پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے راولپنڈی میں ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کو سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ دی۔ انہوں نے غزہ میں پاکستانی افواج کی ممکنہ تعیناتی پر کہا کہ یہ فیصلہ فوج کا نہیں بلکہ حکومت اور پارلیمان کا ہے۔ یہ بیان امریکہ کی ثالثی میں حماس اور اسرائیل کے جنگ بندی معاہدے کے تناظر میں سامنے آیا، جہاں عرب اور مسلم ممالک پر مشتمل اتحاد غزہ میں استحکام فورس تعینات کرے گا۔
یہ فورس فلسطینی پولیس کو تربیت دے گی اور مصر، اردن کی مدد سے سرحدی حفاظت یقینی بنائے گی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے زور دیا کہ پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسی پارلیمانی سطح پر طے ہوتی ہے۔
غزہ امن مشن: پاکستان کا ممکنہ کردار اور چیلنجز
امریکی ثالثی والے معاہدے کے تحت غزہ میں بین الاقوامی فورس کی توقع ہے، جو:
- منتخب فلسطینی پولیس کو تربیت اور معاونت فراہم کرے گی۔
- سرحدی علاقوں کی حفاظت کرے گی۔
- عرب مسلم اتحاد پر مشتمل ہو گی۔
پاکستان فوج نے واضح کیا کہ افواج کی بیرون ملک تعیناتی سیاسی قیادت کا اختیار ہے۔ یہ موقف پاکستان کی فلسطین حمایت اور علاقائی استحکام کی پالیسی سے ہم آہنگ ہے۔
افغانستان: سرحدی تنازعات اور دہشت گردی کا بڑھتا خطرہ
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے افغان طالبان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے "ڈارلنگ” نہیں۔ اکتوبر میں سرحدی جھڑپوں میں:
- 206 افغان طالبان ہلاک۔
- 112 درانداز عسکریت پسند مارے گئے۔
دوحہ اور استنبول مذاکرات کے باوجود افغان سرزمین پاکستان مخالف استعمال ہو رہی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پوچھا: افغانستان کے چھ ہمسایوں میں دہشت گردی کیوں نہیں؟ جواب: سرحدی قوانین کی عدم پابندی۔
یہ بھی پڑھیں:گورنرسندھ کا کراچی میں سرعام اسلحہ کی نمائش اور فائرنگ کے واقعہ کا نوٹ
انہوں نے افغان عبوری حکومت کو "جتھا” قرار دیا، جو انتخابات اور خواتین نمائندگی سے گریزاں ہے۔ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو شہری علاقوں میں منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ انسانی ڈھال استعمال ہو۔ پاکستان کا مطالبہ: دہشت گردوں کی حوالگی یا کارروائی۔
انڈیا کا فالس فلیگ آپریشن ناکام، سمندر میں بھی تیار پاکستان
انڈیا پاکستان مخالف فالس فلیگ آپریشن کی کوشش کر رہا تھا، جو بے نقاب ہوا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے خبردار کیا: زمین، آسمان اور سمندر میں پاکستان مکمل جواب دے گا۔
2025 میں دہشت گردی کے خلاف ریکارڈ کارروائیاں
رواں سال سکیورٹی فورسز نے 62,113 آپریشنز کیے، جن میں:
- 1,667 عسکریت پسند ہلاک (128 افغان)۔
- ضلع خیبر کی وادی تیرہ میں 12,000 ایکڑ پر پوست کی کاشت، فی ایکڑ 18-25 لاکھ روپے منافع۔
دہشت گرد بھتہ لیتے ہیں، افغانستان سے منشیات آ رہی ہیں۔ چرس یونیورسٹیوں تک پہنچ رہی ہے، کچھ سیاستدان اس کاروبار سے مستفید۔ کے پی میں فوجی آپریشنز کی مخالفت سیاسی مفادات کی وجہ سے ہے۔ فوج کا مطالبہ: دہشت گردی پر سیاست نہ ہو، سب ایک صفحے پر آئیں۔
سرحدی باڑ پر الزامات مسترد: سمگلنگ افغان پشت پناہی سے ہوتی ہے، پوسٹس کے درمیان فاصلہ استحصال ہوتا ہے۔
اہم اعدادوشمار ایک نظر میں
- آپریشنز: 62,113
- ہلاک عسکریت پسند: 1,667
- افغان شہری: 128
- پوست کی کاشت: 12,000 ایکڑ
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
غزہ میں پاکستان فورسز کیوں بھیجی جا سکتی ہیں؟
جنگ بندی معاہدے تحت استحکام فورس کا حصہ بننے کے لیے، لیکن فیصلہ پارلیمان کرے گا۔
افغان طالبان سے مذاکرات کیوں ناکام؟
دہشت گردوں سے بات نہیں، سرزمین کے غلط استعمال پر۔
منشیات اور دہشت گردی کا رابطہ کیا؟
چرس مافیا دہشت گردوں کو فنڈنگ دیتا ہے، سیاسی عناصر ملوث۔
پاکستان انڈیا کو سمندر میں کیسے روکے گا؟
مکمل دفاعی تیاری، فالس فلیگ ناکام بنا چکے۔
آپ کی رائے کیا ہے؟
کیا پاکستان کو غزہ امن مشن میں حصہ لینا چاہیے؟ کمنٹس میں بتائیں! افغانستان سرحدی تنازع پر آپ کا موقف؟ شیئر کریں اور بحث میں شامل ہوں۔
ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں – روزانہ تازہ خبریں، بریکنگ الرٹس اور خصوصی رپورٹس براہ راست آپ کے فون پر! بائیں طرف واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفکیشن آن کریں اور کبھی کوئی اپ ڈیٹ مس نہ کریں۔ یہ مفت ہے، آسان اور قابل اعتماد!