کراچی کو Privatize کردیں، ہم سب مل کر خرید لیں گے اور بہت اچھا چلائیں گے: تابش ہاشمی

تابش ہاشمی

پاکستان کے معروف ٹی وی میزبان، کامیڈین اور سیاسی تجزیہ کار تابش ہاشمی نے جیو نیوز کے مشہور پروگرام "رپورٹ کارڈ” میں کراچی کے المناک سانحہ گل پلازہ پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے شہر کی گورننس کی مسلسل ناکامیوں پر کھل کر تنقید کی اور ایک طنزیہ مگر فکر انگیز انداز میں کراچی کی نجکاری کی تجویز پیش کی، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی۔

یہ بیان 20 جنوری 2026 کو نشر ہونے والے پروگرام میں سامنے آیا، جب کراچی کا مشہور تجارتی مرکز گل پلازہ شدید آگ کی لپیٹ میں آ کر تباہ ہو چکا تھا۔ تابش ہاشمی کی یہ بات چیت نہ صرف سانحہ کے متاثرین کے درد کی ترجمانی کرتی ہے بلکہ کراچی کے طویل المدتی مسائل کی طرف بھی توجہ مبذول کرواتی ہے۔

سانحہ گل پلازہ: ایک دلخراش المیہ

کراچی کے مصروف تجارتی علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ 1980 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا ایک کثیر المنزلہ شاپنگ کمپلیکس تھا، جس میں 1200 سے زائد دکانیں تھیں۔ 17 جنوری 2026 کی رات تقریباً ساڑھے دس بجے کے قریب آگ لگی، جو تیزی سے پھیل گئی اور چند منٹوں میں پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق آگ پچھلے حصے سے شروع ہوئی اور اگلے حصے تک پہنچنے میں صرف 11 منٹ لگے۔

تازہ ترین رپورٹس کے مطابق اس سانحے میں جاں بحق افراد کی تعداد 60 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ ریسکیو آپریشن چھٹے روز بھی جاری ہے، جہاں میزنائن فلور سے متعدد لاشیں برآمد ہوئیں۔ آگ پر 33 سے 36 گھنٹوں بعد مکمل قابو پایا گیا، لیکن عمارت کا بڑا حصہ منہدم ہو چکا ہے۔ ایک ہی دکان سے کئی لاشیں ملنے کی اطلاعات نے سانحے کی شدت کو مزید واضح کر دیا۔

یہ آگ شارٹ سرکٹ سے شروع ہوئی، لیکن اس کی تیزی سے پھیلنے کی وجہ عمارت میں موجود ہائی فلیم ایبل مواد، غیر قانونی تعمیرات اور ایمرجنسی راستوں کی بندش تھی۔ نقشے کے مطابق پارکنگ ایریا اور خارجی راستوں پر 179 سے زائد دکانیں خلاف ضابطہ بنائی گئی تھیں، جو آگ کے وقت انخلا کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔

تابش ہاشمی کا جذباتی اور طنزیہ بیان

تابش ہاشمی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے گل پلازہ کی جذباتی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جہاں گل پلازہ سے خریدی گئی کوئی چیز موجود نہ ہو۔ بچپن سے جوانی اور اب پختگی کی عمر میں شہر کی یہ ایسوسی ایشنز ایک ایک کر کے ختم ہو رہی ہیں، جو کراچی کی شناخت کو کمزور کر رہی ہیں۔

انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ داری قبول کرنا آسان ہے، لیکن عمل کی ضرورت ہے۔ کراچی میں یہ پہلا سانحہ نہیں؛ ماضی میں متعدد آتشزدگیاں، حادثات اور دیگر مسائل پیش آ چکے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر وزیر اعلیٰ جوابدہ ہیں تو کیا ان کا عہدہ گیا؟ کیا تنخواہ کٹی گئی؟ اور متاثرین کو معاوضہ ٹیکس دہندگان کے پیسے سے دیا جاتا ہے، نہ کہ ذمہ داروں کی جیب سے۔

سب سے زیادہ توجہ ان کی طنزیہ تجویز نے کھینچی: جیسے حکومت نے محسوس کیا کہ پی آئی اے ان سے نہیں چل رہی تو اسے پرائیوٹائز کر دیا، اسی طرح کراچی کو بھی پرائیوٹائز کر دیں۔ کراچی کے تمام کمیونٹیز – پٹھان، بلوچ، سندھی، مہاجر، پنجابی – سب مل کر شہر خرید لیں گے اور موجودہ حکومت سے تو بہتر چلا ہی لیں گے۔ یہ بیان کراچی کی گورننس کی ناکامی پر ایک زوردار طنز ہے، جو شہریوں کے غم و غصے کی عکاسی کرتا ہے۔

کراچی میں آتشزدگی کے واقعات: ایک مستقل مسئلہ

کراچی پاکستان کی معاشی شاہ رگ ہے، لیکن سیفٹی اور گورننس کے مسائل اسے مسلسل بحران کا شکار بنائے ہوئے ہیں۔ سال 2025 میں شہر میں آتشزدگی کے 2500 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں متعدد جانی اور مالی نقصانات ہوئے۔ شہر میں صرف 29 فائر اسٹیشنز ہیں، جو ساڑھے تین کروڑ آبادی کے لیے ناکافی ہیں۔ فائر ٹینڈرز اور دیگر وسائل کی کمی ریسکیو آپریشنز کو متاثر کرتی ہے۔

گل پلازہ سے پہلے بھی ریجنٹ پلازہ، آر جے مال، ملینیم مال اور متعدد فیکٹریوں میں مشابه سانحات پیش آ چکے ہیں۔ ہر بار تحقیقات ہوتی ہیں، کمیٹیاں بنتی ہیں، لیکن عملی اقدامات نہیں ہوتے۔ غیر قانونی تعمیرات، فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی اور نگرانی کی کمی یہ مسائل دہراتی رہتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک متحد اتھارٹی کی عدم موجودگی اور سیاسی مداخلت گورننس کو کمزور کر رہی ہے۔

کراچی کی گورننس: ناکامیوں کا سلسلہ

تابش ہاشمی کا بیان کراچی کے وسیع تر مسائل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شہر میں صفائی، سیکیورٹی، لائٹنگ، سیوریج اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے۔ دیگر عالمی شہروں کے مقابلے میں کراچی کے چھوٹے مسائل بڑے بحران بن جاتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی ہیں، وعدے کرتی ہیں، لیکن جوابدہی کا فقدان رہتا ہے۔

سانحہ گل پلازہ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ کاغذی انسپیکشنز اور ریگولائزیشنز انسانی جانوں سے کھیلتی ہیں۔ تاجر برادری نے مالی امداد، شفاف تحقیقات اور متاثرین کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ پنجاب حکومت نے بھی اس سانحے کے بعد اپنی عمارتوں کی سیفٹی چیک کرنے کا فیصلہ کیا، جو کراچی کے لیے ایک سبق ہے۔

کیا کراچی کو نئی گورننس کی ضرورت ہے؟

تابش ہاشمی کی تجویز اگرچہ طنزیہ ہے، لیکن یہ شہریوں کے دل کی آواز ہے۔ کراچی کے متنوع کمیونٹیز مل کر شہر کو بہتر بنا سکتی ہیں، اگر انہیں موقع دیا جائے۔ ایک متحد، غیر سیاسی اتھارٹی شہر کے مسائل حل کر سکتی ہے۔ فائر سیفٹی قوانین پر سختی، بلڈنگ کوڈز کی پابندی اور جوابدہی کا نظام ناگزیر ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سانحہ گل پلازہ میں ہلاکتوں کی تازہ تعداد کتنی ہے؟

تازہ رپورٹس کے مطابق 60 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، ریسکیو جاری ہے۔

آگ کیسے لگی اور اتنی تیزی سے کیوں پھیلی؟

ابتدائی طور پر شارٹ سرکٹ کا شبہ، لیکن غیر قانونی دکانیں، بند راستے اور flammable مواد نے آگ کو تیزی سے پھیلایا۔

گل پلازہ میں کتنی دکانیں تھیں اور نقصان کتنا ہوا؟

1200 سے زائد دکانیں، اربوں روپے کا مالی نقصان، ہزاروں افراد بے روزگار۔

کراچی میں آگ کے واقعات کیوں بار بار ہوتے ہیں؟

فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی، ناکافی فائر اسٹیشنز، وسائل کی کمی اور نگرانی کا فقدان۔

تابش ہاشمی کی نجکاری تجویز کا مطلب کیا ہے؟

یہ حکومت کی ناکامی پر طنز ہے، تجویز کرتے ہوئے کہ شہری خود شہر بہتر چلا سکتے ہیں۔

متاثرین کی امداد کے لیے کیا ہو رہا ہے؟

سندھ حکومت نے تحقیقات اور امداد کا اعلان کیا ہے، تاجر مالی پیکج مانگ رہے ہیں۔

آپ کی رائے کیا ہے؟

سانحہ گل پلازہ اور تابش ہاشمی کا بیان کراچی کے مسائل پر ایک سنگین بحث چھیڑ گیا ہے۔ کیا شہر کو واقعی پرائیوٹائز یا نئی گورننس کی ضرورت ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور شیئر کریں، آرٹیکل کو دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور مزید تازہ خبروں کے لیے ہمارے WhatsApp چینل کو جوائن کریں۔ بائیں طرف floating WhatsApp بٹن پر کلک کریں، نوٹیفیکیشنز آن کریں اور بروقت اپ ڈیٹس حاصل کریں!

Disclaimer: All discussed information is based on public reports; please verify before taking any steps.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے