انڈیا امریکہ ایل پی جی ڈیل 2026 | ہردیپ پوری اعلان ٹرمپ کی واپسی سے پہلے انڈیا نے امریکہہ سے 22 لاکھ ٹن ایل پی جی کا پہلا طویل مدتی معاہدہ کر لیا – یہ کل درآمدات کا 10 فیصد ہے۔ تفصیلات اور اثرات جانیں۔
نئی دہلی – وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے 17 نومبر 2025 کو اعلان کیا کہ بھارتی سرکاری آئل کمپنیوں نے امریکہ کے خلیجی ساحل سے 2026 میں 22 لاکھ ٹن سالانہ ایل پی جی درآمد کرنے کا ایک سالہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ یہ مقدار بھارت کی کل سالانہ ایل پی جی درآمدات کا قریباً 10 فیصد ہے اور یہ امریکی ایل پی جی کا بھارتی مارکیٹ کے لیے پہلا باقاعدہ طویل مدتی معاہدہ ہے۔
ہردیپ سنگھ پوری نے اسے "historic first” قرار دیتے ہوئے کہا:
”یہ معاہدہ بھارتی عوام کو محفوظ، سستی اور پائیدار ایل پی جی کی فراہمی کو یقینی بنائے گا۔ ہم اپنی درآمدات کے ذرائع کو متنوع بنا رہے ہیں اور دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ایل پی جی مارکیٹ امریکہ کے لیے کھل رہی ہے۔“
معاہدہ کیوں اب ہوا؟ ٹرمپ عنصر کلیدی ہے
ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری 2026 کو دوبارہ صدر بننے والے ہیں اور وہ پہلے دن سے ہی بھارت پر روسی تیل کی خریداری کی وجہ سے 25-60 فیصد تک اضافی ٹیرف لگانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اس معاہدے کو ماہرین ٹرمپ کو "پیسیفائی” کرنے کی حکمت عملی سے تعبیر کر رہے ہیں۔
یہ قدم دکھاتا ہے کہ مودی حکومت توانائی کی حفاظت کو تجارتی تعلقات پر فوقیت دے رہی ہے، لیکن ساتھ ہی واشنگٹن کو یہ پیغام بھی دے رہی ہے کہ بھارت اپنے مفادات کا خیال رکھنا جانتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:شیخ حسینہ کو سزائے موت، بھارت کا ردعمل
کلیدی اعداد و شمار ایک نظر میں
- معاہدے کی مقدار → 22 لاکھ ٹن سالانہ (2026)
- کل درآمدات میں حصہ → تقریباً 10%
- معاہدے کی مدت → ایک سال (2026)، توسیع متوقع
- ذرائع → امریکی خلیجی ساحل
- موجودہ کل درآمدات → تقریباً 220 لاکھ ٹن سالانہ (2024-25 کا تخمینہ)
یہ ڈیل بھارتی گھروں تک کیسے پہنچے گی؟
یہ امریکی ایل پی جی زیادہ تر پرادھان منتری اجولا یوجنا کے مستحقین اور عام صارفین تک پہنچے گی۔ حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ اس معاہدے سے بین الاقوامی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود گھریلو سلنڈر کی قیمت مستحکم رکھی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ایل پی جی سعودی عرب اور قطر کے مقابلے میں 8-12 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سستی پڑ سکتی ہے جب فریٹ لاگت کم ہو۔
روسی تیل کا کیا بنے گا؟
بھارت نے واضح کیا ہے کہ وہ روسی خام تیل کی خریداری جاری رکھے گا کیونکہ یہ 35-40 فیصد سستا ہے۔ تاہم ایل پی جی کے معاملے میں امریکہ کو بڑا حصہ دے کر بھارت نے متوازن حکمت عملی اپنائی ہے۔ کئی بڑی کمپنیاں پہلے ہی کچھ روسی کارگو منسوخ کر رہی ہیں۔
معاشی اثرات – ماہرین کیا کہہ رہے ہیں
- ممکنہ بچت → 150-200 ملین ڈالر سالانہ (قیمت کم ہونے کی صورت میں)
- روپے کی قدر پر مثبت اثر → درآمد بل میں کمی
- ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات میں بھارتی پوزیشن مضبوط
- جی ڈی پی گروتھ پر ممکنہ طور پر 20-30 بیسس پوائنٹس کا مثبت اثر (اگر ٹیرف سے بچ گئے)
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
- کیا یہ معاہدہ ٹرمپ کے ٹیرف روک دے گا؟
- نہیں ضرور، لیکن یہ بھارت کے لیے بہت بڑا سفارتی پوائنٹ ہے۔
- سلنڈر کی قیمت کم ہو گی؟
- حکومت نے اشارہ دیا ہے کہ امریکی ایل پی جی سستی پڑنے پر سبسڈی والے سلنڈر کی قیمت میں کمی ہو سکتی ہے۔
- کیا یہ معاہدہ صرف ایک سال کا ہے؟
- ابتدائی طور پر ایک سال کا ہے، لیکن دونوں فریق توسیع کے خواہشمند ہیں۔ 2027 سے مزید بڑا معاہدہ متوقع ہے۔