سپریم کورٹ ججوں کا استعفیٰ: 27ویں ترمیم پر جسٹس منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ کی بغاوت

منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ

سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے جمعرات کو اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ دونوں ججوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری کو استعفے بھیجے، جو 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری اور صدر کے دستخط کے فوراً بعد سامنے آئے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل استعفیٰ میں ترمیم کو آئین پاکستان پر سنگین حملہ قرار دیا، جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے اپنے 11 سالہ عدالتی سفر کا ذکر کرتے ہوئے استعفیٰ پیش کیا۔ یہ استعفے پاکستان عدلیہ کی خودمختاری بحران کو اجاگر کرتے ہیں، جو عدلیہ پر سیاسی دباؤ پاکستان کی ایک نئی مثال بن چکے ہیں۔

سپریم کورٹ جج استعفیٰ: وجوہات اور پس منظر

سپریم کورٹ جج استعفیٰ کی یہ خبر 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے محض ایک دن بعد سامنے آئی، جو وفاقی آئینی عدالت کا قیام اور عدلیہ میں جڑ بنیادی تبدیلیاں لاتی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ، جو سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج تھے، نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو دو خطوط لکھے تھے، جن میں ترمیم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ ان کے استعفے میں واضح لکھا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور عدلیہ کو حکومت کے ماتحت بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم ہماری آئینی جمہوریت کی روح پر کاری ضرب ہے، جس سے انصاف عام آدمی سے دور اور کمزور طاقت کے سامنے بے بس ہو جائے گا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے بھی چیف جسٹس کو ایک خط لکھا تھا، جس میں ترمیم کے آئینی نظام پر اثرات اور عدلیہ کی آزادی پر خدشات کا ذکر کیا گیا۔ ان کا استعفیٰ ان کے 11 سالہ کیریئر کا اختتام ہے: 11 سال قبل اسلام آباد ہائی کورٹ جج، 4 سال بعد چیف جسٹس، اور مزید 4 سال بعد سپریم کورٹ جج کے طور پر حلف اٹھایا۔

  • جسٹس منصور علی شاہ استعفیٰ: 13 صفحات، احمد فراز کی نظم "ایسے دستور کو میں نہیں مانتا” سے اختتام، عدلیہ کی ایمانداری اور دیانت کی حفاظت کا عزم۔
  • جسٹس اطہر من اللہ استعفیٰ: ترمیم سے قبل خط، جو سچ بولنے والے ججوں پر انتقام اور احتساب کے ہتھیار استعمال ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔
  • حکومتی ردعمل: وزیر مملکت قانون عقیل ملک نے استعفوں کی تصدیق کی، مگر یہ واضح نہیں کہ منظور ہوئے یا نہیں۔

27ویں آئینی ترمیم اور عدلیہ

27ویں آئینی ترمیم اور عدلیہ کے درمیان تنازعہ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم موڑ ہے۔ یہ ترمیم وفاقی آئینی عدالت قائم کرتی ہے، جس میں صوبوں کو برابر نمائندگی ملے گی اور سپریم کورٹ کے کچھ اختیارات منتقل ہوں گے۔ آئینی ترمیم جج تقرریاں پاکستان کو تبدیل کرے گی، جہاں صدر اور وزیراعظم کلیدی کردار ادا کریں گے، جبکہ جوڈیشل کمیشن ججوں کے تبادلے سنبھالے گا۔ تاہم، ججوں کا موقف ہے کہ یہ عدلیہ پر سیاسی دباؤ پاکستان کی ایک واضح مثال ہے، جو عدالت عالیہ پاکستان ترمیمی بل اثرات کو سنگین بناتی ہے۔ ڈیٹا کے مطابق، پاکستان میں آئینی مقدمات میں 25% اضافہ ہوا ہے (پاکستان بار کونسل رپورٹ 2025)، اور یہ ترمیم انہیں نئی عدالت میں منتقل کرے گی، جو سپریم کورٹ کی خودمختاری کو کمزور کر سکتی ہے۔

عدالت عالیہ اور پارلیمنٹ تعلقات میں یہ کشیدگی 26ویں ترمیم کے بعد مزید بڑھی، جہاں ججز کی تعداد 23 تک بڑھانے کا فیصلہ ہوا۔ قانونی ماہرین ردّ عمل ترمیم پر کا کہنا ہے کہ یہ جمہوریت اور آئینی تبدیلیاں کو خطرے میں ڈالتی ہے، جیسا کہ ماضی میں نواز شریف اور عمران خان کے کیسز میں دیکھا گیا۔

جج استعفیٰ عدلیہ کا ردّ عمل

جج استعفیٰ عدلیہ کا ردّ عمل 27ویں ترمیم کے خلاف ایک بغاوت ہے، جو عدلیہ کی عبوری حالت پاکستان کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں ججوں نے چیمبرز خالی کر دیے، جو عدالت کا وقار اور آئینی دفاع کی علامت ہے۔

مرحلہ وار عمل ججوں کے استعفے کا:

  1. تحفظات کا اظہار: ترمیم سے قبل چیف جسٹس کو خطوط، فل کورٹ اجلاس کا مطالبہ (جسٹس صلاح الدین پنہور سمیت تین ججوں نے خط لکھا)۔
  2. استعفیٰ پیش: صدر مملکت کو بھیجنا، وجوہات کی تفصیل۔
  3. حکومتی جائزہ: استعفوں کی منظوری یا رد، جو عدلیہ پر سیاسی دباؤ پاکستان کو مزید نمایاں کرے گا۔
  4. مستقبل کی راہ: نئی تقرریاں، جو سپریم کورٹ کی ساخت تبدیل کریں گی۔

یہ استعفے صدر مملکت آصف علی زرداری ترمیمی بل کی منظوری کے بعد آئے، جو پاکستان جمہوریت عدلیہ تبدیلی کا ایک نازک مرحلہ ہے۔

اثرات اور منفرد بصیرتیں: عدلیہ کی آزادی کا مستقبل

سپریم کورٹ جج استعفیٰ سے عدلیہ کی آزادی بحران مزید گہرا ہو گیا، جو مقدمات کی سماعت میں 40% تاخیر کا باعث بن سکتا ہے (انڈپینڈنٹ اردو تجزیہ 2025)۔ مثال کے طور پر، ذوالفقار علی بھٹو کی عدالتی پھانسی اور حالیہ سیاسی کیسز میں عدلیہ کی جانبداری کے الزامات اس تنازعے کو تقویت دیتے ہیں۔
منفرد بصیرت: جسٹس اطہر من اللہ کا خط، جہاں انہوں نے کہا کہ "جو جج سچ بولتا ہے، وہ انتقام کا نشانہ بنتا ہے”، عدلیہ کی اندرونی کمزوریوں کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ استعفے 38 سابق لاء کلرکس کے فل کورٹ اجلاس مطالبے سے جڑے ہیں، جو عدلیہ کی خودمختاری کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت آصف علی زرداری نے 27 ویں آئینی ترمیمی بل پر دستخط کردیے

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سپریم کورٹ جج استعفیٰ کی وجہ کیا ہے؟

27ویں آئینی ترمیم کو آئین پر حملہ اور عدلیہ کی آزادی پر خطرہ قرار دے کر۔

جسٹس منصور علی شاہ استعفیٰ میں کیا لکھا؟

ترمیم نے سپریم کورٹ کو ٹکڑے کر دیا، عدلیہ کو حکومت ماتحت بنا دیا، جمہوریت کی روح کو ضرب لگائی۔

جسٹس اطہر من اللہ استعفیٰ کا پس منظر؟

11 سالہ عدالتی سفر، ترمیم سے قبل چیف جسٹس کو خط میں خدشات کا اظہار۔

27ویں آئینی ترمیم اور عدلیہ کے اثرات؟

وفاقی عدالت کا قیام، جج تقرریاں تبدیل، سپریم کورٹ کے اختیارات کم، جو عدلیہ پر سیاسی دباؤ پاکستان بڑھائے گا۔

انٹرایکٹو عنصر: پول

کیا آپ ججوں کے استعفے کو عدلیہ کی آزادی کی حفاظت سمجھتے ہیں؟

  • ہاں، یہ آئینی دفاع کی مثال ہے۔
  • نہیں، یہ سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ (اپنی رائے دیں اور دوسروں کی دیکھیں – یہ پول آپ کی عدالتی بصیرت بڑھائے گا!)

اختتام اور کال ٹو ایکشن

سپریم کورٹ ججوں کا استعفیٰ پاکستان کی عدلیہ کو نئی سمت دے گا، جو 27ویں ترمیم کے اثرات اور عدلیہ کی خودمختاری بحران کو مرکز میں لا سکتا ہے۔ آپ کی رائے کیا ہے؟ کمنٹس میں شیئر کریں، دوستوں کے ساتھ پوسٹ کریں، یا متعلقہ قانونی تجزیے پڑھیں۔

WhatsApp چینل جوائن کریں: تازہ ترین عدالتی اپ ڈیٹس اور بریکنگ نیوز کے لیے ہمارے WhatsApp چینل کو فالو کریں – بائیں طرف فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفکیشن آن کریں، اور ہر اہم استعفیٰ یا ترمیم براہ راست آپ کے پاس پہنچ جائے گی۔ یہ مفت ہے، محفوظ، اور آپ کی سیاسی آگاہی کو بڑھائے گا – ابھی جوائن کریں اور عدلیہ کی جنگ کا حصہ بنیں!

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے