پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت میں دسمبر 2025 کے آخر میں ایک اہم تنازع سامنے آیا جب پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں عمران خان سے ملاقات نہ ملنے پر "بھیک مانگنے” کا اظہار کیا۔ اس بیان پر پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے فوری تردید کی اور اسے پارٹی کے سرکاری مؤقف کے خلاف قرار دیا۔ یہ معاملہ نہ صرف پارٹی کی اندرونی سیاست بلکہ عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں کی پابندیوں اور پاکستان کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔
بیرسٹر گوہر کا بیان: تنازع کی ابتدا
دسمبر 2025 کے آخر میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا ٹاک کے دوران پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہر منگل کو جیل آتے ہیں لیکن ملاقات کی اجازت نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا: "حالات بدلنے کے لیے ملاقات کی بھیک مانگ رہا ہوں، 2025 گزر گیا اب تو حالات بدلنے چاہییں۔” بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ اس میں صرف بیرونی عناصر ہی نہیں بلکہ "اپنوں” کا بھی ہاتھ ہے۔ ان کا اشارہ ممکنہ طور پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا حکومتی پالیسیوں کی طرف تھا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پی ٹی آئی رہنما مسلسل عمران خان سے ملاقات کی اجازت مانگ رہے تھے۔ پارٹی کا مؤقف رہا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود ملاقاتیں روکی جا رہی ہیں، جو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے صاحب اقتدار سے اپیل کی کہ دل بڑا کریں اور ملک کے بچوں پر رحم کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دشمن کے ساتھ سیز فائر ہو گیا لیکن اندرونی تناؤ ختم نہیں ہوا۔
سلمان اکرم راجہ کی تردید اور پارٹی مؤقف
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے بیرسٹر گوہر کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی سطح پر اس بیان کی تردید کی جا چکی ہے اور "بھیک” کا لفظ بالکل غیر مناسب تھا۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا: "ہم کسی حوالے سے بھیک نہیں مانگ رہے۔ پی ٹی آئی سے کوئی ایسی غلطی نہیں ہوئی جس کی بنیاد پر بانی چیئرمین سے ملاقاتیں روکی جا سکیں۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت سے بات چیت تب ممکن ہے جب عمران خان پر عائد ناجائز پابندیاں ہٹا دی جائیں گی۔ سلمان اکرم راجہ نے مذاکرات کے موجودہ ماحول پر بھی مایوسی ظاہر کی اور کہا کہ اس وقت مذاکرات کا کوئی سازگار ماحول نظر نہیں آ رہا۔ یہ بیان پارٹی کی متحدہ لائن کو برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ بیرسٹر گوہر کی گفتگو میں شدید مایوسی جھلک رہی تھی۔
عمران خان کی جیل ملاقاتوں کی صورتحال
بانی پی ٹی آئی عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ جیل قوانین کے مطابق قیدیوں کو ہفتہ وار ملاقاتیں ملنی چاہییں، لیکن پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود اکثر ملاقاتیں روکی جاتی ہیں۔ 2025 کے دوران متعدد بار پارٹی رہنما، وکلا اور فیملی ممبران کو جیل کے باہر روکا گیا۔
دسمبر 2025 میں عمران خان کی بہنوں سمیت رہنماؤں کو ملاقات سے روک کر دھرنا دینا پڑا۔ حکومتی موقف ہے کہ ملاقاتیں جیل رولز اور سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر محدود کی جاتی ہیں۔ پارٹی کا مطالبہ ہے کہ ناجائز پابندیاں ختم کی جائیں اور فوری ملاقاتیں بحال ہوں۔
یہ پابندیاں پارٹی کی حکمت عملی پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں، کیونکہ عمران خان سے مشاورت کے بغیر بڑے فیصلے مشکل ہو جاتے ہیں۔ ملاقاتوں کی کمی سے پارٹی رہنما اکثر میڈیا کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کرتے ہیں، جو سیاسی منظر نامے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
پی ٹی آئی میں ممکنہ اندرونی اختلافات
یہ تنازع پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست میں موجود تضادات کو اجاگر کرتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں رہنماؤں کے بیانات میں فرق نظر آیا ہے، خاص طور پر مذاکرات اور احتجاج کی حکمت عملی پر۔ بیرسٹر گوہر مذاکرات کو واحد راستہ قرار دیتے ہیں جبکہ سلمان اکرم راجہ سطحی میدان برابر ہونے پر زور دیتے ہیں۔
تاہم، پارٹی کی بنیادی پوزیشن عمران خان کی رہائی، ملاقاتوں کی بحالی اور جمہوری حقوق پر متفق ہے۔ 2025 میں پارلیمانی پارٹی اجلاسوں میں بھی کچھ تناؤ کی اطلاعات ملیں، لیکن قیادت نے اتحاد کا پیغام دیا۔ یہ اختلافات اگر بڑھے تو پارٹی کی سیاسی طاقت پر اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر 2026 میں ممکنہ سیاسی سرگرمیوں کے تناظر میں۔
پاکستان کی سیاسی صورتحال پر اثرات
یہ معاملہ پاکستان کی موجودہ سیاسی کشیدگی کا عکاس ہے۔ پی ٹی آئی مسلسل احتجاج اور مذاکرات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جنوری 2026 کے آغاز میں یہ بیانات پارٹی کی حکمت عملی، اتحاد اور حکومتی پالیسیوں پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملاقاتوں کی پابندیاں سیاسی دباؤ کا حصہ ہو سکتی ہیں، جو ملک میں جمہوری عمل کو متاثر کر رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ یہ پابندیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں اور ان کا خاتمہ ضروری ہے تاکہ پارٹی اپنی سیاسی سرگرمیاں بحال کر سکے۔ آنے والے مہینوں میں یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے اگر ملاقاتیں بحال نہ ہوں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سلمان اکرم راجہ نے تردید کیوں کی؟
سلمان اکرم راجہ نے اسے پارٹی مؤقف کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ "بھیک” کا لفظ غیر مناسب ہے، پارٹی حقوق کا مطالبہ کر رہی ہے۔
عمران خان سے ملاقاتیں کیوں روکی جا رہی ہیں؟
حکومتی موقف سیکیورٹی اور جیل رولز کا ہے جبکہ پی ٹی آئی اسے سیاسی دباؤ قرار دیتی ہے۔
کیا پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات ہیں؟
بعض بیانات میں تضاد نظر آتا ہے لیکن پارٹی بنیادی مسائل پر متحد ہے۔
جنوری 2026 میں ملاقاتوں کی صورتحال کیا ہے؟
پابندیاں جاری ہیں اور پارٹی احتجاج کر رہی ہے۔
پی ٹی آئی کا اگلا قدم کیا ہو سکتا ہے؟
پارٹی ملاقاتوں کی بحالی اور مذاکرات کے لیے دباؤ بڑھا سکتی ہے۔
نتیجہ
سلمان اکرم راجہ کی تردید سے پارٹی نے اپنا متحد مؤقف واضح کیا ہے کہ وہ کسی صورت "بھیک” نہیں مانگ رہے بلکہ اپنے قانونی اور آئینی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ تنازع پی ٹی آئی کی جدوجہد کو مزید نمایاں کرتا ہے اور آنے والے دنوں میں سیاسی منظر نامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کو چاہیے کہ بیانات میں احتیاط کریں تاکہ اتحاد برقرار رہے اور سیاسی مخالفین کو فائدہ نہ ہو۔
آپ کا خیال کیا ہے؟ کمنٹس میں بتائیں کہ کیا پی ٹی آئی کو مذاکرات پر زور دینا چاہیے یا احتجاج جاری رکھنا؟ اپنی رائے شیئر کریں اور مضمون کو دوستوں کے ساتھ شیئر کریں!
تازہ ترین سیاسی اپ ڈیٹس اور نوٹیفکیشنز کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں – ابھی سبسکرائب کریں اور کبھی کوئی خبر مس نہ کریں!
All discussed information is published through public reports.