پولیس نے گاڑی سے اتار کر تھپڑ مارے، ابراہیم کی لاش نکالنے والے خاکروب کا انکشاف

Ibrahim

کراچی کے علاقے گلشن اقبال نیپا چورنگی پر 1 دسمبر 2025 کی رات تقریباً 11 بجکر 20 منٹ پر تین سالہ بچہ ابراہیم کھلے مین ہول میں گر گیا تھا۔ ریسکیو آپریشن رات بھر جاری رہا لیکن ناکام رہا۔ اگلے دن دوپہر قریب ڈھائی بجے ایک نوجوان خاکروب نے نالے سے ڈیڑھ کلومیٹر دور بچے کی لاش برآمد کی۔

خاکروب کا دل دہلا دینے والا بیان

نوجوان خاکروب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: “میں نے بچے کو ڈھونڈ کر ایک انکل کو دیا۔ پولیس والوں نے پوچھا ‘تم کون ہو؟’ میں نے بتایا کہ میں نے ڈھونڈا ہے۔ انہوں نے مجھے گاڑی سے اتارا اور تھپڑ مارے۔”

یہ بھی پڑھیں: کراچی: گزشتہ روز سے لاپتا بن قاسم تھانے کا سب انسپکٹر منظر عام پر آگیا، تشدد اور اغوا کا الزام

علاقہ یونین کونسل کے چیئرمین نے بھی تصدیق کی کہ خاکروب ہی وہ شخص تھا جس نے 14 گھنٹے کی مسلسل کوشش کے بعد ابراہیم کی لاش نکالی اور گھر والوں کے حوالے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی کے اہلکاروں کو اپنی ہی لائنوں کا علم نہیں تھا۔

پولیس کی غیر قانونی کارروائی پر سوالات

  • واقعے کے فوراً بعد پولیس نے خاکروب کو ہیرو سمجھنے کی بجائے تشدد کا نشانہ بنایا
  • گاڑی سے اتار کر تھپڑ مارنے کا واقعہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی محفوظ ہونے کا امکان
  • شہریوں نے سوشل میڈیا پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور #JusticeForIbrahim اور #PoliceBrutality ٹرینڈ کرایا

ابراہیم کی موت کی اصل وجوہات

  • کھلا مین ہول – کراچی واٹر اینڈ سینی ٹیشن بورڈ کی غفلت
  • رات کو ریسکیو آپریشن معطل کرنا
  • نالے کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے لاش کا بہہ جانا
  • شہریوں کو خود ہیوی مشینری لاکر کھدائی کرنا پڑی

یہ بھی پڑھیں: گٹر پر ڈھکن لگتے ہیں مگر نشہ کرنے والے اٹھا لیتے ہیں: سندھ حکومت

عوام کا ردعمل اور سوشل میڈیا

سوشل میڈیا پر ابراہیم کیس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ:

  • ایک طرف بچے کی لاش نکالنے والے غریب خاکروب کو تھپڑ پڑ رہے ہیں
  • دوسری طرف ذمہ دار افسران خاموش بیٹھے ہیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال: ابراہیم کی لاش کتنی دیر بعد ملی؟

جواب: 14 گھنٹے بعد، دوپہر قریب 2:30 بجے۔

سوال: خاکروب کا نام کیا ہے؟

جواب: ابھی تک میڈیا نے اس کا نام ظاہر نہیں کیا، وہ خود کو صرف “خاکروب” کہہ رہا ہے۔

سوال: کیا پولیس نے تشدد کی تردید کی؟

جواب: تاحال پولیس کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

سوال: کیا کوئی ایف آئی آر درج ہوئی؟

جواب: اب تک خاکروب یا اہلخانہ کی طرف سے تشدد کی ایف آئی آر درج نہیں کرائی گئی۔

آپ کیا سوچتے ہیں؟

کیا ایک غریب خاکروب کو بچے کی لاش نکالنے پر انعام ملنا چاہیے یا تھپڑ؟ نیچے کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تاکہ کراچی اور پاکستان کی ہر تازہ خبر فوراً آپ کے فون پر پہنچے بائیں طرف موجود واٹس ایپ آئیکن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن آن کر لیں – بالکل مفت!

Disclaimer: All information is based on publicly available reports and statements. Please verify independently before taking any action.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے