سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج جسٹس اطہر من اللہ نے 8 نومبر 2025 کو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو ایک اہم خط لکھا، جس میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ خط میں عدلیہ کی تاریخی ذمہ داریوں، بیرونی مداخلت اور عوامی حقوق کے تحفظ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس کی رہائی نے داخلی عدالتی معاملات اور آئینی تبدیلیوں پر ملک گیر بحث چھیڑ دی ہے۔
خط کا پس منظر: 27ویں آئینی ترمیم کیا ہے؟
مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کا مقصد پاکستان کے آئینی فریم ورک میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہے۔ اہم نکات میں وفاقی آئینی عدالت کا قیام، ہر صوبے کے ججوں کی مساوی نمائندگی، جوڈیشل کمیشن میں صدر کے اختیارات میں توسیع اور این ایف سی ایوارڈ میں تحفظات کا خاتمہ شامل ہیں۔ یہ ترمیم حکومتی اتحاد کی جانب سے پیش کی گئی ہے، جس نے سینیٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے، حالانکہ قومی اسمبلی سے منظوری ابھی باقی ہے۔ عدالتی ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تبدیلیاں سپریم کورٹ کی آزادی کو کمزور کر سکتی ہیں، خاص طور پر ججوں کی تقرری اور تبادلے میں انتظامی اثر و رسوخ میں اضافے سے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں جسٹس منصور علی شاہ کا خط بھی منظر عام پر آیا، جس میں مجوزہ ترمیم پر عدالتی اتحاد اور باضابطہ مشاورت کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔
جسٹس اطہر من اللہ کے خط کے اہم نکات
جسٹس اطہر من اللہ نے خط میں عدلیہ کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے کئی تلخ سچائیوں کو اجاگر کیا۔ ان کا موقف نہ صرف موجودہ ترمیم بلکہ ماضی کی عدالتی کارروائیوں پر بھی تنقید کرتا ہے۔ خط کے اہم نکات یہ ہیں:
- تاریخی جبر کا تسلسل: سپریم کورٹ اکثر طاقتور طبقات کے ساتھ کھڑی رہی ہے، عوامی حقوق کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی 1979 کی عدالتی پھانسی کو "عدلیہ کا ناقابل معافی جرم” قرار دیا گیا۔
- حالیہ مثالیں: بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف عدالتی کارروائیاں ظلم کی ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں، جب کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے ساتھ سلوک اس جاری ظلم کا حصہ ہے۔
- اسلام آباد ہائی کورٹ کو نشانہ بنانا: ہائی کورٹ کو عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے نشانہ بنایا گیا۔ بہادر ججوں کے خطوط اور اعترافات سپریم کورٹ کے ضمیر پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔
- کھلے سچ کی کمی: "ہم سچ جانتے ہیں لیکن چائے خانوں میں سرگوشیوں تک محدود ہیں۔” بیرونی مداخلت اب کوئی راز نہیں بلکہ کھلی حقیقت ہے۔
- انتقام کا کلچر: سچ بولنے والا جج انتقام کا نشانہ بن جاتا ہے۔ جو نہیں جھکتا اسے احتساب کے ہتھیار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
یہ نکات عدالتی آزادی اور احتسابی نظام کے بارے میں سوالات اٹھاتے ہیں، جسے 2007 کی ایمرجنسی کے بعد سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
عدالتی آزادی: تاریخی تناظر اور موجودہ چیلنجز
پاکستان کی عدلیہ نے ماضی میں کئی اہم موڑ دیکھے ہیں۔ 1973 کے آئین کے تحت سپریم کورٹ کو آئینی معاملات کا حتمی اختیار دیا گیا تھا لیکن سیاسی دباؤ نے اسے متاثر کیا ہے۔ مثال کے طور پر:
- ذوالفقار علی بھٹو کیس (1979): سپریم کورٹ کی 4-3 کی اکثریت نے سزائے موت کو برقرار رکھا، جو عدلیہ کی ساکھ پر ایک داغ بنی ہوئی ہے۔
- نواز شریف کی نااہلی (2017): پاناما کیس کے فیصلے نے سیاسی استحکام کو متاثر کیا۔
- عمران خان کی گرفتاری (2023): اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کی مبینہ مداخلت، جو اب 27ویں ترمیم کے تناظر میں دوبارہ سامنے آرہی ہے۔
موجودہ ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کا قیام سپریم کورٹ کے مرکزی کردار کو کمزور کر سکتا ہے، صوبائی توازن میں اضافہ لیکن عدالتی آزادی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی 1935 کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ سے بھی بڑی ہے۔
27ویں ترمیم کے ممکنہ اثرات
اس ترمیم سے نہ صرف عدلیہ بلکہ وفاقی ڈھانچہ بھی متاثر ہوگا۔ ممکنہ اثرات:
- ججوں کی تقرری: صدر کو جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کے تحت ہائی کورٹ کے ججوں کے تبادلے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔
- آئینی مقدمات: وفاقی عدالت کو آئینی معاملات پر ابتدائی سماعت کا حق ملتا ہے، جس سے سپریم کورٹ کا بوجھ کم ہوتا ہے لیکن کنٹرول میں اضافہ ہوتا ہے۔
- صوبائی حقوق: این ایف سی ایوارڈ کے تحفظات کو ہٹانا، جو مالی تنازعات کا باعث بن سکتا ہے۔
اگر عدلیہ متحد نہیں ہوئی تو اس کی آزادی اور فیصلے براہ راست متاثر ہوں گے، جیسا کہ جسٹس منصور علی شاہ نے خبردار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی کا اجلاس آج: 27ویں ترمیم منظوری کے لیے پیش کی جائے گی
سوالات اور جوابات (FAQs)
27ویں ترمیم کیسے منظور ہوگی؟
اس کی سینیٹ میں منظوری دی گئی ہے۔ اب قومی اسمبلی کی منظوری اور صدر کی منظوری درکار ہے۔
خط کا عدلیہ پر کیا اثر پڑے گا؟
یہ فل کورٹ میٹنگ کا مطالبہ کرتا ہے، جس کی حمایت 38 قانونی ماہرین کرتے ہیں۔
تاریخی غلطیوں سے کیسے بچا جائے؟
عدلیہ کو شفاف احتساب اور بیرونی مداخلت روکنے کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال کرنا چاہیے۔
آپ کیا سوچتے ہیں؟
کیا آپ کو یقین ہے کہ 27ویں ترمیم عدالتی آزادی کو مضبوط یا کمزور کرے گی؟ تبصروں میں اپنی رائے کا اشتراک کریں اور رائے شماری میں ووٹ دیں: "عدلیہ کو متحد ہونا چاہیے” یا "ترمیم ضروری ہے۔” یہ مضمون تازہ ترین رپورٹس پر مبنی ہے اور اس کا مقصد قومی بحث کو فروغ دینا ہے۔ مزید اپڈیٹس کے لیے ہمارے چینلز سے جڑے رہیں۔
کال ٹو ایکشن: کیا یہ خط عدالتی تاریخ بدل دے گا؟ تبصروں میں اپنے خیالات کا اشتراک کریں، دوستوں کے ساتھ اشتراک کریں، اور متعلقہ مضامین پڑھیں۔ فوری اطلاعات کے لیے، بائیں جانب تیرتے WhatsApp بٹن پر کلک کریں – ہمارے WhatsApp چینل میں شامل ہوں اور ہر اہم خبر پر فوری اپ ڈیٹ حاصل کریں! یہ مفت ہے اور آپ کی رائے کی قدر کرتا ہے۔