعد تمام افراد کو چکری انٹرچینج پر رہا کر دیا گیا۔

آج بھی اڈیالہ جیل جانے والا راستہ مکمل بند رہا اور کسی رہنما یا فیملی ممبر کو عمران خان سے ملنے کی اجازت نہ دی گئی۔

اہم نکات

  • دھرنے میں صرف خواتین کارکن موجود تھیں۔
  • گرفتاری کے فوراً بعد رہائی ہو گئی، کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔
  • PTI قیادت نے اسے “جبری گمشدگی” قرار دینے کی کوشش کی، مگر چند گھنٹوں میں سب رہا ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیں: بابر اعظم نے صفر پر آؤٹ ہونے میں شاہد آفریدی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا: ناپسندیدہ ریکارڈ قائم

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

علیمہ خان کو کب رہا کیا گیا؟

چند گھنٹے تحویل میں رکھنے کے بعد چکری انٹرچینج پر۔

نورین نیازی کی طبیعت کیسی ہے؟

دھرنے کے دوران خراب ہوئی تھی، رہائی کے بعد بہتر بتائی جا رہی ہیں۔

کیا کوئی مقدمہ درج ہوا؟

اب تک کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا۔

ملاقات کیوں نہیں ہو سکی؟

جیل انتظامیہ نے سیکیورٹی وجوہات کا حوالہ دیا۔

تازہ ترین سیاسی اپ ڈیٹس، اڈیالہ جیل کی ہر خبر اور PTI کی تازہ ترین سرگرمیاں سب سے پہلے جاننے کے لیے ابھی ہمارا WhatsApp چینل جوائن کریں۔ بائیں طرف واٹس ایپ آئیکن پر کلک کریں، نوٹیفکیشن آن کریں — بریکنگ نیوز آپ کے فون پر ایک سیکنڈ میں! آپ کی رائے کیا ہے؟ کیا فیملی ممبران کا احتجاج جائز تھا؟ کمنٹ ضرور کریں اور شیئر کریں!

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے