پاکستان کی سینئر ہدایتکارہ اور پروڈیوسر سنگیتا نے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کر کے ڈرامہم انکشاف کیا کہ ان کے زیرِ ہدایت ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران اداکارہ صائمہ نور کو 2 گھنٹے تک یرغمال بنائے رکھا گیا۔ واقعہ 10 دسمبر 2025 کو راوی کے قریب شوٹنگ سائٹ پر پیش آیا جب سنگیتا طبیعت کی خرابی کی وجہ سے سیٹ سے چلی گئی تھیں۔ اس دوران احمد جہانگیر بلوچ نامی شخص اپنے 8 ساتھیوں سمیت اسلحہ لہراتھا سیٹ پر داخل ہوا اور فنکاروں کو ہراساں کیا۔
واقعے کی مکمل تفصیلات
سنگیتا کے مطابق:
- احمد جہانگیر بلوچ خود کو ڈرامے کا پروڈیوسر قرار دیتا ہے اور 2 کروڑ 40 لاکھ روپے سرمایہ کاری کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن اس کے پاس کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں۔
- ڈرامے کی اصل پروڈیوسر اور ڈائریکٹر سنگیتا خود ہیں جبکہ شریک پروڈیوسر طارق مہندرو ہیں۔
- نعمان اعجاز نے اسی تنازع کی وجہ سے پروجیکٹ چھوڑ دیا تھا، اب ان کے بیٹے نے کاسٹ جوائن کر لی ہے۔
واقعے کے روز:
- 8 مسلح افراد نے سیٹ پر توڑ پھوڑ کی۔
- تمام فنکاروں کو دھمکی دی گئی کہ کوئی سیٹ سے نہ جائے ورنہ نقصان کا ذمہ دار خود ہوگا۔
- صائمہ نور کو خاص طور پر کہا گیا کہ وہ احمد جہانگیر کی اجازت کے بغیر سیٹ نہیں چھوڑ سکتیں، بصورتِ دیگر ہتھکڑیاں لگائی جائیں گی۔
- صائمہ نور نے بہادری دکھائی اور سیٹ نہیں چھوڑا، وہ تقریباً 2 گھنٹے تک یرغمال رہیں۔
- پولیس کے پہنچنے سے پہلے تمام ملزم فرار ہوگئے۔
پریس کانفرنس میں سید نور نے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم معاشرے کو انٹرٹینمنٹ دیتے ہیں لیکن ہمیں تکلیفیں ملتی ہیں۔ اگر آئندہ کسی خاتون فنکارہ کے ساتھ ایسا ہوا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟
یہ بھی پڑھیں: جیل میں سینڈوچ بھی مجھ تک نہیں پہنچے، نہ جانے کون کھا گیا؟ ڈکی بھائی کی دلچسپ کہانی
سنگیتا اور ٹیم کا موقف
- سنگیتا: “50 سال کی محنت کے بعد بھی ہمیں ایسے لوگوں کا سامنا ہے جو جھوٹے دعووں سے ہراساں کرتے ہیں۔”
- کامران مجاہد: “8 افراد نے صائمہ کو 2 گھنٹے یرغمال بنائے رکھا، بڑی مشکل سے انہیں نکالا گیا۔”
- شیرا کوٹ تھانے میں ایف آئی آر درج ہو چکی ہے، تحقیقات جاری ہیں۔
صائمہ نور نے کیا کیا؟
صائمہ نور نے دھمکیوں کے باوجود سیٹ نہیں چھوڑا اور حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ ان کی اس بہادری کو سوشل میڈیا پر خوب سراہا جا رہا ہے۔
آپ کا خیال؟
- کیا ڈرامہ سیٹس پر مسلح سیکیورٹی ہونی چاہیے؟ (ہاں/نہیں)
- صائمہ نور کی بہادری آپ کو کیسے لگتی ہے؟
اپنا جواب کمنٹس میں ضرور بتائیں!
نتیجہ
یہ واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ تفریحی انڈسٹری میں خواتین فنکاروں کی حفاظت اب بھی بڑا مسئلہ ہے۔ سنگیتا اور صائمہ نور کی آواز تمام انڈسٹری کے لیے ایک انتباہ بھی ہے اور مطالبہ بھی کہ اب سخت اقدامات کا وقت آگیا ہے۔
کال ٹو ایکشن یہ خبر آپ کو کیسے لگی؟ کمنٹ کریں، شیئر کریں اور اپنے دوستوں کو بھی آگاہ کریں۔ تازہ ترین شو بیز اپ ڈیٹس اور بریکنگ نیوز کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل ابھی جوائن کریں – بائیں طرف سبز فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفکیشن آن کریں اور ہر اہم خبر سب سے پہلے آپ تک پہنچے گی۔ بالکل مفت!
Disclaimer: This information is based on public reports. Verify before taking any actions.