وفاقی شرعی عدالت، جو پاکستان کی آئین کے آرٹیکل 203 کے تحت قائم ہے، نے 26 نومبر 2025 کو ایک اہم قانونی چیلنج پر ردعمل دیا۔ اس عدالت میں بیرسٹر علی طاہر کی جانب سے دائر درخواست، جو 27ویں آئینی ترمیم کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کرتی ہے، پر عدالت کے دفتر نے اعتراض اٹھایا ہے۔ درخواست میں وزارت قانون و انصاف اور وزارت پارلیمانی امور کے سیکرٹریز کو فریق بنایا گیا، جبکہ عدالت نے موقف اختیار کیا کہ آئینی ترمیمات اس کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ یہ ترمیم، جو 13 نومبر 2025 کو سینیٹ میں 64 ووٹوں سے منظور ہوئی، صدر کو تاحیات استثنیٰ اور سپریم کورٹ کی صلاحیتوں میں تبدیلی لاتی ہے، جو عدلیہ کی آزادی پر براہ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔
یہ کیس پاکستان کی قانونی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے، جہاں اسلامی اصولوں کی روشنی میں آئینی تبدیلیوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے، اور اس سے عدلیہ، فوج اور پارلیمنٹ کے درمیان توازن پر بحث چھڑ گئی ہے۔
27ویں آئینی ترمیم کا پس منظر: کیا تبدیلیاں آئیں؟
27ویں آئینی ترمیم کو وفاقی حکومت نے نومبر 2025 میں پیش کیا، جو آرٹیکل 248 میں تبدیلی لاتی ہے۔ اس کے تحت صدر کو مجرمانہ مقدمات سے تاحیات استثنیٰ مل جاتا ہے، جبکہ سپریم کورٹ کو صرف اپیلاتی عدالت بنا دیا گیا، جو اس کی اصل صلاحیتوں کو محدود کرتا ہے۔ یہ ترمیم فوجی قیادت کو فیلڈ مارشل رینک دینے اور عدلیہ پر اثرات ڈالنے کا حصہ ہے، جو 1973 کے آئین کی روح کے خلاف قرار دی جا رہی ہے۔
- اہم تبدیلیاں: آرٹیکل 63A میں فلور کراسنگ پر مزید پابندیاں؛ سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل میں فوجی نمائندگی؛ عدلیہ کی نگرانی کا نیا میکانزم۔
- منظوری کا عمل: قومی اسمبلی میں اکثریت سے پاس، سینیٹ میں 64-4 ووٹ؛ صدر نے 13 نومبر کو دستخط کیے۔
- عالمی ردعمل: انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس (ICJ) نے اسے "رول آف لا پر حملہ” قرار دیا، جو پاکستان کی 2024 کی جی ڈی پی گروتھ 2.4% (ورلڈ بینک) کو متاثر کر سکتا ہے۔
یہ ترمیم 26ویں ترمیم (2024) کی طرح عدلیہ کو کمزور کرنے کی کوشش ہے، مگر اس بار اسلامی زاویہ سے چیلنج سامنے آیا ہے۔
آئینی ترمیم کے خلاف درخواست: بیرسٹر علی طاہر کا مؤقف
درخواست گزار بیرسٹر علی طاہر، جو سینیئر وکیل ہیں، نے استدلال کیا کہ عدلیہ کی آزادی اور احتساب اسلام کے بنیادی اصول ہیں، جو اس ترمیم سے ختم ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر اور فیلڈ مارشل کو دیا گیا تاحیات استثنیٰ غیر اسلامی ہے، کیونکہ قرآن و سنت میں کوئی بھی فرد قانون سے بالاتر نہیں۔
- اسلامی استدلال: ترمیم عدلیہ کو آزادانہ کیسز نہ سننے کی صورتحال پیدا کرتی ہے، جو شریعت کے خلاف ہے (سورۃ النساء:58)۔
- عدالت کا جواب: وفاقی شرعی عدالت کا دفتر نے کہا کہ آئینی امور اس کی دائرہ سماعت میں نہیں، جو آرٹیکل 203D کے تحت محدود ہے۔
- درخواست کی استدعا: ترمیم کو غیر اسلامی اور کالعدم قرار دینے کی دعا، جو دیگر عدالتوں (سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ) میں بھی چل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : آرمینیا نے بھارتی لڑاکا طیارے تیجس کی خریداری معطل کردی – دفاعی ڈیل کو بڑا دھچکا
یہ چیلنج 7 نومبر کو سپریم کورٹ میں بھی دائر ہوا، جو اس کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
شرعی عدالت کا مؤقف: قانونی رکاوٹیں اور اگلا مرحلہ
وفاقی شرعی عدالت نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیمات شریعت کے دائرہ سے باہر ہیں، مگر درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف کوئی بھی قانون چیلنج ہو سکتا ہے۔ عدالت کے عملے نے درخواست کی نقول اسلام آباد بھیج دیں اور رجسٹرار سے ہدایات طلب کیں کہ کیا سماعت ہوگی یا نہیں۔
- ممکنہ نتائج: اگر قبول ہوئی تو شریعت بینچ تشکیل، جو ترمیم کے اسلامی پہلوؤں کی جانچ کرے گا۔
- مشابہ کیسز: 1980 کی 2nd Amendment کو شرعی عدالت نے اسلامی قرار دیا، مگر 18th Amendment (2010) پر کوئی چیلنج نہ آیا۔
- تاخیر کا سبب: رجسٹرار کی ہدایات کا انتظار، جو ہفتہ بھر میں متوقع۔
یہ معاملہ پاکستان آئینی ترمیم 27 کی قانونی حیثیت کو طے کر سکتا ہے، جہاں 2025 میں 15 سے زائد چیلنجز درج ہو چکے ہیں۔
آئینی چیلنجز کا عمل: ایک سادہ گائیڈ
اگر آپ قانونی مسائل میں دلچسپی رکھتے ہیں، تو آئینی ترمیم کو چیلنج کرنے کا عمل یہ ہے:
- درخواست دائر کرنا: متعلقہ عدالت (سپریم، ہائی یا شرعی) میں آرٹیکل 184(3) یا 203 کے تحت فائل کریں۔
- فریقین کا تعین: حکومت اور متعلقہ وزارتوں کو نوٹس؛ وکیل کی خدمات لازمی۔
- سماعت کا مرحلہ: اعتراضات کا جواب، ہدایات اور بنچ تشکیل؛ 30-90 دن لگ سکتے ہیں۔
- فیصلہ: اگر منظور تو ترمیم معطل؛ اپیل کا حق محفوظ۔
یہ عمل رول آف لا کو مضبوط بناتا ہے، جیسا کہ 21st Amendment (2015) کے چیلنج میں دیکھا گیا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
27ویں ترمیم کیا ہے؟
صدر کو تاحیات استثنیٰ اور سپریم کورٹ کی اپیلاتی حیثیت محدود کرنے والی تبدیلی۔
شرعی عدالت کیوں اعتراض کر رہی ہے؟
آئینی امور اس کے دائرہ کار سے باہر، مگر اسلامی خلاف ورزی پر سماعت ممکن۔
کیا یہ ترمیم منسوخ ہو سکتی ہے؟
ہاں، اگر عدالت غیر اسلامی قرار دے؛ سپریم کورٹ میں بھی چل رہا ہے۔
اس کے اثرات کیا ہوں گے؟
عدلیہ کی آزادی کمزور، فوجی اثر بڑھے گا؛ معیشت پر 1-2% جی ڈی پی اثر (ایک آئی رپورٹس)۔
آپ کی رائے: ایک فوری پول
کیا 27ویں آئینی ترمیم عدلیہ کی آزادی کو ختم کر دے گی؟
- ہاں، یہ غیر اسلامی ہے۔
- نہیں، ضروری اصلاح ہے۔ (اپنی رائے کمنٹ میں شیئر کریں!)
کال ٹو ایکشن: بحث میں شامل ہوں اور اپ ڈیٹ رہیں
یہ چیلنج پاکستان کی جمہوری بنیادوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے – کیا شرعی عدالت سماعت کرے گی؟ کمنٹس میں بتائیں، دوستوں سے شیئر کریں، اور تازہ ترین قانونی نیوز کے لیے ہمارے WhatsApp چینل جوائن کریں! بائیں طرف فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفکیشن آن کریں – روزانہ الرٹس، ویڈیوز، تجزیے اور انفوگرافکس، بالکل مفت۔ ابھی جوائن ہوں اور پاکستان کی قانونی جدوجہد کا حصہ بنیں۔
Disclaimer: The information provided is based on public reports. For any actions related to political figures or legal matters, please verify with official sources before proceeding.