اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر شبلی فراز کو 28 فروری 2025 کو جوڈیشل کمپلیکس پر حملے سے متعلق دو مقدمات میں اشتہاری قرار دے دیا۔ عدالت کا یہ فیصلہ شبلی فراز کی مسلسل عدم حاضری کی بنیاد پر سامنے آیا۔
جج طاہر عباس سپرا نے کیس کی سماعت کی۔ تھانہ رمنا میں درج ان دونوں مقدمات میں شبلی فراز سمیت متعدد پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے نام شامل ہیں۔ عدالت نے شبلی فراز کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے بعد اشتہاری قرار دینے کی کارروائی مکمل کی۔
عدالت میں کیا ہوا؟
- سماعت کے دوران سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت سمیت کئی ملزمان عدالت میں پیش ہوئے
- پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم میں ایڈووکیٹ سردار محمد مصروف خان اور زاہد بشیر ڈار موجود تھے
- پیش ہونے والے ملزمان کی حاضری مکمل ہونے کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کر دی
- شبلی فراز کی جانب سے کوئی وکیل بھی پیش نہ ہوا
شبلی فراز کو اشتہاری کیوں قرار دیا گیا؟
عدالت کے مطابق شبلی فراز متعدد بار طلب کیے جانے کے باوجود پیش نہیں ہوئے۔ مسلسل عدم حاضری اور وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے عدالت نے قانونی طور پر انہیں اشتہاری قرار دینے کا حکم دیا۔ یہ کارروائی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 87 اور 88 کے تحت کی گئی۔
مقدمات کی نوعیت
دونوں مقدمات 28 فروری 2025 کو اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس پر مبینہ حملے، توڑ پھوڑ، اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہیں۔ ان مقدمات میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی تھیں۔
پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف جاری قانونی کارروائیاں
پی ٹی آئی کے متعدد سینئر رہنماؤں کے خلاف اسی نوعیت کے کیسز زیر سماعت ہیں۔ شبلی فراز کے علاوہ عمر ایوب، علی محمد خان، شفقت محمود سمیت کئی رہنما بھی مختلف عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں یا ان کے وارنٹ جاری ہو چکے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اشتہاری قرار دیے جانے کا مطلب کیا ہے؟
اشتہاری قرار دیے جانے کا مطلب ہے کہ ملزم کو عدالت کی طرف سے بار بار طلب کرنے کے باوجود پیش نہ ہونے پر اس کا نام اشتہاریوں کی فہرست میں شامل کر دیا جاتا ہے اور اس کی جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے۔
کیا شبلی فراز گرفتاری سے بچ سکتے ہیں؟
اگر وہ عدالت میں پیش ہو کر ضمانت کروا لیں تو اشتہاری کا حکم واپس لیا جا سکتا ہے۔
یہ مقدمات کب سے چل رہے ہیں؟
یہ مقدمات فروری 2025 کے واقعات کے فوراً بعد درج کیے گئے تھے۔
کیا یہ سیاسی انتقام ہے؟
پی ٹی آئی اسے سیاسی انتقام قرار دے رہی ہے جبکہ حکومتی حلقے اسے قانون کی بالادستی قرار دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان آغا نے ڈریوڈ، محمد یوسف اور دھونی کا ریکارڈ پاش پاش کردیا: تاریخی کارکردگی
آپ کی رائے کیا ہے؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ شبلی فراز کے خلاف کارروائی سیاسی ہے یا خالصتاً قانونی؟ نیچے کمنٹس میں ضرور بتائیں، اپنی رائے شیئر کریں اور مضمون کو دوسروں تک پہنچائیں۔ تازہ ترین سیاسی اور عدالتی اپ ڈیٹس فوراً حاصل کرنے کے لیے ابھی ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں – بائیں طرف موجود گرین واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن آن کر لیں!
Disclaimer: All information in this article is based on publicly reported news and court proceedings. Readers are advised to verify details from official sources before taking any action.