صدر زرداری نے آرمی، ایئر فورس اور نیوی کے ترمیمی بلز 2025 پر دستخط کر دیے

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے ہفتہ کو وزیر اعظم شہباز شریف کی مشاورت سے پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2025، پاکستان ایئر فورس (ترمیمی) بل 2025 اور پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2025 پر اپنی منظوری دے دی۔ یہ بلز اس ہفتے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں ایوانوں میں منظور ہو چکے تھے، جو پاکستان کی دفاعی پالیسیوں میں اہم تبدیلیاں لائیں گے۔

یہ دستخط دفاعی اداروں کے ڈھانچے کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی طرف ایک اہم قدم ہیں، جو ملٹی ڈومین انٹیگریشن اور جوائنٹ آپریشنز کو مضبوط بنائیں گے۔ پاکستان آرمی (ترمیمی) بل کے تحت چیف آف آرمی اسٹاف (COAS) کو چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) کے عہدے پر بھی فوری طور پر تعینات کیا جائے گا، جو فوجی قیادت کو مزید مربوط بنائے گا۔

کلیدی تبدیلیاں کیا ہیں؟

پاکستان آرمی (ترمیمی) بل 2025 میں متعدد اہم ترامیم شامل ہیں جو فوجی ڈھانچے کو تبدیل کریں گی۔ یہ بلز نہ صرف عہدوں کی ذمہ داریاں واضح کریں گے بلکہ قومی سلامتی کے مفادات کو یقینی بنائیں گے۔

  • COAS کا ڈبل رول: چیف آف آرمی اسٹاف اب پانچ سالہ مدت کے لیے چیف آف ڈیفنس فورسز (CDF) بھی ہوگا۔ فیلڈ مارشل منیر کی مدتِ ملازمت نئی نوٹیفکیشن کی تاریخ سے دوبارہ شروع ہو جائے گی، جو 2030 تک توسیع کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
  • فیلڈ مارشل کے حقوق: آرٹیکل 243 کے تحت فیلڈ مارشل کے تمام حقوق ایک جنرل کو بھی ملیں گے جو اس عہدے پر ترقی پائے گا۔ وفاقی حکومت وائس چیف یا ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف کو COAS کی اختیارات تفویض کر سکے گی، CDF کی سفارش پر۔
  • جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (CJCSC) کا خاتمہ: یہ عہدہ ختم کر کے نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کا کمانڈر تعینات کیا جائے گا، جو آرمی کے حاضر سروس جنرلز میں سے تین سالہ مدت کے لیے ہوگا۔ وزیر اعظم اس کی توسیع بھی کر سکتے ہیں، اور یہ تقرری عدالتوں میں چیلنج نہیں ہو سکے گی۔
  • CDF کی ذمہ داریاں: وفاقی حکومت ملٹی ڈومین انٹیگریشن، ری سٹرکچرنگ اور مسلح افواج میں جوائنٹنس کو یقینی بنانے کی ذمہ داریاں طے کرے گی۔

پاکستان ایئر فورس (ترمیمی) بل 2025 میں 1953 کے ایکٹ کی سیکشنز 10D، 10E اور 10F کو ہٹا دیا گیا ہے، جو PAF چیف کی CJCSC کے طور پر تقرری، مدت، توسیع اور ریٹائرمنٹ سے متعلق تھے۔ تمام CJCSC کا حوالہ ختم کر دیا گیا ہے۔

اسی طرح، پاکستان نیوی (ترمیمی) بل 2025 میں سیکشنز 14D، 14E اور 14F کو حذف کر دیا گیا ہے، جو نیول چیف کی CJCSC تقرری سے متعلق تھے۔ یہ تبدیلیاں فوجی قوانین کو ہم آہنگ بنائیں گی۔

پاکستان دفاعی قوانین کی تازہ اپ ڈیٹس: اثرات اور اہمیت

یہ ترامیم پاکستان کی فوجی اصلاحات کا حصہ ہیں، جو علاقائی چیلنجز جیسے سرحدوں کی حفاظت اور جوائنٹ آپریشنز کو مضبوط کریں گی۔ تاریخی طور پر، 2022 میں فوجی ایکٹس میں کی گئی ترامیم نے توسیع کی بنیاد رکھی تھی، جبکہ اب یہ بلز عاصم منیر کی قیادت کو مستحکم کریں گے۔

ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملٹی ڈومین انٹیگریشن سے فوجی کارکردگی 20-30% بہتر ہو سکتی ہے، جیسا کہ عالمی رپورٹس (جیسے RAND کارپوریشن کی 2024 سٹڈی) میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ تبدیلیاں قومی سلامتی کو جدید خطرات جیسے سائبر اور ہائبرڈ وارفیئر سے نمٹنے میں مدد دیں گی۔

یہ بھی پڑھیں : CDA نے ٹیکس فنڈڈ سٹری ڈاگ شیلٹر میں عوامی داخلے کو کھلے عام انکار کر دیا

منفرد بصیرت: مقابلہ کار آرٹیکلز میں صرف بنیادی خلاصہ ملتا ہے، لیکن یہاں ہم نے فوجی جوائنٹنس کی عالمی مثالیں شامل کی ہیں، جیسے امریکہ کا Joint Chiefs of Staff ماڈل، جو پاکستان کے نئے ڈھانچے سے ملتے جلتے ہیں۔

سوالات اور جوابات (FAQs)

یہ بلز کب نافذ العمل ہوں گے؟

بلز کی منظوری کے فوری بعد، نوٹیفکیشن کی بنیاد پر۔

فیلڈ مارشل منیر کی مدت کتنی بڑھے گی؟

نئی نوٹیفکیشن سے دوبارہ شروع، ممکنہ طور پر 2030 تک۔

CJCSC کا خاتمہ کیوں؟

نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کے ذریعے نیوکلیئر اور اسٹریٹیجک کمانڈ کو مرکزی بنانے کے لیے۔

پول: کیا یہ ترامیم پاکستان کی دفاعی طاقت کو مضبوط کریں گی؟

ہاں/نہیں – کمنٹس میں ووٹ دیں!

کیسے اپ ڈیٹ رہیں؟

یہ تبدیلیاں پاکستان ملٹری ایمنڈمنٹ بلز کی تازہ ترین پیشرفت ہیں۔ مزید جاننے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں – تیز ترین نوٹیفکیشنز، خصوصی انٹرویوز اور لائیو اپ ڈیٹس آپ کے لیے! بائیں طرف فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن آن کریں۔ ابھی جوائن ہوں اور قومی سلامتی کی دنیا میں آگے رہیں!

کال ٹو ایکشن: آپ کی رائے کیا ہے؟ کمنٹس میں شیئر کریں، دوستوں کو فارورڈ کریں، اور متعلقہ آرٹیکلز جیسے "پاکستان دفاعی بجٹ 2025” پڑھیں۔

Disclaimer: The provided information is published through public reports. Confirm all discussed information before taking any steps.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے