پاک فوج کے ترجمان ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 5 دسمبر 2025 کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو کھل کر "ذہنی مریض” قرار دے دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوج پاکستان کی سیاسی قیادت کا احترام کرتی ہے مگر کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ فوج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالے یا عوام کو فوج کے خلاف بھڑکائے۔ یہ بیان ملک کی سیاسی تاریخ میں ایک نہایت غیر معمولی اور سخت لہجے ک
ڈی جی آئی ایس پی آر کے اہم نکات
- "تم ہو کون؟ کس کی زبان بول رہے ہو؟ تم سمجھتے کیا ہو اپنے آپ کو؟”
- "ذہنی مرض کی بیماری کی علامات آپ نے پہلے بھی دیکھی تھیں”
- "9 مئی کو اس نے جی ایچ کیو پر حملہ نہیں کروایا تھا؟”
- "یہ سمجھتا ہے پاک فوج میں جو بندہ ہے وہ غدار ہے”
- "بھارت حملہ کرتا تو یہ کشکول لے کر بات چیت کرتا”
- "یہ ایک ٹیرر کرائم نیکسس ہے، منشیات، این سی پی، اغوا برائے تاوان میں ملوث ہے”
- "اس کی سیاست یا اس کی ذات ریاست سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی”
پریس کانفرنس کا پس منظر
یہ بیان عمران خان کے حالیہ بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس کے ردعمل میں دیا گیا، جن میں فوج کی قیادت پر تنقید اور بعض واقعات کو غلط رنگ دیا جا رہا تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب بھی کوئی عمران خان سے ملتا ہے تو وہ ریاست اور فوج کے خلاف بیانیہ دیتا ہے۔
پی ٹی آئی کا فوری ردعمل
- بیرسٹر گوہر: "اداروں اور سیاسی قیادت کا ایک دوسرے کو ذہنی مریض کہنا افسوسناک ہے”
- پی ٹی آئی نے سوشل میڈیا پر #ذہنی_مریض_نامنظور ٹرینڈ کیا
- پارٹی نے کہا کہ فوج کو سیاست میں نہیں گھسیٹنا چاہیے
سوشل میڈیا پر طوفان
- چند گھنٹوں میں #DGISPR اور #ذہنی_مریض ٹاپ ٹرینڈز بن گئے
- کچھ صارفین نے فوج کی حمایت کی، کچھ نے شدید تنقید
- "یہ تاریخ کا سب سے سخت بیان ہے” جیسے تبصرے عام ہو گئے
یہ بھی پڑھیں: فیصل واوڈا کا سخت پیغام: ریاست نے جواب دے دیا، اب انچ بھر بھی برداشت نہیں ہوگا
سیاسی اثرات
- اداروں اور پی ٹی آئی کے درمیان تناؤ عروج پر پہنچ گیا
- مذاکرات کی تمام راہیں مزید بند ہو گئیں
- عوامی سطح پر پولرائزیشن میں اضافہ
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
ڈی جی آئی ایس پی آر نے عمران خان کو ذہنی مریض کیوں کہا؟
9 مئی، فوج مخالف بیانیہ اور دشمن ملک پروپیگنڈے کی وجہ سے۔
کیا فوج نے پہلے کبھی کسی سیاستدان کو ذہنی مریض کہا؟
نہیں، یہ پہلا موقع ہے۔
پی ٹی آئی کا اگلا قدم کیا ہوگا؟
پارٹی نے شدید ردعمل اور قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
کیا یہ بیان سیاسی ڈیڈلاک ختم کرے گا؟
ماہرین کے مطابق تناؤ مزید بڑھے گا۔
نتیجہ
ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا باب کھولتا ہے۔ فوج نے پہلی بار اتنا کھل کر اور سخت لہجے میں کسی سابق وزیراعظم کو ذہنی مریض قرار دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیان سیاسی کشیدگی کو کم کرے گا یا مزید بڑھا دے گا؟ ایک بات واضح ہے کہ فوج اور عمران خان کے درمیان خلیج اب ناقابل تلافی حد تک پہنچ چکی ہے۔
کال ٹو ایکشن: آپ اس بیان کو کیسا سمجھتے ہیں؟ کیا فوج کو اس طرح بیان دینا چاہیے تھا؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں اور آرٹیکل شیئر کریں! تازہ ترین سیاسی اپ ڈیٹس اور بریکنگ نیوز فوراً حاصل کرنے کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں — بائیں طرف فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن آن کریں۔ بالکل مفت!
ڈس کلیمر: This information is based on public reports. Verify before taking any actions.