پشاور کے تھانہ مچنی گیٹ کی حدود میں واقع سبزعلی ٹاؤن ایک ایسا علاقہ ہے جہاں گھریلو زندگی کی رونقوں کے ساتھ ساتھ کئی بار ایسے المناک واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں جو معاشرے کی کمزوریوں کو عیاں کرتے ہیں۔ تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، 65 سالہ رمیم بی بی اور ان کی بھتیجی عالیہ دختر گوہرالرحمان گھر میں موجود تھیں جب ملزم گوہرالرحمان اسلحہ سمیت اندر داخل ہوا اور فائرنگ کر دی۔ یہ پشاور افسوسناک واقعہ نہ صرف ایک خاندان کی تباہی کا آئینہ ہے بلکہ پشاور گھریلو تشدد واقعہ کی ایک اور مثال بھی پیش کرتا ہے، جہاں جائیداد کے تنازع نے جانوں کی قیمت ادا کر دی۔
فائرنگ کے فوری بعد دونوں خواتین شدید زخمی ہو گئیں۔ انہیں جلد از جلد قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، مگر رمیم بی بی نے راستے میں ہی دم توڑ دیا۔ دوسری جانب، عالیہ کو بے ہوش حالت میں ایمرجنسی وارڈ میں داخل کر دیا گیا جہاں وہ زیر علاج ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ زخموں کی شدت کی وجہ سے ان کی جان کو خطرہ ہے، جو اس پشاور بیٹی زخمی کیس کی سنگینی کو مزید اجاگر کرتا ہے۔
واقعے کی وجہ: جائیداد تنازع کی تاریک چھاؤں
مدعی وحیدالرحمان کی رپورٹ کے مطابق، ملزم گوہرالرحمان اپنی بیوی سے والدین کی وراثتی جائیداد میں حصہ طلب کر رہا تھا۔ یہ مطالبہ ایک سادہ جھگڑے سے شروع ہوا مگر جلد ہی شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں اسلحہ کا استعمال ہوا۔ شوہر نے بیوی کو قتل کیا جیسے کیسز پاکستان بھر میں عام ہیں، خاص طور پر جہاں وراثت کے قوانین کی پیچیدگیاں خاندانی رشتوں کو مسمار کر دیتی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، 2024 میں پاکستان میں 500 سے زائد اعزازی قتل رپورٹ ہوئے، جن میں سے 30 فیصد جائیداد تنازعات سے جڑے تھے (ہمن رائٹس واچ رپورٹ)۔
یہ بھی پڑھیں : چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر: اگر یہی سلسلہ رہا تو ہم کسی اور لائن کی طرف جانے کا سوچیں گے
یہ پشاور فیملی وائلنس کیس معاشرے کو یہ سبق دیتا ہے کہ مالی تنازعات کو قانونی ذرائع سے حل کیا جائے، نہ کہ تشدد کا سہارا لیا جائے۔ خیبر پختونخوا میں خواتین پر تشدد کے اعداد و شمار دیکھیں تو 2019 تک 4,504 خواتین قتل ہو چکی تھیں (عورت فاؤنڈیشن)، جبکہ 2025 کے پہلے نصف سال میں صرف پنجاب میں روزانہ 24 گھریلو تشدد کیسز درج ہوئے (ایس ایس ڈی او رپورٹ)۔
پولیس کی فوری کارروائی: انصاف کی راہ ہموار
تھانہ مچنی گیٹ پولیس نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی متحرک ہو گئی۔ درج ذیل اقدامات اٹھائے گئے:
- مقدمہ درج: قتل (دفعہ 302) اور اقدامِ قتل (دفعہ 324) کے تحت ایف آئی آر درج۔
- تلاش آپریشن: ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جو اس وقت فراری ہے۔
- شواہد کی جمع آوری: جائے وقوعہ سے خالی کارتریجز اور دیگر نشانیاں محفوظ کی گئیں۔
- طبی امداد: زخمی عالیہ کا تفصیلی معائنہ، جس کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے گی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری قریب ہے، جو اس کیس کی قانونی پیش رفت کو تیز کرے گی۔
پاکستان میں گھریلو تشدد: لرازم خیز اعداد و شمار
یہ واقعہ تنہا نہیں بلکہ ایک وسیع تر مسئلے کا حصہ ہے۔ 2025 میں پاکستان میں 1 لاکھ سے زائد تشدد کے کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 7,500 قتل شامل ہیں (دی ڈیلی جاگرن)۔ پشاور جیسے شہروں میں خواتین پر تشدد کی شرح 20 فیصد تک ہے، جہاں جائیداد اور غیرت کے نام پر قتل عام ہیں۔ مثال کے طور پر، اکتوبر 2025 میں چمکنی میں ایک شوہر نے بیوی اور دو بیٹیوں کو قتل کر کے خودکشی کر لی (آن لائن انڈس نیوز)۔ یہ اعداد و شمار انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس پر مبنی ہیں، جو معاشرتی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
حفاظتی اقدامات: گھریلو تنازعات سے کیسے بچیں؟
گھریلو تشدد روکنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانا ضروری ہے۔ یہاں قدم بہ قدم گائیڈ ہے:
- قانونی مدد حاصل کریں: وراثت تنازعات کے لیے وکلاء یا مقامی کونسل سے رجوع کریں۔ پاکستان میں ‘خواتین تحفظ بل’ کے تحت مفت قانونی امداد دستیاب ہے۔
- سیکیورٹی بڑھائیں: گھروں میں CCTV کیمرے لگائیں اور ایمرجنسی ہیلپ لائن (15) کو سیو کریں۔
- آگاہی سیشنز: خاندانوں میں تنازعات حل کے ورکشاپس کا اہتمام کریں۔
- ریپورٹنگ: کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری پولیس کو اطلاع دیں۔
یہ ٹپس ڈپلومیٹ میگزین کی 2025 رپورٹ سے مستعار ہیں، جو 2,000 گھریلو تشدد کیسز میں 40 فیصد کو روکنے کا دعویٰ کرتی ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
کیا جائیداد تنازعات میں خواتین کا حصہ محفوظ ہے؟
ہاں، اسلامی قانون اور پاکستانی وراثت ایکٹ 1925 کے تحت بیوی کا حصہ یقینی ہے، مگر عدالت سے تصدیق کروائیں۔
گھریلو تشدد کیس کیسے رپورٹ کریں؟
قریبی تھانے یا ہیلپ لائن 1043 پر کال کریں۔
پشاور میں خواتین کے لیے ہیلپ لائنز؟
عورت فاؤنڈیشن ہاٹ لائن: 091-5278000۔
عوامی ردعمل: سوشل میڈیا پر غم و غصہ
سوشل میڈیا پر یہ خبر وائرل ہو گئی، جہاں ہزاروں صارفین نے ملزم کی فوری گرفتاری اور خاندانوں کی حفاظت کا مطالبہ کیا۔ ایک پول چلائیں: "کیا گھریلو تنازعات کے لیے الگ فیملی کورٹس ہونی چاہیئں؟” – اپنے خیالات کمنٹس میں شیئر کریں تاکہ بحث کو مزید گرم کریں۔
کال ٹو ایکشن: آواز اٹھائیں، انصاف دلائیں
یہ خبر شیئر کریں اور سوشل میڈیا پر #پشاور_گھریلو_تشدد ہیش ٹیگ استعمال کریں۔ متاثرہ خاندان کے لیے انصاف کی جدوجہد میں شامل ہوں – کمنٹ کریں کہ آپ کیا تبدیلی چاہتے ہیں۔ مزید اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے WhatsApp چینل کو جوائن کریں! بائیں طرف کا فلوٹنگ WhatsApp بٹن کلک کریں
Disclaimer: The provided information is published through public reports. Confirm all discussed information before taking any steps.