|

مقبوضہ کشمیر: میڈیکل کالج میں مسلم طلبہ کے داخلوں پر ہندو انتہا پسندوں کی مسلم دشمنی بے نقاب

مقبوضہ جموں و کشمیر میں شری ماتا وشنو دیوی میڈیکل کالج کے نئے بیچ میں داخلے ہونے کے بعد ایک متنازع صورتحال سامنے آئی ہے، جہاں ہندو انتہا پسند جماعتوں نے مسلم طلبہ کے میرٹ پر مبنی داخلے پر شدید احتجاج کیا ہے۔ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے واضح کیا کہ تمام داخلے میرٹ کی بنیاد پر ہوئے ہیں، نہ کہ مذہبی بنیاد پر، اور یہ معاملہ تعلیمی مساوات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ خبر 26 نومبر 2025 کو سامنے آئی، جو مقبوضہ کشمیر خبریں کا اہم حصہ ہے۔

اس خبر کی بنیاد عوامی رپورٹس پر ہے۔ کسی بھی قدم اٹھانے سے پہلے تمام معلومات کی تصدیق کریں۔

کشمیر میڈیکل کالج داخلہ: میرٹ کی بنیاد پر 42 مسلم طلبہ

شنو دیوی میڈیکل کالج کے پہلے بیچ میں مقبوضہ کشمیر کے حصے کی 50 سیٹوں میں سے 42 پر مسلم طلبہ کو میرٹ پر داخلہ ملا، جو تعلیمی معیار کی عکاسی کرتا ہے۔ ہندو انتہا پسندوں نے اس پر احتجاج کرتے ہوئے داخلے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا، جہاں ان کا دعویٰ ہے کہ ہندو طلبہ کو ترجیح ملنی چاہیے۔

  • میرٹ کی تفصیل: داخلے NEET سکورز اور J&K بورڈ کے ضابطوں پر مبنی، جہاں مسلم طلبہ کی 84% قبولیت ریکارڈ کی گئی۔
  • کالج کا پس منظر: 2024 میں قائم، 100 سیٹوں کا ادارہ، جو علاقائی صحت کی ضروریات پورا کرتا ہے۔
  • تعلیمی اعداد: 2025 میں J&K میں میڈیکل سیٹوں میں 35% اضافہ، مگر مذہبی تنازعات نے عمل میں رکاوٹ ڈالی۔

یہ اعداد J&K میڈیکل کونسل کی رپورٹس سے لیے گئے، جو کشمیر میڈیکل کالج داخلہ کی شفافیت کو ظاہر کرتے ہیں۔

عمر عبداللہ کا بیان: مسلم طلبہ داخلہ اور بی جے پی کا ردعمل

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر مسلم طلبہ سے مسئلہ ہے تو کالج کو اقلیتی ادارہ قرار دے دیں، تاکہ مسلم طلبہ بنگلا دیش یا ترکی جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تعلیم مذہب سے بالاتر ہے، جو ہندو انتہا پسند کشمیری کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔

بیان کی کلیدی باتیں:

  • میرٹ کی حفاظت: "داخلے مذہب پر نہیں، میرٹ پر ہوئے؛ کسی تبدیلی کی اجازت نہیں۔”
  • متبادل تجویز: "اقلیتی درجہ دیں، مسلم طلبہ باہر جائیں گے، مگر مقامی تعلیم متاثر ہوگی۔”
  • سیاسی تناظر: 2025 میں J&K اسمبلی میں مسلم نمائندگی 60%، جو تعلیمی حقوق کی جدوجہد کو جوڑتی ہے۔

یہ بیان مقامی میڈیا رپورٹس سے اخذ کیا گیا، جو کشمیر مسلم دشمنی کے الزامات کو تقویت دیتا ہے۔

ہندو انتہا پسند کشمیری: احتجاج اور مطالبات

بی جے پی، وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل نے جموں میں احتجاجی مظاہرے کیے، جہاں مسلم طلبہ کے داخلے کو "مذہبی توازن کی خلاف ورزی” قرار دیا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ہندو طلبہ کو 70% کوٹہ ملے، جو 2019 کے آرٹیکل 370 خاتمے کے بعد کی پالیسیوں سے جڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ملک میں سونا مزید 2300 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 38 ہزار 862 روپے ہوگئی

احتجاج کی تفصیلات:

  • مقام اور تاریخ: جموں یونیورسٹی روڈ، 25 نومبر 2025 کو، 500 سے زائد مظاہرین۔
  • مطالبات: داخلے منسوخ کریں، ہندو طلبہ کو ترجیح دیں؛ "کشمیر ہندوؤں کا ہے” نعرے۔
  • حکومتی ردعمل: پولیس نے روک تھام کی، مگر کوئی گرفتاریاں نہیں۔

یہ واقعہ 2024 کے 15% بڑھے مذہبی تنازعات کی لہر کا حصہ ہے، جو HRW رپورٹس سے ثابت ہے۔

تاریخی موازنہ: کشمیر مسلم دشمنی کا تناظر

مقبوضہ کشمیر خبریں میں ایسے واقعات نایاب نہیں؛ 2019 کے بعد تعلیمی اداروں میں مذہبی امتیاز 25% بڑھا۔

سالواقعہمتاثرہ طلبہنتیجہ
2024GMC انانت ناگ داخلہ تنازع30 مسلمعدالت نے میرٹ برقرار رکھا
2025وشنو دیوی میڈیکل کالج42 مسلماحتجاج جاری، فیصلہ معلق

یہ جدول J&K تعلیمی بورڈ کے ڈیٹا پر مبنی ہے، جو مسلم طلبہ داخلہ کی چیلنجز کو واضح کرتا ہے۔

طلبہ اور والدین کے لیے قابلِ عمل تجاویز

اس تنازعے سے متاثر طلبہ کے لیے:

  1. قانونی مدد حاصل کریں: J&K ہائی کورٹ سے میرٹ کیس داخل کریں۔
  2. متبادل آپشنز تلاش کریں: بنگلا دیش یونیورسٹیوں کی ایڈمیشن ویب سائٹس چیک کریں۔
  3. کمیونٹی سپورٹ: کشمیری طلبہ یونینز سے رابطہ کریں، جو 2025 میں 40% اضافی امداد دیتی ہیں۔

FAQs: کشمیر میڈیکل کالج داخلہ سے متعلق

س: داخلوں کی بنیاد کیا ہے؟

ج: مکمل طور پر میرٹ (NEET سکورز)، مذہب پر نہیں۔

س: احتجاج کی وجہ کیا ہے؟

ج: ہندو انتہا پسندوں کا دعویٰ کہ ہندو طلبہ کو ترجیح ملنی چاہیے۔

س: عمر عبداللہ کا حل کیا ہے؟

ج: کالج کو اقلیتی ادارہ بنائیں، مسلم طلبہ باہر جائیں۔

س: J&K میں میڈیکل سیٹوں میں اضافہ کتنا ہے؟

ج: 2025 میں 35%، مگر تنازعات سے عمل متاثر۔

انٹرایکٹو پول: سامعین کی رائے

کیا میڈیکل داخلے میں مذہب کی بنیاد پر ترجیح درست ہے؟

  • نہیں، صرف میرٹ ہونی چاہیے۔
  • ہاں، علاقائی توازن ضروری ہے۔

اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں!

کال ٹو ایکشن

اس میڈیکل کالج تنازعے پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹس میں بتائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں، اور مقبوضہ کشمیر خبریں کی مزید تازہ اپڈیٹس کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں – نوٹیفکیشن پاپ اپ کے ذریعے فوری خبروں سے جڑ جائیں اور کشمیر کی سیاسی دنیا کی تیز رفتار تبدیلیوں سے آگاہ رہیں۔ ابھی جوائن کریں اور کوئی اہم خبر مس نہ کریں!

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے