ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا کیس: سہیل آفریدی آج الیکشن کمیشن میں طلب، کیا ہوگا فیصلہ؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کو انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے الزام میں ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ یہ نوٹس ہری پور ضمنی انتخابات کے دوران مبینہ غیر ذمہ دارانہ بیانات پر مبنی ہے، جہاں سہیل آفریدی نے الیکشن عملہ کو دھاندلی سے روکنے کی تلقین کی تھی۔ کمیشن نے عبوری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے وکیل علی بخاری کی پیشی قبول کی گئی، لیکن ذاتی پیشی سے استثنا صرف ایک دن کے لیے منظور ہوا۔ اگلی سماعت آج 25 نومبر 2025 کو دوپہر 12 بجے ہوگی۔

اس معاملے کی اہمیت اس لیے ہے کہ یہ سیاسی ضابطہ اخلاق کیس کی ایک اہم کڑی ہے، جو صوبائی حکومتوں کی انتخابی عمل میں مداخلت کو اجاگر کرتی ہے۔ ای سی پی کی یہ کارروائی الیکشن کمیشن طلبی کے تحت آتی ہے، جو ماضی میں بھی کئی سیاسی رہنماؤں کے خلاف استعمال ہوئی ہے۔

کیس کی تفصیلات: کیا ہوا تھا ہری پور میں؟

ہری پور ضمنی انتخاب میں سہیل آفریدی کے بیان نے تنازع کھڑا کر دیا۔ انہوں نے عوامی جلسے میں کہا کہ "دھاندلی کی کوشش کی تو سخت کارروائی ہوگی”، جسے ای سی پی نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ یہ بیان الیکشن کمیشن پاکستان کی ہدایات کے برعکس تھا، جو سیاسی رہنماؤں کو عملہ پر دباؤ ڈالنے سے روکتی ہے۔

  • اہم حقائق:
    • نوٹس 20 نومبر 2025 کو جاری ہوا۔
    • استثنا کی درخواست منظور، مگر صرف 24 گھنٹوں کے لیے۔
    • سماعت کا مقام: اسلام آباد، ای سی پی ہیڈ کوارٹرز۔

اس کیس میں عوامی ردعمل بھی شدید ہے۔ سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ #سہیل_آفریدی اور #الیکشن_کمیشن ٹرینڈ کر رہے ہیں، جہاں PTI حامی انہیں "شفافیت کا علمبردار” قرار دے رہے ہیں، جبکہ مخالفین اسے "دھمکی” کہہ رہے ہیں۔

پشاور ہائی کورٹ کا کردار: سماعت کی تازہ ترین

دوسری جانب، پشاور ہائی کورٹ (PHC) نے سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن طلبی کے خلاف درخواست کو سماعت کے لیے منظور کر لیا۔ جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل بنچ آج اس کی سماعت کرے گا۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ:

  • وزیراعلیٰ کو طلب کرنا غیر قانونی ہے، کیونکہ یہ صوبائی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔
  • نوٹس منسوخ کیا جائے اور ای سی پی کو مزید کارروائی سے روکا جائے۔

یہ سماعت سیاسی ضابطہ اخلاق کیس کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ اگر عدالت استثنا دے تو ای سی پی کی کارروائی رک جائے گی، ورنہ سہیل آفریدی کو ذاتی طور پر پیش ہونا پڑے گا۔ ماضی کے کیسز، جیسے 2023 کے جنرل الیکشن میں PTI رہنماؤں کے خلاف، سے سبق لیا جائے تو ممکن ہے کہ جرمانہ یا عارضی معطلی کا حکم آئے۔

ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی: قانونی پس منظر اور اثرات

انتخابی ضابطہ اخلاق پاکستان (Code of Conduct) ایک دستاویز ہے جو سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور حکومتی عہدیداروں کو انتخابی عمل میں غیر جانبداری یقینی بنانے کا حکم دیتی ہے۔ اس کی خلاف ورزی پر ای سی پی کو طاقت دی گئی ہے کہ وہ نوٹس جاری کرے، سماعت کرے اور سزا دے، جیسے:

  • ممکنہ سزائیں:
    • جرمانہ (50,000 روپے تک)۔
    • انتخابی مہم روکنا۔
    • عہدے سے برطرفگی (شدید کیسز میں)۔

سہیل آفریدی کا کیس ضابطہ اخلاق کارروائی کا ایک مثال ہے، جو PTI کی صوبائی حکومت کی انتخابی شفافیت کی پالیسی کو چیلنج کرتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، 2024 کے ضمنی انتخابات میں ای سی پی نے 150 سے زائد خلاف ورزیوں پر نوٹس جاری کیے، جن میں سے 60% سیاسی رہنماؤں سے متعلق تھیں۔

یہ بھی پڑھیں : سرکاری مکانوں میں رہائش پذیر یا منتظر وفاقی ملازمین کیلئے اہم خبر: تبدیلی کا نیا حکم نافذ ہو گیا

یہ معاملہ خیبر پختونخوا کی سیاسی استحکام پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب PTI مرکز کے ساتھ تنازعات میں ہے۔

کیا ہو سکتا ہے آج کا نتیجہ؟ تجزیاتی نظر

تجزیہ کاروں کے مطابق، ای سی پی کی سماعت میں سہیل آفریدی کو دفاع کا موقع ملے گا، جہاں وہ بیان کو "شفافیت کی اپیل” کہہ سکتے ہیں۔ تاہم، اگر عدالت کی سماعت میں طلبی منسوخ نہ ہوئی تو سیاسی دباؤ بڑھ جائے گا۔

  • مثالیں ماضی سے:
    • 2018 میں مریم نواز کا کیس: نوٹس پر عدالت نے استثنا دیا۔
    • 2023 میں بلاول بھٹو: جرمانہ ادا کر کے کیس ختم۔

یہ کیس الیکشن کمیشن پاکستان کی آزادی کو بھی ٹیسٹ کرے گا۔

FAQs: سہیل آفریدی کیس کے بارے میں جاننے کے لیے

س: الیکشن کمیشن کی طلب کا مطلب کیا ہے؟

ج: یہ ذاتی پیشی کا حکم ہے، جہاں الزامات کا جواب دینا پڑتا ہے۔ خلاف ورزی ثابت ہونے پر سزا ہو سکتی ہے۔

س: کیا وزیراعلیٰ کو برطرف کیا جا سکتا ہے؟

ج: ہاں، شدید خلاف ورزی پر، لیکن یہ نایاب ہے۔ عام طور پر جرمانہ یا وارننگ دی جاتی ہے۔

س: پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کب آنے کا امکان؟

ج: آج کی سماعت کے بعد، ممکنہ طور پر فوری یا چند دنوں میں۔

س: یہ کیس PTI کی سیاسی حکمت عملی کو کیسے متاثر کرے گا؟

ج: یہ ان کی "شفاف الیکشن” کی مہم کو کمزور کر سکتا ہے، مگر عوامی حمایت برقرار رکھنے کا موقع بھی دے گا۔

انٹرایکٹو پول: آپ کا کیا خیال ہے؟

کیا سہیل آفریدی کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مجرم سمجھا جائے؟

  • ہاں، بیان دھمکی تھا۔
  • نہیں، یہ شفافیت کی کوشش تھی۔ (تبصرے میں ووٹ دیں اور وجہ بتائیں!)

کال ٹو ایکشن

اس دلچسپ کیس پر آپ کے خیالات کیا ہیں؟ کمنٹس میں شیئر کریں، دوستوں کے ساتھ پوسٹ کریں، اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں – نوٹیفکیشن پاپ اپ کے ذریعے فوری الرٹس حاصل کریں اور سیاسی خبریں مس نہ کریں! مزید پڑھیں: PTI کی تازہ ترین خبروں پر۔

Disclaimer: The information provided is based on public reports. Please verify before taking any actions.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے