بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عدلیہ کی آزادی پر سنگین سوال اٹھایا اور کہا کہ اگر عدلیہ واقعی آزاد ہوتی تو عمران خان جیل میں نہ ہوتے۔ یہ بیان پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں عدلیہ کی آزادی، سیاسی مقدمات اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے ایک اہم موڑ ہے۔ علیمہ خان نے اپنے خلاف مقدمے کو سیاسی انتقام قرار دیا اور کہا کہ ان کی سزا پہلے سے طے شدہ ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر 2024 کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں علیمہ خان کی بریت کی درخواست مسترد کر دی، جو اس بیان کی فوری پس منظر فراہم کرتا ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف پی ٹی آئی کی جدوجہد بلکہ ملک میں جمہوری حقوق اور عدالتی آزادی کی بحث کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
علیمہ خان کا عدلیہ پر سخت بیان
علیمہ خان نے عدالت کے باہر میڈیا ٹاک میں کھل کر بات کی اور کہا کہ "عدلیہ آزاد ہوتی تو بانی پی ٹی آئی عمران خان جیل میں نہ ہوتے”۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کے خلاف سزا پہلے سے لکھی جا چکی ہے اور اگر اس کیس میں نہ ملی تو کسی اور کیس میں ضرور دے دی جائے گی۔ علیمہ خان نے کہا کہ ٹی وی چینلز پر حکومتی عہدے دار کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ انہیں ایک ماہ میں سزا مل جائے گی، جبکہ جج صاحبان انہی عہدے داروں کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس بھی نہیں لے سکتے۔ یہ بات عدلیہ کی آزادی پر براہ راست سوال اٹھاتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک سال گزر گیا ہے مگر اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی اپیل اب تک نہیں لگائی گئی۔ 8 جنوری 2026 کو عدالت کی چھٹیاں ختم ہونے پر وہ خود ہائی کورٹ کے باہر بیٹھیں گی اور احتجاج کریں گی۔ علیمہ خان نے جھوٹے مقدمات سے نہ ڈرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ یہ ڈرے ہوئے لوگ ہیں جنہوں نے عوام کا ووٹ چوری کیا اور اب عدلیہ اور قانون کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔
26 نومبر احتجاج کی کال اور اس کا پس منظر
علیمہ خان نے واضح کیا کہ 26 نومبر 2024 کی احتجاج کی کال بانی پی ٹی آئی نے 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ترمیم کے ذریعے صرف 17 سیٹوں والی جماعت کو اقتدار میں بٹھایا گیا اور عوام کا حق حکمرانی ختم کر دیا گیا۔ ترمیم سے مرضی کے ججز لگا کر سیاسی مخالفین کو سزائیں دینے کا راستہ کھول دیا گیا۔ احتجاج قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے تھا، مگر اب اسی احتجاج کی بنیاد پر مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔
علیمہ خان پر الزام ہے کہ انہوں نے جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد ان کا پیغام عوام تک پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کے ذریعے پرامن احتجاج کا پیغام دینا کوئی جرم نہیں، بلکہ جمہوری اور آئینی حق ہے۔ ان پر چارجز صرف اس بات کے لگائے گئے کہ وہ عمران خان کا پیغام پارٹی کارکنوں اور عوام تک پہنچا رہی تھیں۔ یہ بیان سیاسی مقدمات کی ایک واضح مثال پیش کرتا ہے۔
انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ اور دلائل
انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے علیمہ خان کی بریت کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے پراسیکیوٹر کے دلائل سے اتفاق کیا کہ احتجاج کے دوران ایک پولیس اہلکار شہید ہوا، 170 زخمی ہوئے، ملک بھر میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں اور کے پی سے مسلح جتھے پنجاب لائے گئے۔ پراسیکیوٹر نے علیمہ خان کی پرانی میڈیا ٹاکس کا ٹرانسکرپٹ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ احتجاج پرامن نہیں تھا کیونکہ ملزمان خود مان رہے تھے کہ این او سی ہو یا نہ ہو، وہ احتجاج کریں گے۔
دوسری طرف وکیل صفائی فیصل ملک نے کہا کہ علیمہ خان کا قصور صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی سے ملاقات کی اور پرامن احتجاج کا پیغام دیا۔ پرامن احتجاج کو آئین تحفظ دیتا ہے۔ مقدمے میں نہ تو میڈیا چینلز کو گواہ بنایا گیا اور نہ جیل ملاقات کی گفتگو کے گواہ موجود ہیں۔ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی شقیں ان الزامات پر فٹ نہیں بیٹھتیں۔ وکیل نے کہا کہ یہ خالص سیاسی انتقامی کارروائی ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد بریت کی درخواست خارج کر دی۔
عمران خان کی جیل اور ملاقاتوں کی صورتحال
علیمہ خان نے بتایا کہ 6 جنوری 2026 کو اڈیالہ جیل میں فیملی ملاقات کا دن ہے۔ وہ ایک بجے جیل کے باہر پہنچیں گی اور ڈیڑھ بجے شہدا اور غیر قانونی گرفتار افراد کی روحوں کے ایصال ثواب کے لیے سورہ یاسین ختم کیا جائے گا۔ اگر ملاقات کی اجازت نہ ملی تو وہ اور ان کی بہنیں روڈ پر بیٹھ کر انتظار کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اڈیالہ جیل کے باہر واٹر کینن چلائے جاتے ہیں، مگر وہ پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں ہیں اور پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود ملاقاتیں روکی جا رہی ہیں۔ یہ پابندیاں پارٹی کی سیاسی حکمت عملی پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں کیونکہ عمران خان سے براہ راست مشاورت ممکن نہیں۔
پرامن جدوجہد کو عبادت قرار دینا
علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی کے حوالے سے کہا کہ "جہدوجہد عبادت ہے” اور وہ عبادت سمجھ کر پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد انہیں خاموش کرانا ہے، مگر وہ کھڑے رہیں گے۔ ووٹ کی چوری پر آرٹیکل 6 لگتا ہے، مگر یہ لوگ مینڈیٹ چوری کر کے اقتدار میں بیٹھے ہیں۔ پنجاب حکومت بھی چوری شدہ مینڈیٹ پر قائم ہے اور ڈری ہوئی ہے۔
یہ بیان پی ٹی آئی کی موجودہ حکمت عملی کو واضح کرتا ہے کہ پارٹی پرامن اور آئینی راستے پر جدوجہد جاری رکھے گی۔ 8 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
پاکستان میں عدلیہ کی آزادی کی بحث
پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ کی آزادی بار بار موضوع بحث رہی ہے۔ 2007 کے جوڈیشل بحران سے لے کر حالیہ آئینی ترامیم تک، عدلیہ پر سیاسی دباؤ کے الزامات عام رہے ہیں۔ علیمہ خان کا بیان اس بحث کو نئی شدت دیتا ہے کہ مرضی کے ججز کی تقرری سے سیاسی کیسز میں فیصلے متاثر ہو رہے ہیں۔ سیاسی مقدمات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جو جمہوریت کے لیے خطرہ ہے۔
پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ عدلیہ کی آزادی کے بغیر قانون کی حکمرانی ممکن نہیں۔ علیمہ خان نے کہا کہ وہ آئین و قانون کا راستہ نہیں چھوڑیں گی، چاہے کتنی بھی مشکلات آئیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
علیمہ خان نے عدلیہ کی آزادی پر کیا کہا؟
انہوں نے کہا کہ عدلیہ آزاد ہوتی تو عمران خان جیل میں نہ ہوتے اور ان کے خلاف سزا طے شدہ ہے۔
26 نومبر احتجاج کی کال کس لیے تھی؟
26ویں آئینی ترمیم کے خلاف، جو عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرتی ہے۔
عدالت نے علیمہ خان کی بریت کی درخواست کیوں مسترد کی؟
پراسیکیوٹر کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے کہ احتجاج پرامن نہیں تھا۔
پی ٹی آئی کی جدوجہد کا طریقہ کیا ہے؟
پرامن اور آئینی جدوجہد، جو بانی کے مطابق عبادت ہے۔
عمران خان کی اپیل کی کیا صورتحال ہے؟
ایک سال سے ہائی کورٹ میں نہیں لگ رہی۔
علیمہ خان کا اگلا احتجاج کب ہے؟
8 جنوری 2026 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر۔
نتیجہ
علیمہ خان کا یہ بیان عدلیہ کی آزادی، سیاسی مقدمات اور پرامن جدوجہد کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ اگر عدلیہ آزاد ہوتی تو عمران خان جیل میں نہ ہوتے، یہ جملہ موجودہ سیاسی صورتحال کا خلاصہ ہے۔ پی ٹی آئی قانون کی حکمرانی اور جمہوری حقوق کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ یہ معاملہ ملک میں سیاسی مفاہمت اور عدالتی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتا ہے تاکہ واقعی انصاف کا بول بالا ہو۔
آپ کا خیال کیا ہے؟ کیا عدلیہ پاکستان میں مکمل طور پر آزاد ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے شیئر کریں اور مضمون کو دوستوں کے ساتھ شیئر کریں!
تازہ ترین سیاسی اپ ڈیٹس اور نوٹیفکیشنز کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں – ابھی سبسکرائب کریں اور کبھی کوئی خبر مس نہ کریں!
نوٹ: یہ آرٹیکل عوامی رپورٹس اور دستیاب خبروں پر مبنی ہے۔ سیاسی شخصیات سے متعلق معلومات کی تصدیق عوامی ذرائع سے کریں۔ All discussed information is published through public reports.