عابدہ پروین کی وفات کی خبریں جھوٹی، بیٹی نے تصدیق کردی

عابدہ پروین

معروف پاکستانی صوفی گلوکارہ عابدہ پروین پاکستان کی عالمی شہرت یافتہ فنکارہ ہیں جو صوفی موسیقی کی ملکہ کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ ان کی گائیکی نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں لاکھوں مداحوں کو متاثر کیا ہے۔ حال ہی میں سوشل میڈیا پر ان کی وفات کی افواہیں تیزی سے پھیلنے سے مداحوں میں شدید تشویش پیدا ہوگئی تھی۔ تاہم یہ خبریں مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ثابت ہوئی ہیں۔ عابدہ پروین زندہ ہیں اور بالکل خیریت سے ہیں۔

افواہوں کی ابتدا اور تردید

عابدہ پروین کی بیٹی نے ان افواہوں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کی والدہ بالکل صحت مند اور خیریت سے ہیں۔ بیٹی کے بیان کے مطابق، لاہور کے علاقے دلگران چوک میں ایک خاتون کا انتقال ہوا تھا جن کا نام بھی عابدہ پروین تھا۔ نام کی یہ مماثلت ہی غلط فہمی کی بنیادی وجہ بنی۔ انہوں نے کہا کہ عابدہ پروین وفات کی خبریں سراسر جھوٹی ہیں اور ان کا پھیلاؤ مداحوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ خاندان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں اور فنکارہ کی نجی زندگی کا احترام کیا جائے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب عابدہ پروین کے بارے میں ایسی افواہیں پھیلی ہوں۔ گذشتہ برسوں میں بھی ان کی صحت سے متعلق غلط خبریں گردش کرتی رہی ہیں، جنہیں ہر بار خاندان یا ٹیم نے مسترد کیا ہے۔ مثال کے طور پر، وہیل چیئر پر ان کی تصاویر وائرل ہونے پر صحت کی خرابی کی افواہیں اڑیں، لیکن ٹیم نے وضاحت کی کہ یہ روٹین چیک اپ کی پرانی تصاویر تھیں۔

افواہوں کا مداحوں پر اثر

سوشل میڈیا پر عابدہ پروین انتقال کی افواہوں نے ملک بھر اور بیرون ملک مداحوں میں شدید پریشانی پیدا کی۔ لاکھوں لوگوں نے دعائیں کیں اور سوگوار پیغامات شیئر کیے۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا کی طاقت اور خطرے دونوں کو اجاگر کرتا ہے کہ کس طرح نام کی مماثلت یا غلط معلومات چند لمحوں میں وائرل ہو جاتی ہیں۔ خاندان نے میڈیا سے بھی درخواست کی کہ غیر مصدقہ خبریں شائع کرنے سے گریز کریں تاکہ فنکاروں کی نجی زندگی متاثر نہ ہو۔

عابدہ پروین کی زندگی اور خدمات

عابدہ پروین 20 فروری 1954 کو سندھ کے شہر لاڑکانہ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد استاد غلام حیدر نے کم عمری میں ہی موسیقی کی تربیت دی۔ وہ صوفی کلام کی ایسی گلوکارہ ہیں جن کی آواز سن کر روح کو سکون ملتا ہے۔ انہوں نے سندھی، اردو، فارسی، پنجابی اور سرائیکی زبانوں میں کلام پیش کیے۔ ان کے مشہور کلاموں میں "من کنتو مولا”، "تیرے عشق نچایا”، "یا ر کو ہم نے جباجا دیکھا”، "حضور آئے ہیں” اور "چھاپ تلک سب چھینی” شامل ہیں۔

عابدہ پروین نے کوک اسٹوڈیو میں بھی شاندار پرفارمنس دیں، جہاں ان کی "تو جھوم” جیسی گائیکی نے نئی نسل کو متاثر کیا۔ انہیں حکومت پاکستان سے پرائیڈ آف پرفارمنس، ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز اور نشان امتیاز جیسے اعزازات مل چکے ہیں۔ وہ دنیا بھر میں صوفی موسیقی کی سفیر کے طور پر جانی جاتی ہیں اور ان کی پرفارمنسز لندن، دبئی، ابوظہبی سمیت کئی ممالک میں ہو چکی ہیں۔

ان کی گائیکی صرف موسیقی نہیں بلکہ روحانی تجربہ ہے۔ صوفی شاعروں جیسے شاہ عبداللطیف بھٹائی، بابا بلہے شاہ، سچل سرمست اور امیر خسرو کے کلام کو انہوں نے نئی زندگی دی۔ عابدہ پروین کی آواز میں ایک ایسی کشش ہے جو سننے والے کو مراقبہ کی حالت میں لے جاتی ہے۔ وہ نہ صرف گلوکارہ ہیں بلکہ نقاش اور کاروباری خاتون بھی ہیں۔

سوشل میڈیا پر افواہوں کا مسئلہ

آج کے دور میں سوشل میڈیا نے معلومات کی رسائی آسان بنا دی ہے، لیکن ساتھ ہی غلط معلومات کا پھیلاؤ بھی بڑھ گیا ہے۔ عابدہ پروین جیسی شخصیات کے بارے میں بار بار ایسی افواہیں اڑنا یہ بتاتی ہیں کہ ہمیں خبر کی تصدیق کرنی چاہیے۔ معتبر ذرائع جیسے آفیشل اکاؤنٹس، معروف نیوز چینلز یا خاندان کے بیانات پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔

افواہوں سے بچنے کے مشورے

  • خبر پڑھنے کے بعد اس کی تصدیق کریں۔
  • آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس چیک کریں۔
  • نام کی مماثلت پر فوری ردعمل نہ دیں۔
  • غلط خبر شیئر کرنے سے گریز کریں، کیونکہ یہ دوسروں کو تکلیف دیتا ہے۔
  • معتبر نیوز ویب سائٹس یا چینلز سے معلومات حاصل کریں۔

عابدہ پروین کی حالیہ سرگرمیاں

عابدہ پروین اپنے مداحوں کے لیے دعاؤں کی طلبگار ہیں۔ ان کی آواز آج بھی دلوں کو چھوتی ہے اور وہ صوفی موسیقی کی روشن شمع ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

عابدہ پروین کی وفات کی خبریں کیوں پھیلیں؟

نام کی مماثلت کی وجہ سے۔ لاہور میں ایک دوسری خاتون عابدہ پروین کا انتقال ہوا، جسے غلطی سے گلوکارہ سے جوڑ دیا گیا۔

عابدہ پروین زندہ ہیں؟

جی ہاں، عابدہ پروین alive اور بالکل صحت مند ہیں۔ ان کی بیٹی اور خاندان نے تصدیق کی ہے۔

عابدہ پروین کی عمر کتنی ہے؟

وہ 71 سال کی ہیں (پیدائش 20 فروری 1954)۔

عابدہ پروین کو کون سے اعزازات ملے؟

پرائیڈ آف پرفارمنس، ستارہ امتیاز، ہلال امتیاز اور نشان امتیاز۔

عابدہ پروین کا مشہور کلام کون سا ہے؟

"من کنتو مولا”، "تیرے عشق نچایا”، "تو جھوم” وغیرہ۔

کیا عابدہ پروین کی صحت کے مسائل ہیں؟

گذشتہ برسوں میں دل کا دورہ اور دیگر مسائل رہے، لیکن حالیہ افواہیں بے بنیاد ہیں۔

مداحوں کو کیا کرنا چاہیے؟

مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور افواہوں کو نہ پھیلائیں۔

یہ خبر مداحوں کے لیے خوشخبری ہے کہ ان کی پسندیدہ گلوکارہ بالکل ٹھیک ہیں۔ عابدہ پروین کی آواز ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔ آپ کیا سوچتے ہیں؟ کمنٹس میں بتائیں کہ عابدہ پروین کا کون سا کلام آپ کو سب سے زیادہ پسند ہے، اور اس آرٹیکل کو شیئر کریں تاکہ غلط افواہیں رک سکیں!

ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں تاکہ تازہ ترین خبروں کی نوٹیفکیشنز بروقت ملیں – یہ آسان، تیز اور قابل اعتماد طریقہ ہے اپ ڈیٹ رہنے کا!

Disclaimer: All discussed information is based on public reports; verify independently before any action.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے