ماضی کی ناکام کوششوں کے باوجود پی ٹی آئی کا کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات پر زور

سہیل آفریدی

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ صوبے میں کسی بھی قسم کے فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی کارروائیاں مسائل کا مستقل حل نہیں ہیں اور امن صرف کھلی مشاورت اور جرگوں کے ذریعے قائم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امن جرگہ نے آپریشنز کو مسترد کر دیا ہے اور بند کمروں میں لیے جانے والے فیصلے امن نہیں لا سکتے۔ وزیراعلیٰ نے خبردار کیا کہ اگرچہ آپریشن کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، مگر کوئی فرد یا ادارہ زبردستی اپنا فیصلہ صوبے پر مسلط نہیں کر سکتا۔ یہ بیان پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جو گزشتہ دو دہائیوں میں متعدد ناکام امن معاہدوں کے باوجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف رہا ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ فوجی طاقت سے نہیں بلکہ سیاسی اور مذاکراتی عمل سے حل کیا جا سکتا ہے۔

پی ٹی آئی کا مؤقف اور موجودہ سیکیورٹی چیلنجز

پی ٹی آئی کی پالیسی کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ خیبر پختونخوا جیسے حساس صوبے میں امن کے لیے مقامی جرگوں اور مشاورت کو ترجیح دی جائے۔ پارٹی قیادت بارہا یہ موقف اختیار کرتی رہی ہے کہ فوجی آپریشنز سے عارضی سکون تو مل سکتا ہے مگر پائیدار امن نہیں آ سکتا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اپنے بیان میں صوبائی امن جرگہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جرگہ نے آپریشنز کی سخت مخالفت کی ہے اور مذاکرات کو ہی راستہ قرار دیا ہے۔ پارٹی کا خیال ہے کہ ٹی ٹی پی جیسے گروہوں سے بات چیت کے دروازے بند نہیں کرنے چاہییں، کیونکہ فوجی کارروائیاں اکثر عام شہریوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

تاہم، موجودہ سیکیورٹی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ گزشتہ چند سالوں میں ٹی ٹی پی نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ تیز کر دی ہیں۔ صوبے کے مختلف اضلاع میں حملوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جن میں سکیورٹی فورسز اور عام شہری نشانہ بن رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی نے کئی حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور تنظیم کی تنظیم نو اور نئی بھرتیوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ یہ صورتحال پی ٹی آئی کے مذاکرات کے مؤقف کو چیلنج کر رہی ہے، کیونکہ بہت سے حلقوں کا خیال ہے کہ مذاکرات سے تنظیم کو مزید مضبوطی ملتی ہے۔

ماضی کی ناکام امن کوششیں: ایک تاریخی جائزہ

پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں میں ٹی ٹی پی اور اس سے منسلک عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ کئی امن معاہدے کیے، مگر ان میں سے کوئی بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ ان معاہدوں کے ناکام ہونے کے بعد ریاست کو بڑے پیمانے پر فوجی آپریشنز کرنے پڑے۔ اہم معاہدوں میں سے چند یہ ہیں:

سب سے پہلا بڑا معاہدہ اپریل 2004 میں جنوبی وزیرستان کے علاقے شکئی میں نیک محمد وزیر کے ساتھ ہوا۔ یہ معاہدہ اس وقت طے پایا جب مارچ 2004 میں فوجی آپریشن شروع ہوا تھا، جس کا مقصد نیک محمد پر غیر ملکی جنگجوؤں سے تعلقات ختم کرنے کا دباؤ ڈالنا تھا۔ معاہدے کے تحت حکومت نے قیدی رہا کیے اور جائیداد کے نقصان کا معاوضہ ادا کیا، جبکہ نیک محمد نے غیر ملکی جنگجوؤں کی رجسٹریشن اور سرحد پار حملے روکنے کا وعدہ کیا۔ مگر یہ معاہدہ چند ماہ سے زیادہ نہ چل سکا۔

اسی طرح بیت اللہ محسود، حافظ گل بہادر، صوفی محمد، مولانا فضل اللہ، فقیر محمد اور منگل باغ جیسے عسکریت پسند رہنماؤں کے ساتھ الگ الگ معاہدے کیے گئے۔ ان معاہدوں میں اکثر اسلحہ جمع کرانے، حملے روکنے اور غیر ملکی جنگجوؤں کو پناہ نہ دینے جیسے وعدے کیے گئے، مگر ہر بار معاہدہ ٹوٹ گیا اور حملے دوبارہ شروع ہو گئے۔ ان ناکامیوں کی وجہ سے ریاست کو ضرب عضب، رد الفساد جیسے بڑے آپریشنز کرنے پڑے، جن میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔

یہ تاریخی تجربات بتاتے ہیں کہ امن معاہدوں کے دوران عسکریت پسند گروہوں کو دوبارہ منظم ہونے اور طاقت جمع کرنے کا موقع ملتا ہے۔ معاہدوں کی خلاف ورزی اکثر ایک طرفہ ہوتی ہے اور ریاست کو آخر میں فوجی طاقت استعمال کرنی پڑتی ہے۔

مذاکرات کے فوائد اور ممکنہ خطرات

پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ مذاکرات سے خونریزی روکی جا سکتی ہے اور مقامی سطح پر امن قائم ہو سکتا ہے۔ پارٹی کے مطابق، جرگوں اور مشاورت کے ذریعے ٹی ٹی پی کے کچھ دھڑوں کو مین اسٹریم میں لایا جا سکتا ہے۔ یہ نقطہ نظر صوبائی خودمختاری اور مقامی روایات پر مبنی ہے۔ مذاکرات سے فوجی آپریشنز کے دوران ہونے والے شہری نقصانات کو بھی روکا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف، بہت سے ماہرین اور سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ماضی کی ناکامیاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ ٹی ٹی پی جیسے گروہ مذاکرات کو صرف وقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ مذاکرات سے تنظیم کو قانونی اور سیاسی حیثیت مل سکتی ہے، جو طویل مدت میں قومی سلامتی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں جب ٹی ٹی پی سرگرم ہے، مذاکرات کا اعلان تنظیم کی مورال بڑھا سکتا ہے اور سکیورٹی فورسز کے حوصلے متاثر کر سکتا ہے۔

نتیجہ

پی ٹی آئی کا مذاکرات پر زور ماضی کی ناکامیوں کے باوجود جاری ہے، جو پارٹی کی سیاسی سوچ اور صوبائی مفادات کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، سیکیورٹی صورتحال کا تقاضا ہے کہ کوئی بھی فیصلہ قومی سلامتی کو ترجیح دیتے ہوئے کیا جائے۔ مذاکرات اور فوجی کارروائی دونوں کے درمیان توازن ضروری ہے تاکہ نہ تو خونریزی بڑھے اور نہ ہی دہشت گرد گروہوں کو کھلی چھوٹ ملے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

پی ٹی آئی ٹی ٹی پی سے مذاکرات کیوں چاہتی ہے؟

پی ٹی آئی کا خیال ہے کہ فوجی آپریشنز مستقل حل نہیں، مذاکرات اور جرگوں سے پائیدار امن ممکن ہے۔

ماضی میں امن معاہدے کیوں ناکام ہوئے؟

عسکریت پسندوں کی طرف سے معاہدوں کی خلاف ورزی اور دوبارہ منظم ہونے کی وجہ سے۔

پہلا بڑا امن معاہدہ کب اور کس کے ساتھ ہوا؟

اپریل 2004 میں نیک محمد وزیر کے ساتھ شکئی معاہدہ۔

مذاکرات کے کیا خطرات ہیں؟

تنظیم کو وقت اور قانونی حیثیت مل سکتی ہے، جو اسے مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔

ڈس کلیمر: The provided information is published through public reports. Please verify all discussed information before taking any steps.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے