”والد کس حال میں ہیں؟“ — عمران خان کے بیٹے قاسم کی ہنگامی اپیل جو دنیا ہلا کر رکھ دی

قاسم خان

سابق وزیراعظم پاکستان اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو اڈیالہ جیل میں حراست میں لیے ہوئے 845 دن سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ 27 نومبر 2025 کو ان کے چھوٹے بیٹے قاسم خان نے اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر ایک جذباتی اور ہنگامی اپیل شیئر کی جس میں الزام لگایا کہ گزشتہ چھ ہفتوں سے ان کے والد کو مکمل تنہائی میں ایک ڈیتھ سیل نما کمرے میں رکھے گئے ہیں جہاں نہ کوئی ملاقات ہو رہی ہے، نہ فون کال اور نہ ہی کوئی خبر باہر آ رہی ہے۔

یہ اپیل عمران خان جیل اپ ڈیٹ اور عمران خان کی صحت کی صورتحال کے حوالے سے پاکستان سیاست کی بریکنگ نیوز بن گئی ہے۔ قاسم خان کے بیان کے بعد عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

قاسم خان کا جذباتی بیان

قاسم خان نے اپنی پوسٹ میں لکھا:

”میرے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن ہو چکے ہیں۔ پچھلے چھ ہفتوں سے وہ مکمل تنہائی میں ایک ڈیتھ سیل میں رکھے گئے ہیں۔ صفر شفافیت۔ ان کی بہنوں کو عدالت کے واضح احکامات کے باوجود ہر ملاقات سے روک دیا گیا۔ کوئی فون کال نہیں، کوئی ملاقات نہیں، زندگی کی کوئی علامت نہیں۔“

اہم نکات:

  • 845 دن سے زائد عرصے سے اڈیالہ جیل میں قید
  • گزشتہ 6 ہفتوں سے مکمل solitary confinement
  • خاندان اور وکلاء کو مکمل رسائی بند
  • عدالت کے احکامات کی بار بار خلاف ورزی
  • قاسم خان کا دعویٰ: ”یہ جان بوجھ کر کی جانے والی کارروائی ہے تاکہ والد کی حالت چھپائی جا سکے“

قاسم اور ان کے بھائی سلیمان خان لندن میں رہائش پذیر ہیں اور وہ کئی ماہ سے والد سے براہ راست رابطے میں نہیں ہیں۔

عدالتی احکامات کے باوجود ملاقاتیں کیوں روکی جا رہی ہیں؟

اسلام آباد ہائی کورٹ نے متعدد بار عمران خان سے خاندان اور وکلاء کی ملاقاتوں کی اجازت دی، مگر جیل انتظامیہ ہر بار نئی وجوہات پیش کر کے روک دیتی ہے۔ قاسم خان کے مطابق یہ عدالتی حکم عدولی ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں نے بھی الزام لگایا کہ یہ سیاسی انتقام ہے اور عمران خان کی مقبولیت کی وجہ سے نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔

کیا یہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے؟

بین الاقوامی قوانین (Nelson Mandela Rules) کے مطابق:

  • طویل تنہائی (solitary confinement) ذہنی اور جسمانی صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتی ہے
  • قیدی کو خاندان سے رابطے کا بنیادی حق حاصل ہے
  • عدالت کے احکامات پر عمل درآمد لازمی ہے
  • تنہائی کو سزا کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا

ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی تنظیموں نے ماضی میں بھی پاکستان میں سیاسی قیدیوں کے ساتھ تنہائی کے استعمال پر تنقید کی ہے۔ اگر قاسم خان کے دعوے درست ہیں تو یہ غیر انسانی سلوک، بنیادی حقوق کی پامالی اور سیاسی دباؤ کی واضح مثال ہے۔

سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل

قاسم کی پوسٹ وائرل ہونے کے فوراً بعد یہ ہیش ٹیگز دنیا بھر میں ٹرینڈ کرنے لگے:

  • #WhereIsImranKhan
  • #ReleaseImranKhan
  • #ProofOfLifeImranKhan
  • #HumanRightsViolationPakistan

ہزاروں صارفین نے شفافیت کا مطالبہ کیا اور اس صورتحال کو ”انتہائی تشویشناک“ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: "میں پردہ دار خاتون ہوں — گھر میں بھائی سے بھی پردہ کرتی ہوں”، نبیحہ علی خان کا وائرل بیان

سوالات و جوابات (FAQ)

سوال 1: کیا عمران خان واقعی ڈیتھ سیل میں ہیں؟

جواب: قاسم خان اور پی ٹی آئی کے مطابق ہاں، مگر جیل انتظامیہ اور حکومت نے ابھی تک کوئی سرکاری تردید یا تصدیق نہیں کی۔

سوال 2: ملاقاتیں کیوں نہیں ہو رہی ہیں؟

جواب: جیل حکام ”سیکیورٹی وجوہات“ کا حوالہ دیتے ہیں، مگر خاندان کا کہنا ہے کہ یہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔

سوال 3: قاسم خان عالمی برادری سے کیا مطالبہ کر رہے ہیں؟

جواب: فوری مداخلت، proof of life، عدالت کے احکامات پر عمل درآمد اور تنہائی ختم کرانا۔

سوال 4: حکومت کا مؤقف کیا ہے؟

جواب: اب تک کوئی واضح بیان نہیں آیا، مگر ماضی میں ایسی خبروں کو ”پروپیگنڈہ“ قرار دیا جاتا رہا ہے۔

نتیجہ — شفافیت اور انصاف کا امتحان

قاسم خان کی ہنگامی اپیل نے ایک بار پھر پاکستان کے سیاسی بحران کو عالمی سطح پر اجاگر کر دیا ہے۔ جب تک آزادانہ رسائی اور طبی معائنہ نہیں کرایا جاتا، عوام اور خاندان کی تشویش برقرار رہے گی۔ یہ صرف ایک خاندان کا معاملہ نہیں بلکہ انسانی حقوق، عدلِیہ کی آزادی اور جمہوریت کا سوال ہے۔

آپ کیا سوچتے ہیں؟ کیا عمران خان کی موجودہ تنہائی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے؟ اپنی رائے ضرور کمنٹ کریں، شیئر کریں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں — بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں تاکہ ہر بریکنگ نیوز آپ کو فوری نوٹیفکیشن ملے!

Disclaimer: All information in this article is based on public reports and statements. Readers are advised to verify from official sources before taking any action.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے