وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی شفیع جان نے سندھ حکومت پر سنگین الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے کراچی احتجاج کے دوران جناح باغ میں آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت پاکستان تحریک انصاف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور سیاسی دباؤ سے گھبرا گئی تھی۔ شفیع جان نے واضح الفاظ میں کہا کہ کراچی میں مینڈیٹ پی ٹی آئی کا تھا، سیٹیں چھین لی گئیں اور جو سلوک کیا گیا اس کے بعد حکومت کس منہ سے مذاکرات کی بات کر رہی ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ اب مفاہمت کا راستہ صرف اور صرف مزاحمت سے ہی نکلے گا۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا۔ ان کا موقف تھا کہ پی ٹی آئی کو جلسے کی مکمل اجازت دی گئی تھی، ان کا راستہ بند نہیں کیا گیا بلکہ وہ جان بوجھ کر سڑکوں پر احتجاج کرنا چاہتے تھے تاکہ تعداد زیادہ دکھائی دے۔ شازیہ مری نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ خیبر پختونخوا کے مسائل پر توجہ دیں جہاں عوام کو بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
کراچی احتجاج کا مکمل پس منظر
یہ پورا تنازعہ کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک بڑے سیاسی احتجاج سے جڑا ہے۔ پی ٹی آئی نے سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی، آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور حالیہ الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے خلاف کراچی میں ایک بڑا جلسہ طلب کیا تھا۔
احتجاج کا اصل مقام باغ جناح مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم سندھ حکومت اور پولیس نے جلسے کے لیے سخت شرائط عائد کیں جن میں تقریروں کا مواد چیک کرنے، تعداد محدود رکھنے اور مخصوص راستوں سے آنے جانے کی پابندی شامل تھی۔ پی ٹی آئی قیادت نے ان شرائط کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مزار قائد کے قریب احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔
جب مظاہرین مزار قائد سے باغ جناح کی طرف بڑھے تو پولیس نے مختلف مقامات پر ناکے لگا دیے۔ نمائش چورنگی، سولجر بازار، عبداللہ ہارون روڈ اور آس پاس کے علاقوں میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے آنسو گیس کے متعدد شیل فائر کیے اور لاٹھی چارج بھی کیا جس کے نتیجے میں درجنوں کارکن زخمی ہوئے اور کئی گرفتار کر لیے گئے۔ ایک نیوز چینل کی آؤٹ سائیڈ براڈکاسٹنگ وین پر بھی حملہ ہوا جس میں کیمرہ مین اور رپورٹر کو چوٹیں آئیں۔
شفیع جان کے الزامات کی تفصیل
شفیع جان نے اپنے بیان میں کئی اہم نکات اٹھائے:
- سندھ حکومت پی ٹی آئی کی سیاسی طاقت سے خوفزدہ ہو گئی
- جناح باغ احتجاج کے دوران غیر ضروری اور جارحانہ طاقت کا استعمال کیا گیا
- کراچی کی نشستوں میں مبینہ دھاندلی سے مینڈیٹ چوری کیا گیا
- مذاکرات کی پیشکش اب محض دکھاوا اور وقت گزارنے کی کوشش ہے
- پی ٹی آئی اب مزاحمت کے ذریعے ہی اپنے حقوق حاصل کرے گی
یہ بیان خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کی جانب سے سندھ کی سیاسی کارروائیوں پر براہ راست تنقید کا حصہ ہے۔ شفیع جان، جو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے انتہائی قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں، نے یہ بھی کہا کہ سندھ میں پی ٹی آئی کے خلاف یہ رویہ صوبائی سطح پر سیاسی انتقام کا نتیجہ ہے۔
پیپلز پارٹی کا مکمل دفاع اور موقف
پیپلز پارٹی نے واقعے کو مختلف انداز سے پیش کیا۔ شازیہ مری کے علاوہ صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن اور دیگر رہنماؤں نے بھی یہی موقف دہرایا کہ:
- جلسے کے لیے این او سی جاری کیا گیا تھا
- احتجاج کو باغ جناح کے اندر محدود رکھنے کی درخواست کی گئی تھی
- سڑکوں کو بلاک کرنے سے شہر کی ٹریفک اور روزمرہ زندگی متاثر ہوتی
- امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کو مناسب اقدامات اٹھانے پڑے
- پی ٹی آئی کو اپنے زیر انتظام صوبے میں گورننس کے مسائل حل کرنے چاہییں
پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی جان بوجھ کر جھگڑا پیدا کرنا چاہتی تھی تاکہ میڈیا کوریج حاصل ہو اور سیاسی فائدہ اٹھایا جا سکے۔
سیاسی منظرنامے پر ممکنہ اثرات
یہ واقعہ پاکستان کی سیاسی تقسیم کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ کراچی جیسے شہر میں پی ٹی آئی کی موجودگی اور اس کی احتجاجی طاقت سندھ کی حکمران جماعت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
- خیبر پختونخوا اور سندھ کے درمیان سیاسی تناؤ میں اضافہ متوقع
- مستقبل میں کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں مزید احتجاجی پروگرام
- وفاقی سطح پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت مزید مشکل
- انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ
- ممکنہ طور پر عدالتی مداخلت یا ہائی کورٹ میں کیسز
کیا ہو سکتا ہے اگلا مرحلہ؟
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگلے چند ہفتوں میں کئی امکانات ہیں:
- پی ٹی آئی کراچی سمیت دیگر شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری رکھ سکتی ہے
- سندھ حکومت مزید سخت انتظامی اقدامات اپنا سکتی ہے
- دونوں فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے گریز کریں گے
- میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ تنازعہ طویل عرصے تک زیر بحث رہے گا
- عوامی رائے دونوں جماعتوں کے حق میں یا خلاف مزید پولرائز ہو سکتی ہے
مختصر FAQs
جناح باغ میں کیا ہوا؟
پی ٹی آئی کے احتجاج پر پولیس نے آنسو گیس شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا۔
شفیع جان کا بنیادی الزام کیا ہے؟
سندھ حکومت پی ٹی آئی سے گھبرا کر مظاہرین پر طاقت استعمال کر رہی ہے۔
شازیہ مری نے کیا کہا؟
جلسے کی اجازت تھی، پی ٹی آئی سڑک بلاک کرکے تعداد زیادہ دکھانا چاہتی تھی۔
احتجاج کے بنیادی مطالبات کیا تھے؟
سیاسی قیدیوں کی رہائی، آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی۔
کیا اب مذاکرات ممکن ہیں؟
شفیع جان کے مطابق اب مزاحمت ہی راستہ ہے۔
نتیجہ
جناح باغ واقعہ پاکستان کی سیاست میں ایک نیا تنازعہ پیدا کر چکا ہے۔ ایک طرف پی ٹی آئی اسے حکومتی جبر اور مینڈیٹ کی پامالی قرار دے رہی ہے تو دوسری طرف پیپلز پارٹی اسے قانون کی بالادستی اور امن و امان کی حفاظت کا معاملہ بتا رہی ہے۔
آئندہ دنوں میں دیکھنا یہ ہے کہ یہ کشیدگی مذاکرات کی طرف جاتی ہے یا مزید احتجاج اور جوابی کارروائیوں کی شکل اختیار کرتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے تنازعات اکثر طویل عرصے تک جاری رہتے ہیں اور ملک کے سیاسی منظر نامے کو تبدیل کر دیتے ہیں۔
مزید تازہ ترین سیاسی خبروں، تجزیوں اور بریکنگ اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے ساتھ جڑے رہیں۔ اپنے خیالات کمنٹس میں ضرور لکھیں، آرٹیکل کو سوشل میڈیا پر شیئر کریں اور براہ راست نوٹیفکیشنز کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ بائیں جانب موجود فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کرکے ابھی جوائن ہوں – تاکہ پاکستان کی سیاست کی ہر اہم خبر اور تجزیہ آپ تک سب سے پہلے پہنچے!
یہ معلومات عوامی رپورٹس اور سیاسی بیانات پر مبنی ہیں۔ قارئین سے گزارش ہے کہ کسی بھی اہم قدم سے پہلے سرکاری ذرائع سے تصدیق ضرور کر لیں۔