پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے شعبہ انجینیئرنگ میں جاری تنازع نے قومی ایئر لائن کی پروازوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ سوسائٹی آف ایئرکرافٹ انجینیئرز آف پاکستان (SAEP) کے ارکان نے پیر کی شام سے طیاروں کی کلیئرنس روک دی ہے، جس سے ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر ہزاروں مسافرین پھنس گئے ہیں۔ یہ احتجاج سیفٹی پروٹوکولز کی پابندی اور انتظامیہ کی طرف سے طویل عرصے سے لٹکے مطالبات کی وجہ سے شروع ہوا، جبکہ پی آئی اے انتظامیہ اسے غیر قانونی ہڑتال قرار دے رہی ہے جو نجکاری کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے۔ اس رپورٹ میں ہم تفصیل سے جانیں گے کہ یہ تنازع کیسے شروع ہوا، اس کے اثرات کیا ہیں، اور ممکنہ Fox حل کیا ہو سکتے ہیں۔
تنازع کی جڑیں: انجینیئرز کے طویل عرصے کے مسائل
پی آئی اے کے 570 سے زائد لائسنس یافتہ ایئرکرافٹ انجینیئرز سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) کے ضابطوں کے تحت طیاروں کی فٹنس چیک کرنے اور کلیئرنس دینے کے ذمہ دار ہیں۔ SAEP کے صدر عبداللہ جدون کا کہنا ہے کہ انتظامیہ انہیں بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کر رہی۔ "ہمارے پاس پرزوں کی شدید قلت ہے، ٹیکنیشنز اور سویپرز کی کمی کی وجہ سے انجینیئرز خود صفائی اور معاون کام کر رہے ہیں۔ آٹھ سال سے تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا، اور کام کے دباؤ سے ایک ساتھی کی موت تک ہو گئی،” جدون نے میڈیا کو بتایا۔
انجینیئرز کا مزید کہنا ہے کہ بین الاقوامی پروازوں میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر عالمی معیار کے اوزار اور ماتحت عملہ دستیاب نہیں۔ "اگر پرواز کے دوران کوئی خرابی آئی تو ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے، لیکن انتظامیہ مسائل حل کرنے کی بجائے دھمکیاں دیتی ہے۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ نجکاری آج ہو جائے، تاکہ کوئی ذمہ دار مالک آئے،” انہوں نے کہا۔
پی آئی اے کے شعبہ انجینیئرنگ کے ایک عہدیدار شاہد خان نے وضاحت کی کہ ایئرکرافٹ انجینیئرز کی اہمیت ناقابلِ تردید ہے۔ "انہیں انجینیئرنگ ڈگری کے بعد CAA لائسنس اور خصوصی تربیت درکار ہوتی ہے۔ عالمی قوانین کے مطابق، پائلٹ طیارہ اس وقت تک نہیں چلا سکتا جب تک انجینیئر کی دستخط شدہ کلیئرنس نہ مل جائے۔ فیول، انجن چیک اور خرابیوں کی مرمت سب ان کی ذمہ داری ہے۔”
یہ بھی پڑھیں:عمران خان نے فارم 47 مسترد کر دیا اور جیل سے اسٹیبلشمنٹ کی براہ راست بات چیت
پروازوں پر اثرات: عمرہ زائرین اور ہزاروں مسافرین پھنسے
ایئرپورٹ ریکارڈز کے مطابق، پیر کی شام 8 بجے کے بعد سے 12 بین الاقوامی پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، جن میں لاہور سے مدینہ (PK 747، PK 744)، کراچی سے جدہ، اسلام آباد سے دبئی (PK 741، PK 736) اور پشاور روٹس شامل ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر عمرہ زائرین تھے، جو حج سیزن کے قریب ہونے کی وجہ سے شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
- منسوخ پروازیں: PK 747 (لاہور-مدینہ)، PK 744 (کراچی-جدہ)، PK 741 (اسلام آباد-جدہ)، PK 736 (پشاور-دبئی)۔
- تاخیر کا شکار: PK 245 (اسلام آباد-دمام)، PK 761 (اسلام آباد-جدہ) – یہ متبادل ذرائع سے روانہ ہوئیں، مگر تاخیر 4-6 گھنٹے کی ہوئی۔
- مجموعی نقصان: ہزاروں مسافرین کراچی، لاہور اور اسلام آباد ایئرپورٹس پر پھنسے، جہاں ری شیڈولنگ اور رفنڈ کے لیے لمبی قطاریں لگ گئیں۔
پی آئی اے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے بتایا کہ انتظامیہ نے دوسری ایئر لائنز سے متبادل انجینیئرنگ خدمات حاصل کی ہیں، اور منگل تک آپریشنز جزوی طور پر بحال ہو گئے۔ "ہم مسافروں کی سہولت کو ترجیح دے رہے ہیں، اور تمام پروازیں جلد معمول پر آ جائیں گی۔” تاہم، SAEP کا کہنا ہے کہ یہ عارضی حل ہے، اور سیفٹی مسائل حل نہ ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔
انتظامیہ کا موقف: سازش اور قانونی کارروائی کا اعلان
پی آئی اے انتظامیہ نے SAEP کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ "یہ تحریک نجکاری کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، جو IMF کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام کا حصہ ہے۔ سیفٹی کا بہانہ بنا کر کام چھوڑنا مسافروں کو پریشان کرنے کا منصوبہ ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایسنشل سروسز (مینٹیننس) ایکٹ 1952 کے تحت ہڑتال جرم ہے، اور ملوث افراد کے خلاف سخت ڈسپلنری اور قانونی کارروائی کی جائے گی۔ CAA بھی اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے، اور انجینیئرز پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
نجکاری کا پس منظر: کیا یہ تنازع اسے روک رہا ہے؟
پی آئی اے کی نجکاری دسمبر 2025 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے، جو مالی بحران سے نکلنے کا اہم قدم ہے۔ حال ہی میں ایئرلائن نے پہلی ششماہی میں 11.5 ارب روپے کا منافع کا اعلان کیا تھا، اور برطانیہ سمیت یورپی روٹس بحال ہوئے۔ مگر یہ احتجاج نجکاری کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پرائیویٹائزیشن کے لیے شفاف عمل ضروری ہے، ورنہ مزید تنازعات جنم لیں گے۔
انجینیئرز کی اہمیت: ایک نظر میں
ایئرکرافٹ انجینیئرز کی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے لیے یہاں ایک سادہ گائیڈ:
- لائسنسنگ: CAA سے لائسنس حاصل کرنا، جو عالمی معیار پر مبنی ہے۔
- چیکنگ: لینڈنگ کے بعد پائلٹ کی رپورٹس پر خرابیوں کی مرمت۔
- کلیئرنس: ٹیک آف سے پہلے فیول، انجن اور فٹنس کی توثیق۔
- سیفٹی: پرواز کے دوران کسی بھی خرابی کی قانونی ذمہ داری۔
یہ عمل نہ صرف پی آئی اے بلکہ تمام ایئر لائنز میں لازمی ہے، اور CAA کے ANO-145 ضابطوں کی خلاف ورزی جرمانے کا باعث بن سکتی ہے۔
متاثرین کے لیے اقدامات: مسافروں کی رہنمائی
اگر آپ پی آئی اے کا ٹکٹ ہولڈر ہیں تو یہ کریں:
- ری شیڈولنگ: PIA کی ویب سائٹ یا ایپ پر چیک کریں، یا ہیلپ لائن 111-786-786 پر رابطہ کریں۔
- رفنڈ: منسوخ پروازوں کے لیے 7 دن میں درخواست دیں۔
- متبادل: دیگر ایئر لائنز جیسے ایئر بلُو یا سرِ سبز سے ٹکٹ بک کریں، مگر اضافی خرچے کا خطرہ ہے۔
- تازہ اپ ڈیٹس: CAA کی آفیشل سائٹ چیک کریں تاکہ نئی ہدایات ملیں۔
یہ اقدامات آپ کی پریشانی کم کر سکتے ہیں، مگر تنازع حل ہونے تک احتیاط برتیں۔