پی ٹی آئی نے تاحال آئینی عدالت کے بائیکاٹ کا فیصلہ نہیں کیا: سلمان اکرم راجا

سلمان اکرم راجا

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے وفاقی آئینی عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پارٹی کے عدالتی بائیکاٹ سے متعلق اہم بیان دیا ہے۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی نے آئینی عدالت کے بائیکاٹ کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا بلکہ پارٹی سطح پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔ یہ بیان 25 نومبر 2025 کو سامنے آیا، جو سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے۔

سلمان اکرم راجا نے واضح کیا کہ عدالت اب قائم ہو چکی ہے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی قید تنہائی کے حوالے سے درخواست بھی اس میں دائر کی جانی ہے۔ انہوں نے کہا، "اگر ایک عدالت کو ہم نہیں مانتے تو اس میں پیش ہونا ہے یا نہیں، یہ فیصلہ کرنا ہے لیکن تاحال فیصلہ نہیں ہوا۔” یہ بیان پی ٹی آئی کا آئینی عدالت سے متعلق مؤقف واضح کرتا ہے، جو پارٹی کی قانونی حکمت عملی کا حصہ بن سکتا ہے۔

27ویں آئینی ترمیم کا پس منظر

حال ہی میں منظور ہونے والی 27ویں آئینی ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کا قیام عمل میں آیا ہے۔ اس ترمیم کی اہم تفصیلات درج ذیل ہیں:

  • عدالت کا دائرہ کار: یہ عدالت صرف آئینی مقدمات پر سماعت کرے گی، جیسے انتخابی دھاندلی، آئینی حقوق کی خلاف ورزیاں اور وفاقی تنازعات۔
  • پہلے چیف جسٹس: امین الدین خان کو اس عہدے پر تعینات کیا گیا ہے، جو سپریم کورٹ کے سابق جج ہیں۔
  • پی ٹی آئی کی مخالفت: پارٹی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اس ترمیم کی ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا تھا، کیونکہ ان کا موقف تھا کہ یہ آئین کی روح کے خلاف ہے اور عدالتی نظام کو کمزور کرے گی۔

یہ ترمیم 2025 میں منظور ہوئی، جس کے نتیجے میں کئی مقدمات، بشمول عمران خان سے ملاقاتوں اور انتخابی دھاندلی کی درخواستوں کو، سپریم کورٹ سے منتقل کر دیا گیا ہے۔

سلمان اکرم راجا بیان: کلیدی نکات

سلمان اکرم راجا کا بیان پی ٹی آئی عدالت فیصلہ خبریں کے تناظر میں اہم ہے۔ ان کے بیان کی تفصیلات یہ ہیں:

  • مشاورت کا عمل: پارٹی لیڈرشپ میں وسیع غور و فکر جاری ہے، جو قانونی ماہرین کی رائے پر مبنی ہوگا۔
  • عمران خان کی درخواست: قید تنہائی کے خلاف درخواست آئینی عدالت میں دائر کرنے کا امکان ہے، جو پارٹی کی حکمت عملی کو متاثر کرے گا۔
  • عدالتی بائیکاٹ کی نوعیت: اگر بائیکاٹ کا فیصلہ ہوا تو یہ صرف مخصوص مقدمات تک محدود ہو سکتا ہے، جیسا کہ پارٹی نے پہلے پارلیمانی ووٹنگ میں کیا۔

یہ بیان سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، پی ٹی آئی کی قانونی لڑائی کو نئی سمت دے سکتا ہے، خاص طور پر جب کہ آج 25 نومبر کو دھاندلی الزامات پر لارجر بنچ سماعت کر رہا ہے۔

پی ٹی آئی کا عدالتی بائیکاٹ: ممکنہ اثرات

پی ٹی آئی آئینی عدالت بائیکاٹ کا فیصلہ پارٹی کی سیاسی اور قانونی پوزیشن کو متاثر کر سکتا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق:

  • حالیہ سماعتیں: وفاقی آئینی عدالت نے پی ٹی آئی کی دھاندلی درخواست کو 25 نومبر کے لیے مقرر کیا ہے، جس کی سربراہی جسٹس عامر فاروق کریں گے۔
  • قانونی چیلنجز: بائیکاٹ سے عمران خان کی ملاقاتوں اور قید تنہائی کیسز متاثر ہو سکتے ہیں، جو پارٹی کے 70% سے زائد کارکنوں کی رائے کے مطابق (ایک حالیہ سروے سے) اہم ہیں۔
  • سیاسی اثرات: یہ اقدام حکومت کی آئینی ترمیموں کی مخالفت کو مزید اجاگر کرے گا، جو 2025 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی مہم کا حصہ بن سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : بھارتی آبی جارحیت سے نمٹنے کیلئے دریائے چناب پر چنیوٹ میں ڈیم بنانے کا اہم فیصلہ

یہ فیصلہ پارٹی کی اندرونی مشاورت پر منحصر ہے، جو اگلے چند دنوں میں واضح ہو سکتا ہے۔

سوالات اور جوابات (FAQs)

آئینی عدالت کیا ہے؟

یہ 27ویں ترمیم کے تحت قائم کی گئی ایک وفاقی عدالت ہے جو آئینی معاملات کی سماعت کرتی ہے۔

پی ٹی آئی کیوں مخالف ہے؟

پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم عدالتی آزادی کو کمزور کرتی ہے اور سیاسی مداخلت بڑھاتی ہے۔

بائیکاٹ کا کیا مطلب ہے؟

اس سے مراد مقدمات میں پیش نہ ہونا، جو قانونی حقوق کو چیلنج کر سکتا ہے۔

اگلا قدم کیا ہوگا؟

سلمان اکرم راجا کے مطابق، پارٹی مشاورت کے بعد فیصلہ کرے گی۔

مصروفیت بڑھائیں: ایک پول

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو آئینی عدالت کا بائیکاٹ کرنا چاہیے؟

  • ہاں، یہ آئینی حقوق کی حفاظت ہے۔
  • نہیں، قانونی لڑائی جاری رکھنی چاہیے۔ (اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں اور پول میں ووٹ دیں!)

کال ٹو ایکشن

اس اہم سیاسی پیش رفت پر اپنی رائے کا اظہار کریں! کمنٹس میں بتائیں کہ پی ٹی آئی کا اگلا فیصلہ کیا ہونا چاہیے۔ آرٹیکل شیئر کریں اور تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں – نوٹیفکیشن پاپ اپ کھلے گا جو آپ کو فوری اپ ڈیٹس دے گا۔ ابھی جوائن کریں اور سیاسی تبدیلیوں سے جڑے رہیں!

Disclaimer: This information is based on public reports regarding political figures and parties. Please verify all details before taking any actions.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے