سندھ حکومت نے پاکستان کیخلاف بھارتی فلم دھرندھر کے جواب میں میرا لیاری فلم ریلیز کرنے کا اعلان کردیا

میرا لیاری فلم

سندھ کے سینئر صوبائی وزیر برائے اطلاعات و نشریات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے حال ہی میں ایک اہم اعلان کیا ہے۔ انہوں نے بھارتی فلم دھرندھر کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فلم خاص طور پر کراچی کے تاریخی علاقے لیاری کو منفی طور پر پیش کرتی ہے۔ اس کے جواب میں سندھ حکومت اگلے ماہ جنوری 2026 میں فلم ‘میرا لیاری’ ریلیز کرے گی، جو لیاری کے اصل کلچر، امن، ثقافت اور خوشحالی کو دنیا کے سامنے لائے گی۔

یہ اعلان شرجیل میمن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ دھرندھر پاکستان کا منفی چہرہ دکھانے کی کڑی ہے، جبکہ حقیقت میں لیاری پرتشدد نہیں بلکہ پرامن، ثقافتی ورثے، ٹیلنٹ اور حوصلے کی علامت ہے۔ ‘میرا لیاری’ میں لیاری کی حقیقی تصویر پیش کی جائے گی، جہاں امن اور فخر کی جھلک ہوگی۔

یہ فلم سندھ حکومت کے محکمہ اطلاعات کی نگرانی میں تیار ہو رہی ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف بھارتی پروپیگنڈے کا جواب دینا ہے بلکہ لیاری کی مثبت پہلوؤں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا بھی ہے۔ فلم میں لیاری کی تاریخ، ثقافتی تقریبات، کھیلوں کی روایات اور جدید ترقی کو مرکزی حیثیت دی جائے گی۔

بھارتی فلم دھرندھر

بھارتی فلم دھرندھر، جو دسمبر 2025 میں ریلیز ہوئی، ایک جاسوسی تھرلر ہے جس کی کہانی کراچی کے لیاری میں سیٹ کی گئی ہے۔ فلم میں رنویر سنگھ بھارتی جاسوس کا کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ دیگر اداکاروں نے پاکستانی شخصیات سے متاثر کردار نبھائے ہیں۔ فلم لیاری کو تشدد اور جرائم کا اڈہ دکھاتی ہے، جو ماضی کے گینگ وار سے متاثر ہے۔

شرجیل میمن کے مطابق یہ فلم پاکستان مخالف سازش ہے۔ سندھ حکومت کا جواب ‘میرا لیاری’ سے دینا ایک مثبت اقدام ہے، جو ثقافتی سفارتکاری کا مثال ہے۔

لیاری: کراچی ثقافت کا گہوارہ

لیاری کراچی کا قدیم ترین علاقہ ہے، جسے "کراچی کی ماں” کہا جاتا ہے۔ اس کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، جہاں سندھی ماہی گیر اور بلوچ قبائل نے ابتدائی آبادکاری کی۔ برطانوی دور میں بھی لیاری اہم تجارتی مرکز رہا۔ آج یہاں بلوچ، سندھی، کچی، اردو بولنے والے اور دیگر برادریاں پرامن طور پر رہتی ہیں۔

لیاری کو پاکستان کا "مینی برازیل” کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں فٹ بال کا جنون ہے۔ پاکستان کی قومی ٹیم کے اکثر کھلاڑی لیاری سے ابھرے ہیں۔ باکسنگ میں بھی لیاری کا نام روشن ہے، جہاں سے عالمی چیمپئن حسین شاہ جیسے کھلاڑی پیدا ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: فضا علی کی ندا پر تنقید، یاسر نواز بیوی کے دفاع میں سامنے آگئے، ویڈیو وائرل

ثقافتی طور پر لیاری رنگارنگ ہے۔ یہاں شیدی میلے، سندھ کلچر ڈے، لوک موسیقی اور ڈانس کی محافل عام ہیں۔ مشہور آرٹسٹس جیسے نصیبو لال اور کامران سموں نے لیاری سے عالمی شہرت حاصل کی۔

لیاری کی ترقی

سندھ حکومت نے لیاری کی ترقی کو ترجیح دی ہے۔ علاقے میں نئے پارکس، اسپورٹس کمپلیکس، اسکول اور ہسپتالات تعمیر کیے جا رہے ہیں۔ 2025 تک متعدد سڑکیں اور صحت کے مراکز مکمل ہوں گے۔

لیاری کے نوجوان اب تعلیم، ٹیکنالوجی اور کاروبار کی طرف راغب ہیں۔ چھوٹے کاروبار ہزاروں کو روزگار دے رہے ہیں۔ شرح خواندگی میں بھی بہتری آ رہی ہے، جو علاقے کی خوشحالی کی علامت ہے۔

‘میرا لیاری’ فلم: امید کی نئی کرن

‘میرا لیاری’ کے ڈائریکٹر سندھ کے تجربہ کار فلم ساز ہیں۔ کاسٹ میں مقامی ٹیلنٹ شامل ہے۔ فلم پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر ریلیز ہوگی، جو لیاری کی مثبت کہانی دنیا تک پہنچائے گی۔ یہ فلم نوجوانوں کے لیے امید کا پیغام ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ربیکا حسین کو کس نے کتنی سلامی دی؟ ٹک ٹاکر جوڑے نے تفصیلات شیئر کردیں

FAQs: اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: ‘میرا لیاری’ فلم کب ریلیز ہوگی؟

جواب: جنوری 2026 کے پہلے ہفتے میں۔

سوال: دھرندھر فلم میں لیاری کو کیسے دکھایا گیا؟

جواب: تشدد اور جرائم کے مرکز کے طور پر، جو حقیقت سے مختلف ہے۔

سوال: لیاری کے مشہور کھیل کون سے ہیں؟

جواب: فٹ بال اور باکسنگ، جہاں سے قومی اور عالمی کھلاڑی ابھرتے ہیں۔

سوال: لیاری کی ثقافت کی خاصیت کیا ہے؟

جواب: متنوع برادریاں، لوک میلے اور موسیقی۔

لیاری کا فخر زندہ باد

‘میرا لیاری’ نہ صرف ایک فلم ہے بلکہ لیاری کی حقیقی روح کی عکاسی ہے۔ سندھ حکومت کی یہ کاوش پاکستان کی نرم تصویر دنیا میں پیش کرے گی اور نوجوانوں کو نئی امید دے گی۔ لیاری امن، ثقافت اور ٹیلنٹ کی علامت ہے – اسے پروپیگنڈے سے نہیں بلکہ حقیقت سے دیکھیں۔

کال ٹو ایکشن: کیا آپ ‘میرا لیاری’ فلم دیکھنے کے منتظر ہیں؟ کمنٹس میں اپنی رائے شیئر کریں! اس آرٹیکل کو دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں۔ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفکیشن آن کریں اور لیاری کی تازہ خبروں، سندھ کی ترقی اور دلچسپ اپ ڈیٹس سب سے پہلے حاصل کریں!

ڈس کلیمر: The provided information is based on public reports. Please verify all details before taking any actions.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے