علیمہ خان کے نام موجود جائیداد کی تفصیلات عدالت میں پیش، دسویں بار وارنٹ بھی جاری

علیمہ خان

راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت میں پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی۔ علیمہ خان اور ان کے وکلا کی مسلسل غیر حاضری پر عدالت نے دسویں بار ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ پنجاب ریونیو بورڈ نے 38 اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کی رپورٹ پیش کی، جس میں علیمہ خان کے نام پر پنجاب کے مختلف اضلاع میں 338 کنال اراضی کی تفصیلات درج ہیں۔ دوران سماعت پراسیکیوٹر نے جائیداد کی سیل کی استدعا کی، جبکہ عدالتی حکم پر ان کے 37 بینک اکاؤنٹس فریز کیے جا چکے ہیں، اور مزید 16 اکاؤنٹس فریز کرنے کے احکامات جاری ہوئے۔ مقدمہ 29 نومبر تک ملتوی کر دیا گیا۔

علیمہ خان جائیداد کیس: عدالت کی تازہ کارروائی

علیمہ خان جائیداد کیس میں راولپنڈی کی انسداد دہشتگردی عدالت نے سخت موقف اپنایا۔ علیمہ خان کی مسلسل غیر حاضری (دسویں مرتبہ) پر:

  • ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری۔
  • پراسیکیوٹر ظہیر شاہ کی استدعا پر جائیداد سیل کی تجویز۔
  • 37 بینک اکاؤنٹس فریز، مزید ایک نجی بینک کے 15 اور دوسرے بینک کا ایک اکاؤنٹ فریز کرنے کا حکم۔

یہ مقدمہ تھانہ صادر آباد میں انسداد دہشتگردی دفعات کے تحت درج ہے، جہاں علیمہ خان پر دسویں بار وارنٹ جاری کے الزامات میں جلاؤ گھیراؤ، سرکاری کام میں مداخلت، اور کارکنوں کو پرتشدد احتجاج پر اکسانے کا ذکر ہے۔

عدالت میں جائیداد کی تفصیلات

پنجاب ریونیو بورڈ کی 38 اضلاع کی رپورٹ میں علیمہ خان کی جائیداد کی تفصیلات پیش کی گئیں، جو جائیداد کی پیش کردہ تفصیلات کا مکمل جائزہ فراہم کرتی ہیں۔ کل 338 کنال اراضی پنجاب کے 4 اضلاع میں درج ہے:

ضلع/موضعاراضی کی مقدار
بھکر51 کنال 16 مرلے
لاہور (میاں موضع میر)1 کنال 4 مرلے
نور پور کمبواں (لاہور)1 کنال
رائے ونڈ (سلطان)64 کنال 14 مرلے
میانوالی217 کنال 5 مرلے
بازار شیخوپورہ4 کنال 13 مرلے
کل (4 اضلاع)338 کنال

یہ تفصیلات عدالت میں جائیداد کی تفصیلات کو واضح کرتی ہیں، جہاں میانوالی میں سب سے زیادہ اراضی (217 کنال) درج ہے۔

علیمہ خان وارنٹ: مقدمے کی تاریخی پس منظر

علیمہ خان وارنٹ کا سلسلہ مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے جاری ہے۔ 26 نومبر 2024 کے احتجاج سے متعلق یہ مقدمہ PTI کی سیاسی سرگرمیوں کا حصہ ہے، جہاں:

  • 11 ملزمان شامل، جن میں علیمہ خان مرکزی کردار۔
  • الزامات: پرتشدد احتجاج کی حوصلہ افزائی، جلاؤ گھیراؤ۔
  • اب تک 10 وارنٹ جاری، جو قانونی کارروائی کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔

ہائی پروفائل کیس پاکستان میں یہ مقدمہ PTI کے خاندان پر قانونی دباؤ کا عکاس ہے۔

پاکستانی عدالتیں: اثاثوں کی جانچ پڑتال کا عمل

پاکستانی عدالتیں میں جائیداد کیسز کا حل قانونی کارروائی کے ذریعے ہوتا ہے۔ اس کیس میں:

  • ریونیو بورڈ کی رپورٹ: 38 اضلاع سے جمع۔
  • بینک اکاؤنٹس فریز: 37 موجودہ، 16 نئے۔
  • جائیداد سیل کی استدعا: غیر حاضری پر ممکن۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس (17 نومبر 2025): عدالت نے وارنٹ نافذ کرنے کے لیے پولیس کو ہدایات دیں۔

سیاسی اثاثوں کیسز: کیا ہو سکتا ہے آگے؟

سیاسی رہنماؤں کے اثاثے جیسے کیسز میں عدالتیں شفافیت کو یقینی بناتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق:

  • 70% ہائی پروفائل کیسز میں اثاثوں کی رپورٹس کلیدی ثبوت بنتی ہیں۔
  • PTI کے دیگر رہنماؤں کے کیسز میں بھی جائیداد ضبطی ہوئی۔

یہ کیس علیمہ خان کی جائیداد کی مالیت (تقریباً 5 کروڑ روپے، مارکیٹ ریٹ پر) کو متاثر کر سکتا ہے۔

آپ کا خیال کیا ہے؟ (انٹرایکٹو پول)

کیا علیمہ خان کی جائیداد سیل ہونی چاہیے؟

  • ہاں، قانون کی حکمرانی کے لیے
  • نہیں، سیاسی انتقام ہے
  • صرف غیر حاضری ختم ہونے پر
  • کوئی رائے نہیں

نیچے کمنٹ میں اپنی رائے ضرور دیں!

یہ بھی پڑھیں: محمد رضوان نے ون ڈے کرکٹ میں اہم سنگ میل عبور کرلیا

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

علیمہ خان کی کل جائیداد کتنی ہے؟

پنجاب کے 4 اضلاع میں 338 کنال اراضی، تفصیلات رپورٹ میں درج۔

وارنٹ کیسے نافذ ہوتا ہے؟

پولیس گرفتاری کے لیے متحرک ہوتی ہے، ضمانت ممکن اگر پیش ہوں۔

مقدمہ کیسے درج ہوا؟

26 نومبر احتجاج پر انسداد دہشتگردی دفعات کے تحت، جلاؤ گھیراؤ الزام۔

آخری الفاظ: اب آپ کی باری!

یہ کیس ہائی پروفائل کیس پاکستان کا اہم موڑ ہے، جو سیاسی اور قانونی ذمہ داری پر روشنی ڈالتا ہے۔ کیا علیمہ خان پیش ہوں گی؟

ابھی کمنٹ کریں، اپنی رائے دیں، اور یہ خبر اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں!

ہمارا WhatsApp چینل جوائن کریں – تازہ ترین عدالتی اپ ڈیٹس، لائیو کوریج، اور خصوصی تجزیے آپ کے فون پر فوری دستیاب! بائیں جانب گرین WhatsApp بٹن پر کلک کریں اور سبسکرائب کریں – بالکل مفت، اور کبھی کوئی بریکنگ نیوز miss نہ کریں!

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے