لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے بھر میں فائر سیفٹی کے نظام کو مزید مستحکم بنانے کے لیے تمام سرکاری اور نجی عمارتوں کے فائر سسٹمز کا مکمل آڈٹ کرانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان حال ہی میں کراچی کے گل پلازہ شاپنگ مال میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے سانحے کے تناظر میں سامنے آیا، جس نے ملک بھر میں فائر سیفٹی کے موجودہ اقدامات پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے شہری ترقیاتی منصوبوں کے جائزے کے ایک اہم اجلاس کے دوران یہ ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ نئے سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پیز) تیار کیے جائیں گے اور فائر سیفٹی سسٹمز کو جدید تقاضوں کے مطابق مضبوط بنایا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری دفاتر، اسپتالوں، اسکولوں، یونیورسٹیوں اور نجی تجارتی اداروں سمیت تمام عمارتوں میں، جہاں شارٹ سرکٹ یا آگ لگنے کا کوئی بھی خدشہ ہو، وہاں مکمل اور شفاف جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ سانحے کو بروقت روکا جا سکے۔
مریم نواز کا اعلان: پنجاب میں فائر سیفٹی آڈٹ کا آغاز
یہ وزیراعلیٰ پنجاب کا بڑا فیصلہ صوبے کے جاری شہری ترقیاتی پروگرام کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ پنجاب ڈیولپمنٹ پلان کے تحت اربوں روپے کے منصوبے جاری ہیں، جن میں شہروں کی خوبصورتی، داخلی اور خارجی راستوں کو سٹی گیٹ ویز میں تبدیل کرنا، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب اور دیگر بنیادی سہولیات شامل ہیں۔ اسی اجلاس میں وزیراعلیٰ نے ہر ترقیاتی پراجیکٹ میں بیوٹیفکیشن پلان کو لازمی قرار دیا اور شہروں کے فرسٹ امپریشن کو بہتر بنانے پر زور دیا۔
اس تناظر میں فائر سسٹمز کے آڈٹ کو بھی ترجیح دی گئی۔ حکام کے مطابق یہ آڈٹ نہ صرف سرکاری بلکہ نجی عمارتوں پر بھی محیط ہوگا۔ خاص توجہ ہائی رائز بلڈنگز، کمرشل پلازوں، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور صنعتی یونٹس پر دی جائے گی۔ آڈٹ کے دوران فائر الارم سسٹم، ایکسٹنگوشرز، ایمرجنسی ایگزٹس، اسپرنکلرز اور برقی وائرنگ کی مکمل جانچ کی جائے گی۔
کراچی گل پلازہ سانحہ: فائر سیفٹی کی کمزوریوں کی ایک تلخ مثال
حالیہ دنوں میں کراچی کے مصروف ترین علاقے صدر میں واقع گل پلازہ شاپنگ مال میں لگی آگ نے ملک بھر کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ تین منزلہ عمارت جس میں 1200 سے زائد دکانیں تھیں، شارٹ سرکٹ سے شروع ہونے والی آگ نے تیزی سے پھیل کر تباہی مچا دی۔ آگ بجھانے کے عمل میں 24 گھنٹے سے زائد وقت لگا اور متعدد منزلیں گر گئیں۔
اس سانحے میں کم از کم 28 افراد جاں بحق ہوئے جن میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ریسکیو آپریشنز کے دوران دھوئیں کی شدت، وینٹیلیشن کی کمی اور ایمرجنسی ایگزٹس کی بندش نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ یہ واقعہ پاکستان میں فائر سیفٹی کے نظام کی سنگین کمزوریوں کو بے نقاب کرتا ہے۔
پاکستان میں فائر سیفٹی کے مسائل اور چیلنجز
پاکستان بھر میں آگ کے واقعات ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں۔ ناقص برقی وائرنگ، فائر سیفٹی آلات کی عدم موجودگی، عمارتوں میں ایمرجنسی راستوں کی بندش اور تربیت یافتہ عملے کی کمی اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔ کراچی جیسے بڑے شہروں میں بلند عمارتوں کے فائر سیفٹی آڈٹس میں سنگین خامیاں سامنے آئی ہیں۔
پنجاب میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ صوبے بھر میں ہر سال ہزاروں فائر انسیڈنٹس رپورٹ ہوتے ہیں۔ ان واقعات میں بروقت رسپانس کی بدولت اربوں روپے کی املاک بچائی جاتی ہیں، لیکن یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خطرات کتنے بڑھ چکے ہیں۔ شہری آبادی کے بڑھنے، صنعتی سرگرمیوں اور ناقص انفراسٹرکچر کی وجہ سے فائر انسیڈنٹس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
پنجاب حکومت کے فائر سیفٹی بہتر بنانے کے اقدامات
وزیراعلیٰ مریم نواز کا یہ اعلان ایک مثبت اور بروقت قدم ہے۔ آڈٹ کے علاوہ نئے ایس او پیز کی تیاری سے فائر سیفٹی کے معیارات کو بین الاقوامی سطح پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سے نہ صرف جانی نقصانات کم ہوں گے بلکہ اربوں روپے کی املاک بھی محفوظ رہیں گی۔
حکومت کی جانب سے ریسکیو 1122 کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ جدید فائر ٹینڈرز، اسنارکلز اور تربیت یافتہ عملے کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ عوامی شعور بیداری مہمات بھی چلائی جا رہی ہیں تاکہ شہری خود احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
عمارت مالکان اور شہریوں کے لیے عملی مشورے
فائر سیفٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر فرد اور ادارے کا کردار اہم ہے۔ یہاں چند اہم ٹپس دی جا رہی ہیں:
- فائر الارم سسٹم اور فائر ایکسٹنگوشرز کی باقاعدہ جانچ اور مینٹیننس کروائیں۔
- برقی وائرنگ کی اپ گریڈنگ یقینی بنائیں اور اوور لوڈنگ سے بچیں۔
- ایمرجنسی ایگزٹس کو ہمیشہ کھلا اور صاف رکھیں، ان پر سامان نہ رکھیں۔
- عملے اور گھر والوں کو فائر ڈرل کی تربیت دیں تاکہ ہنگامی صورتحال میں صحیح ردعمل دیا جا سکے۔
- نئی عمارتوں کی تعمیر میں فائر سیفٹی پلان کو لازمی شامل کریں اور متعلقہ اتھارٹیز سے این او سی حاصل کریں۔
- دھوئیں کے ڈٹیکٹرز اور اسپرنکلر سسٹم نصب کروائیں، خاص طور پر ہائی رائز بلڈنگز میں۔
- گیس لیکج اور کھلی آگ سے بچاؤ کے لیے احتیاط کریں۔
یہ سادہ اقدامات نہ صرف قانونی تقاضے پورے کریں گے بلکہ قیمتی جانیں اور املاک بچا سکیں گے۔
نتیجہ: ایک محفوظ پنجاب کی طرف قدم
وزیراعلیٰ مریم نواز کا فائر سسٹمز آڈٹ کا اعلان پنجاب کو محفوظ بنانے کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔ حالیہ سانحات سے سبق سیکھتے ہوئے اب وقت ہے کہ تمام صوبے مل کر فائر سیفٹی کو ترجیح دیں۔ یہ اقدامات نافذ العمل ہونے سے نہ صرف جانی اور مالی نقصانات کم ہوں گے بلکہ شہریوں کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
آپ کی رائے کیا ہے؟ کیا یہ اعلان پنجاب میں فائر سیفٹی کو واقعی بہتر بنائے گا؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں، مضمون شیئر کریں اور تازہ ترین خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں۔ بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کرکے نوٹیفکیشنز آن کریں تاکہ ہر اہم اپ ڈیٹ بروقت موصول ہو!
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
فائر سسٹمز کا آڈٹ کب شروع ہوگا؟
اعلان کے مطابق آڈٹ جلد شروع کیا جائے گا، ممکنہ طور پر چند ہفتوں میں۔ تفصیلی شیڈول جلد جاری کیا جائے گا۔
یہ آڈٹ کس کس پر ہوگا؟
سرکاری دفاتر، اسپتال، اسکول اور نجی اداروں سمیت تمام عمارتوں پر، خاص طور پر جہاں آگ کا خطرہ زیادہ ہو۔
آڈٹ میں کیا چیک کیا جائے گا؟
فائر الارم، ایکسٹنگوشرز، اسپرنکلرز، ایمرجنسی ایگزٹس، برقی وائرنگ اور ایس او پیز کی پابندی۔
اگر عمارت ناکافی پائی گئی تو کیا ہوگا؟
مالکان کو نوٹس جاری کیا جائے گا اور اصلاحات کے لیے وقت دیا جائے گا، خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ممکن ہے۔
شہری کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟
اپنی عمارتوں میں خود فائر سیفٹی چیک کروائیں، ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
کیا یہ اعلان کراچی سانحے سے متاثر ہے؟
جی ہاں، گل پلازہ سانحے نے فائر سیفٹی کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اس اعلان کا براہ راست تعلق ہے۔
Disclaimer: The provided information is based on public reports; please verify before taking any actions.