ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے شوق نے 12 سالہ طالب علم کی جان لے لی

ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے 12 سالہ طالب

جنوبی پنجاب میں واقع ضلع مریدکے کے کلر شاہ کاکو پولیس اسٹیشن نے ایک دل دہلا دینے والے واقعے کی اطلاع دی ہے جہاں 12 سالہ طالب علم عبدالہادی کو اپنے والد کی پستول سے ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کی کوشش کے دوران گولی مار کر ہلاک کردیا گیا۔ یہ سانحہ رتہ گجراں کے علاقے میں پیش آیا جہاں لڑکا گھر کے اندر موجود تھا کہ غلطی سے پستول چل گیا۔ پولیس نے فوری طور پر لاش کو تحویل میں لے کر ابتدائی طور پر اسے حادثہ قرار دیتے ہوئے تفتیش شروع کردی۔ یہ واقعہ نہ صرف خاندان کے غم کو اجاگر کرتا ہے بلکہ سوشل میڈیا، خاص طور پر بچوں میں ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارم کی مقبولیت سے وابستہ بڑھتے ہوئے خطرات کو بھی واضح کرتا ہے۔

واقعہ کی تفصیلات

کلر شاہ کاکو کا ایک پُرسکون دیہی علاقہ رتہ گجراں ایک ایسے سانحے کی نذر ہو گیا جو سوشل میڈیا کے خطرناک رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک مقامی اسکول میں 12 سالہ روشن طالب علم عبدالہادی نے ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے لیے کمرے سے اپنے والد کا پستول اٹھایا۔ اچانک پستول سے گولی اس کے جسم میں لگی اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
لواحقین نے بتایا کہ عبدالہادی کو ویڈیوز بنانے کا شوق تھا اور اکثر کلپس کے لیے فیملی کا موبائل استعمال کرتا تھا۔ اس دن، اس نے اپنے والد کی پستول استعمال کرنے پر اصرار کیا، جو غفلت کی وجہ سے غیر محفوظ رہ گیا تھا۔ گولی چلنے کی آواز سے گھر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بچے کو تشویشناک حالت میں ہسپتال لے جایا گیا لیکن پہنچنے سے پہلے ہی وہ دم توڑ گیا۔ پولیس نے لواحقین کے بیانات قلمبند کرکے لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی۔

پولیس کی ابتدائی رپورٹ: تفتیش جاری ہے

اطلاع ملتے ہی کلر شاہ کاکو پولیس موقع پر پہنچ گئی اور تفتیش شروع کر دی۔ ان کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق:

  • حادثاتی نوعیت: پستول غلط استعمال کی وجہ سے خارج ہوا، خاندان کی جانب سے اسے صحیح طریقے سے محفوظ نہ کرنے کی وجہ سے ہوا ہے۔
  • خاندانی تعاون: والدین نے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کیا، اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ پستول قانونی طور پر رجسٹرڈ تھا لیکن اسے بچوں کی پہنچ سے دور نہیں رکھا گیا۔
  • مزید انکوائری: پولیس کسی بھی ممکنہ بیرونی عوامل کا بھی جائزہ لے رہی ہے، حالانکہ ابھی تک کوئی مشکوک عناصر سامنے نہیں آئے ہیں۔

یہ معاملہ پاکستان میں گھریلو آتشیں اسلحہ کی موجودگی اور بچوں کی حفاظت کے بارے میں سوالات اٹھاتا ہے، جہاں ہزاروں خاندان قانونی پستول کے مالک ہیں۔

پاکستان میں ٹِک ٹاک حادثات

پاکستان میں ٹک ٹاک کی مقبولیت 54 ملین صارفین تک پہنچ گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ حادثات بھی بڑھ رہے ہیں۔ 2019 کے بعد سے، کم از کم 11 نوجوان اور بچے TikTok ویڈیوز بناتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے اکثر میں آتشیں اسلحہ شامل ہے۔ مثالوں میں شامل ہیں:

  • 2021 میں سوات سے تعلق رکھنے والے 19 سالہ حمید اللہ نے پستول سے خودکشی کی جعلی ویڈیو بناتے ہوئے خود کو گولی مار لی۔
  • 2025 میں لاہور میں ایک 18 سالہ نوجوان نے غلطی سے سیکیورٹی گارڈ کے پستول سے اپنے پاؤں پر گولی مار دی۔
  • کراچی میں متعدد واقعات جن میں نوجوان ٹرینوں یا چھتوں سے گرے۔

یہ اعدادوشمار انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں جو سوشل میڈیا کے غیر محفوظ چیلنجز کو اجاگر کرتے ہیں۔

والدین کے لیے حفاظتی اقدامات: مرحلہ وار گائیڈ

اس المناک واقعہ سے سبق سیکھتے ہوئے والدین اور سرپرستوں کو آتشیں اسلحہ اور سوشل میڈیا سے احتیاط برتنی چاہیے۔ یہاں ایک سادہ گائیڈ ہے:

  • محفوظ آتشیں اسلحے کا ذخیرہ: پستول یا دیگر ہتھیاروں کو بچوں کی دسترس سے دور، مقفل خانوں میں رکھیں۔ قانونی طور پر رجسٹرڈ آتشیں اسلحہ کا باقاعدگی سے معائنہ کریں۔
  • سوشل میڈیا کے استعمال کی نگرانی کریں: بچوں کی موبائل سرگرمی کی نگرانی کریں، رازداری کی ترتیبات کی جانچ کریں، اور خطرناک چیلنجوں پر پابندی لگائیں (مثلاً ہتھیاروں کی نمائش)۔
  • تعلیم اور مواصلات: بچوں کو سوشل میڈیا کے فوائد اور خطرات کے بارے میں سکھائیں۔ سکولوں میں آگاہی سیشنز کا اہتمام کریں۔
  • طبی اور قانونی مدد: شک کی صورت میں فوری طور پر پولیس یا ہیلپ لائنز (مثلاً 15) سے رابطہ کریں۔

یہ اقدامات حفاظت میں اضافہ کریں گے اور خاندانوں میں ایسے سانحات کو روکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹر فیصل واوڈا کا دعوی ہے کہ پی ٹی آئی نے 27 ویں آئینی ترمیم کو منظور کرنے میں مدد کی

سوالات اور جوابات (FAQs)

حادثہ کیسے ہوا؟

عبدالہادی کو اپنے والد کے پستول سے ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے حادثاتی طور پر گولی مار دی گئی۔

پولیس کا کیا جواب تھا؟

انہوں نے فوری طور پر لاش کو محفوظ کرلیا اور اسے حادثاتی سمجھتے ہوئے تحقیقات شروع کردی۔

پاکستان میں ایسے کتنے کیسز ہیں؟

2019 سے اب تک 11 سے زیادہ اموات، زیادہ تر نوجوان TikTok ویڈیوز میں ہیں۔

والدین کو کیا کرنا چاہیے؟

ہتھیاروں کو محفوظ بنائیں اور بچوں کو سوشل میڈیا کی حفاظت کے بارے میں تعلیم دیں۔

سامعین کی رائے

کیا آپ کو لگتا ہے کہ TikTok کو ہتھیاروں والی ویڈیوز پر پابندی لگانی چاہیے؟

  • ہاں، بچوں کی حفاظت کے لیے۔
  • نہیں، ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔

(بیداری پھیلانے کے لیے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔)

کال ٹو ایکشن

اس دل دہلا دینے والے واقعے پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا سوشل میڈیا بچوں کے لیے خطرہ بن رہا ہے؟ ذیل میں تبصرہ کریں، دوستوں اور خاندان کے ساتھ اشتراک کریں، اور مزید آگاہی کے لیے ہماری ویب سائٹ پر متعلقہ مضامین پڑھیں۔ خاص طور پر، ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں – بائیں جانب تیرتے WhatsApp بٹن پر کلک کریں، نوٹیفکیشن پاپ اپ کو قبول کریں، اور ہر اہم خبر پر فوری الرٹس حاصل کریں۔ اس سے آپ کو اور آپ کے خاندان کو بغیر کسی تاخیر کے محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی!

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے