سلمان خان نے راجیش کھنہ کو کیا پیشکش کی تھی جسے راجیش کھنہ نے دھوکہ سمجھا تھا؟

سلمان خان and راجیش کھنہ

بالی وڈ کی شاندار تاریخ میں راجیش کھنہ کا نام ایک ایسے سپر اسٹار کے طور پر لیا جاتا ہے جو 1960 کی دہائی کے آخر اور 1970 کی دہائی میں ناقابل تسخیر تھے۔ وہ بھارتی سینما کے پہلے حقیقی سپر اسٹار تھے، جن کی مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ فینز ان کے خون سے خط لکھتے تھے اور شادی کی تجاویز دیتے تھے۔ تاہم، شہرت کی بلندیوں کے بعد جب ان کا ستارہ ڈوبنے لگا تو مالی مسائل نے انہیں گھیر لیا۔ ایسے مشکل دور میں موجودہ بالی وڈ کے بھائی جان سلمان خان نے ان کی مدد کی ایک پیشکش کی، جو راجیش کھنہ کو دھوکہ اور سازش لگی۔ بھارتی میڈیا اور کتابوں کے مطابق، سلمان خان نے راجیش کھنہ کے مشہور بنگلہ "آشیرواد” کو خریدنے کی خواہش ظاہر کی اور اس کے بدلے میں ان کی فلم میں بغیر معاوضہ کام کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ لیکن راجیش کھنہ نے اسے قبول کرنے کی بجائے رد کر دیا اور کہا کہ یہ پیشکش انہیں سماجی اور مالی طور پر تباہ کرنے کی کوشش ہے۔

یہ کہانی بالی وڈ کی اندرونی دنیا کی پیچیدگیوں کو عیاں کرتی ہے، جہاں احترام، حسد، مدد اور شک ایک ساتھ موجود رہتے ہیں۔ یہ واقعہ گوتم چنتامانی کی کتاب "ڈارک اسٹار: دی لونلی نیس آف بینگ راجیش کھنہ” سے تفصیل سے سامنے آیا ہے، جو راجیش کھنہ کی زندگی کے روشن اور تاریک دونوں پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔

راجیش کھنہ: بالی وڈ کا پہلا سپر اسٹار

راجیش کھنہ نے اپنے کیریئر کا آغاز 1966 میں فلم "آکھری خط” سے کیا، لیکن حقیقی شہرت انہیں 1969 کی فلم "ارادھنا” سے ملی۔ اس کے بعد انہوں نے 1969 سے 1972 تک لگاتار 15 سولو ہٹ فلمیں دیں، جو ایک ایسا ریکارڈ ہے جو آج تک کوئی اداکار توڑ نہیں سکا۔ فلمیں جیسے "دوست”، "انند”، "باوarchi”، "نمک حرام” اور "ہاتھی میرے ساتھی” نے انہیں عوام کا چہیتا بنا دیا۔ اس دور میں وہ بالی وڈ کے بادشاہ تھے، اور ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے فینز گھنٹوں انتظار کرتے۔

اپنے عروج کے دوران راجیش کھنہ نے خاصی دولت کمائی اور جائیدادیں بنائیں۔ انہی میں سے ایک تھا ممبئی کے پوش علاقے کارٹر روڈ پر سمندر کے سامنے واقع بنگلہ، جسے انہوں نے 1970 کی دہائی کے شروع میں اداکار راجندر کمار سے خریدا۔ خریداری کی قیمت صرف ساڑھے تین لاکھ روپے تھی، جو اس وقت بھی معمولی تھی۔

بنگلہ آشیرواد کی دلچسپ تاریخ

یہ بنگلہ پہلے راجندر کمار کا تھا، جو اسے "بھوت بنگلہ” کہتے تھے کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ یہاں کچھ غیر معمولی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ راجندر کمار نے اسے بیچنے کا فیصلہ کیا، اور راجیش کھنہ نے اسے خرید لیا۔ خریدنے کے بعد راجیش نے اس کا نام "آشیرواد” رکھا، اور یقیناً یہ نام ان کے لیے مبارک ثابت ہوا کیونکہ اس کے بعد ان کی کامیابیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

آشیرواد جلد ہی راجیش کھنہ کی شہرت اور شان و شوکت کی علامت بن گیا۔ گوتم چنتامانی کی کتاب میں بیان کیا گیا ہے کہ یہاں راجیش بادشاہوں والا انداز اپناتے تھے۔ وہ ایک اونچی کرسی پر بیٹھتے، جیسے دربار لگا ہو، اور پروڈیوسرز اور ملنے والوں کو باہر انتظار کرواتے۔ وہ اکثر ریشمی کرتا اور لنگی پہنے نظر آتے۔ بنگلے کے اندرونی حصوں تک رسائی صرف چند قریبی لوگوں کو تھی۔ رات بھر محفلیں چلتیں، جہاں دوست چاپلوسی کرتے اور تفریح ہوتی۔ راجیش اپنے مزاج کے خلاف بات برداشت نہیں کرتے تھے اور ایسے لوگوں کو فوراً گھر سے نکال دیتے۔

راجیش کھنہ کا زوال اور مالی مسائل

1970 کی دہائی کے وسط میں راجیش کھنہ کا جادو ٹوٹنے لگا۔ 1973 میں امیتابھ بچن کی فلم "زنجیر” ریلیز ہوئی، اور اس کے بعد "شعلے”، "دیوار” اور "ڈان” جیسی فلموں نے امیتابھ کو نیا انگری ینگ مین بنا دیا۔ راجیش کی فلمیں ناکام ہونے لگیں، اور مالی پریشانیاں شروع ہو گئیں۔ ان پر بھاری انکم ٹیکس کے نوٹسز آئے، اور آمدنی کے ذرائع کم ہو گئے۔ اس دور میں وہ تنہائی اور افسردگی کا شکار ہو گئے۔

سلمان خان کی متنازع پیشکش

یہی وہ وقت تھا جب سلمان خان نے راجیش کھنہ سے رابطہ کیا۔ سلمان اپنے بھائی سہیل خان کے لیے یہ تاریخی بنگلہ خریدنا چاہتے تھے۔ ان کی پیشکش بظاہر بہت پرکشش تھی:

  • بنگلہ کی مکمل قیمت ادا کرنا۔
  • راجیش کھنہ پر عائد بھاری انکم ٹیکس کے بلوں کی ادائیگی کی یقین دہانی۔
  • راجیش کھنہ کی کسی آنے والی فلم میں سلمان خان کا بغیر کسی معاوضے کے کام کرنا۔

یہ پیشکش ایک طرف مدد لگتی تھی، کیونکہ راجیش کو فوری مالی ریلیف مل سکتا تھا۔ لیکن راجیش کھنہ نے اسے مکمل طور پر رد کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ سلمان خان انہیں سماجی اور مالی طور پر کمزور کر کے ان کی عزت خاک میں ملانا چاہتے ہیں۔ کتاب میں نقل کیا گیا ہے کہ راجیش نے کہا، "یہ مجھے سڑک پر لانا چاہتے ہیں۔” انہیں شک تھا کہ بنگلہ بیچنے کے بعد وہ بے گھر ہو جائیں گے اور ان کی باقی عزت بھی ختم ہو جائے گی۔

یہ ردعمل راجیش کھنہ کی شخصیت کو ظاہر کرتا ہے، جو اپنی میراث اور وقار کو سب سے مقدم رکھتے تھے۔ بالی وڈ میں ایسی کہانیاں عام ہیں جہاں نئی نسل پرانی ستاروں کی جائیدادوں پر نظر رکھتی ہے، لیکن یہ خاص واقعہ کافی متنازع رہا۔

بنگلہ آشیرواد کا انجام

راجیش کھنہ نے زندگی بھر یہ بنگلہ نہیں بیچا۔ وہ اسی گھر میں رہے اور 2012 میں کینسر سے لڑتے ہوئے اسی بنگلے میں انتقال کر گئے۔ ان کی موت کے دو سال بعد، 2014 میں یہ بنگلہ ایک تاجر کو تقریباً 90 سے 120 کروڑ روپے میں فروخت ہوا۔ خریدار نے تاریخی بنگلے کو گرا کر اس کی جگہ ایک بلند عمارت تعمیر کر لی۔ آج وہاں راجیش کھنہ کی یادگار کا کوئی نشان نہیں، صرف ایک جدید بلڈنگ کھڑی ہے۔

یہ انجام بالی وڈ کی عارضی شہرت اور یادوں کی ناپائیداری کو ظاہر کرتا ہے۔ جو بنگلہ کبھی سپر اسٹار کی شان تھا، وہ اب ماضی کا قصہ بن چکا ہے۔

بالی وڈ میں ایسی کہانیوں کی حقیقت

بالی وڈ کی دنیا میں ستاروں کے عروج و زوال کی بہت سی کہانیاں ہیں۔ راجیش کھنہ کی طرح کئی اداکاروں نے مالی مسائل کا سامنا کیا، اور نئی نسل نے ان کی جائیدادوں پر دلچسپی دکھائی۔ سلمان خان کی پیشکش کو کچھ لوگ حقیقی مدد سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ اسے موقع پرستی کہتے ہیں۔ سلمان خان نے کبھی اس بارے میں عوامی طور پر بات نہیں کی، لیکن ان کے مداح اسے احترام کی مثال قرار دیتے ہیں۔

نتیجہ: ایک سبق آموز کہانی

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ شہرت عارضی ہے، اور وقار کو برقرار رکھنا کتنا مشکل۔ راجیش کھنہ نے اپنی میراث کی حفاظت کی، چاہے اس کی قیمت تنہائی اور مالی مسائل ہی کیوں نہ ہو۔ آج بھی ان کی فلمیں دیکھی جاتی ہیں، اور وہ بالی وڈ کے پہلے سپر اسٹار کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

راجیش کھنہ نے بنگلہ کیوں نہیں بیچا؟

انہیں لگتا تھا کہ یہ ان کی عزت کی آخری علامت ہے اور پیشکش ایک سازش۔

سلمان خان کی پیشکش میں کیا شامل تھا؟

بنگلہ خریدنا، ٹیکس ادا کرنا اور مفت فلم میں کام کرنا۔

آشیرواد بنگلہ کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟

2014 میں گرایا گیا اور نئی عمارت بنی۔

یہ کہانی کس کتاب سے معروف ہوئی؟

گوتم چنتامانی کی "ڈارک اسٹار” سے۔

راجیش کھنہ کا سب سے بڑا ریکارڈ کیا ہے؟

لگاتار 15 سولو ہٹ فلمیں۔

اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں: کیا سلمان کی پیشکش مدد تھی یا دھوکہ؟

یہ کہانی بالی وڈ کی پیچیدگیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ مزید ایسی دلچسپ کہانیوں، تازہ نیوز اور تفریحی مواد کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو ابھی جوائن کریں۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس براہ راست آپ کے موبائل پر! (بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفیکیشنز آن کریں۔)

نوٹ: یہ معلومات عوامی رپورٹس پر مبنی ہیں؛ براہ مہربانی اپنی رائے قائم کرنے سے پہلے تصدیق کر لیں۔

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے