گٹر پر ڈھکن لگتے ہیں مگر نشہ کرنے والے اٹھا لیتے ہیں: سندھ حکومت

Person

ترجمان سندھ حکومت اور مشیر بلدیات نادر نبیل گبول نے جیو نیوز کے مارننگ شو "جیو پاکستان” میں کراچی کے سنگین سیوریج مسائل پر کھل کر بات کی۔ نیپا چورنگی پر کھلے مین ہول میں بچے کی موت کے واقعے سمیت شہر بھر میں گٹر ڈھکنوں کی چوری اور نشاندہی کے مسائل زیرِ بحث آئے۔

نادر گبول کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت مسلسل گٹر اور مین ہول پر ڈھکن لگوا رہی ہے لیکن نشہ کرنے والے افراد رات کے اندھیرے میں انہیں اٹھا کر بیچ دیتے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ان معاملات کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ مل بیٹھیں اور مشترکہ حل نکالیں۔

اہم نکات – نادر نبیل گبول کے بیانات

  • گٹر کے ڈھکن چوری کی بڑی وجہ نشہ کرنے والوں کی طرف سے فروخت
  • نیپا واقعے میں غفلت ثابت ہوئی تو متعلقہ افسران کو کڑی سزا دی جائے گی
  • تمام "سوک ایشوز” کے لیے ون ونڈو آپریشن کا پلان تیار
  • ٹاؤن انتظامیہ کو لوکل ٹیکس جمع کرنے کے مکمل اختیارات
  • سوئی سدرن گیس کمپنی نے لیاری ٹاؤن کو روڈ کٹنگ کے 1.5 ارب روپے دیے
  • گلشنِ اقبال ٹاؤن (جہاں جماعت اسلامی کا چیئرمین ہے) کو بھی اربوں روپے ملے

جماعت اسلامی کراچی کا موقف

پروگرام میں موجود امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے سندھ حکومت کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے مسائل کی اصل وجہ صوبائی حکومت اور کے ایم سی کی نااہلی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گلشن اقبال نیپا کے قریب مین ہول میں گرنے والا 3 سالہ بچہ، لاش 14 گھنٹے بعد برآمد

منعم ظفر کے اہم بیانات:

  • نیپا چورنگی والی سڑک تین سال سے کھدائی کی حالت میں ہے، بی آر ٹی کا کام تاحال نامکمل
  • جماعت اسلامی نے اپنے وسائل سے 30 ہزار مین ہول کور بنوا کر لگوائے
  • حادثے کے بعد 15 گھنٹے تک بچے کی لاش نہ نکال سکی، لوگوں سے چندہ جمع کر شاول اور ڈیزل کا بندوبست کیا
  • مرتضیٰ وہاب سمیت کوئی افسر رات کو موقع پر نہ پہنچا
  • 18ویں ترمیم کے باوجود ٹاؤن کو ڈیویلپمنٹ فنڈز نہیں دیے جاتے
  • گلشن ٹاؤن میں سوئی سدرن کا ایک ماہ پہلے شروع کام، ابھی تک پیسے نہیں ملے
  • جماعت اسلامی نے اپنے ٹاؤنز میں 600 گلیوں کا کام شروع کیا، 300 میں پختہ کاری مکمل

کراچی میں گٹر ڈھکن چوری کا بڑھتا مسئلہ

کراچی میں ہر ماہ سینکڑوں مین ہول کور چوری ہو رہے ہیں۔ نشہ کرنے والے افراد انہیں لوہے کے ریٹ پر بیچ دیتے ہیں۔ شہر بھر میں کھلے مین ہولز کی وجہ سے گزشتہ چند سالوں میں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ: رہائشی عمارتوں میں ہولناک آتشزدگی، ہلاکتوں کی تعداد 151 ہوگئی

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

س: گٹر ڈھکن چوری کیوں ہوتی ہے؟

ج: زیادہ تر نشہ کرنے والے افراد رات کو ڈھکن اٹھا کر سکریپ ڈیلرز کو بیچ دیتے ہیں۔

س: ٹاؤن انتظامیہ کی ذمہ داری کیا ہے؟

ج: ٹاؤن کو مین ہول کور لگانے اور دیکھ بھال کی ذمہ داری دی گئی ہے، لیکن فنڈز کی کمی اور چوری کی وجہ سے مسائل برقرار ہیں۔

س: سندھ حکومت کیا اقدامات کر رہی ہے؟

ج: نادر گبول کے مطابق ڈھکن لگائے جا رہے ہیں، ون ونڈو آپریشن شروع کیا جا رہا ہے اور ٹاؤنز کو بااختیار بنایا گیا ہے۔

آپ کے خیال میں کراچی کے گٹر ڈھکنوں کے مسئلے کا مستقل حل کیا ہو سکتا ہے؟ کمنٹ میں ضرور بتائے۔

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تاکہ کراچی اور سندھ کی تازہ ترین خبروں کی نوٹیفکیشن براہ راست آپ کے موبائل پر پہنچے۔ ابھی جوائن کریں: [واٹس ایپ چینل لنک]

Disclaimer: All information is based on public statements and media reports. Readers are advised to verify details independently.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے