|

سعيف اللہ جنید جیس: والد کی شہادت کی دعا اور طیارہ حادثے کی تلخ یادیں

سعيف اللہ جنید جیس:

جونید جمشید پاکستان کے ایک ممتاز فنکار اور مبلغ تھے جنہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز پاپ میوزک سے کیا اور عالمی سطح پر شہرت حاصل کی۔ ان کی مشہور دھنیں جیسے "دل دل پاکستان” نے نوجوان نسل کو متاثر کیا۔ بعد ازاں، انہوں نے موسیقی کو الوداع کہہ دیا اور نعت خواں اور اسلامی مبلغ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں۔ بزنس میں بھی ان کی کامیابی نے انہیں ایک کثیر الجہت شخصیت بنا دیا۔ 24 دسمبر 2016 کو ہوائیہ کے قریب PK-661 پرواز کے حادثے میں ان کی وفات ہوئی، جس میں 48 افراد ہلاک ہوئے۔ یہ خبر قوم کے لیے صدمے کا باعث بنی۔ حال ہی میں، 24 اکتوبر 2025 کو جیو ٹی کے پوڈکاسٹ میں مبشر ہاشمی کے پروگرام میں ان کے سب سے چھوٹے بیٹے سعيف اللہ جنید جیس نے والد کی یادیں تازہ کیں، جو سعيف اللہ جنید جیس انٹرویو کے طور پر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔

جونید جمشید کا سفر: موسیقی سے مبلغ تک

جونید جمشید کی زندگی ایک ایسی داستان ہے جو تبدیلی اور روحانی نشوونما کی عکاسی کرتی ہے۔ 1960s میں لاہور میں پیدا ہونے والے جونید نے 1980s میں وٹلز بینڈ کے ذریعے شہرت پائی۔ ان کے البمز نے لاکھوں کاپیاں فروخت کیں، جو پاکستان کی میوزک انڈسٹری کے لیے سنگ میل ثابت ہوئے۔ 2000s میں، انہوں نے حج کے بعد موسیقی ترک کر دی اور نعت اور قرآنی تلاوت پر توجہ دی۔ ان کی برانڈ "ج” نے کپڑوں کی مارکیٹ میں انقلاب برپا کیا، جس کی سالانہ سیلز کروڑوں روپوں میں تھی۔

  • موسیقی کیریئر: 20 سے زائد البمز، انٹرنیشنل ٹورز۔
  • روحانی خدمات: ہزاروں لیکچرز، رمضان ٹرانسمیشنز میں شرکت۔
  • بزنس کامیابی: "ج” برانڈ کی 100 سے زائد آؤٹ لیٹس، جو آج بھی چل رہے ہیں۔

یہ سعيف اللہ جنید جیس جونید جمشید شہادت کی خواہش پر روشنی ڈالتے ہوئے، والد کی روحانی ترجیحات کو اجاگر کرتا ہے۔

طیارہ حادثہ: ایک قومی المیہ

جونید جمشید پلان کریش ڈسمبر 2016، یعنی 24 دسمبر کو اسلام آباد سے چترال جانے والی PK-661 پرواز کے طیارہ حادثہ جونید جمشید ہوائیہ میں پیش آیا۔ انجن کی خرابی کی وجہ سے طیارہ کوہساروں سے ٹکرایا، جس میں تمام 48 مسافر اور عملہ ہلاک ہو گئے۔ جونید اس وقت اسلام آباد سے چترال جا رہے تھے جہاں وہ دینی پروگرام کے لیے مدعو تھے۔ یہ حادثہ پاکستان ایوی ایشن کی تاریخ کا سب سے بھیانک واقعات میں سے ایک تھا، جس کی تحقیقات میں انسانی غلطی اور مینٹیننس کی کمی سامنے آئی۔

سعيف اللہ جنید جیس فادرز مارٹیرڈم ڈیزائر کو بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ والد کی شہادت کی خواہش خاندان کے لیے ایک روحانی تسلی تھی۔

سعيف اللہ کا انٹرویو: دل کو چھونے والی یادیں

حال ہی میں سعيف اللہ جنید جیس کا جونید جمشید کا بیٹا والد کو یاد کرتا ہوا جیو ٹی پوڈکاسٹ میں حاضر ہوا۔ مبشر ہاشمی کے سوال پر سعيف اللہ نے جونید جمشید مارٹیرڈم وش ریویلڈ کرتے ہوئے کہا: "آخری چھ سے آٹھ ماہ سے ہمارے والد ماں کو کہہ رہے تھے، ‘عائشہ، تم ناراض ہو جاؤ گی، لیکن مجھے شہادت چاہیے۔’ یہ ان کی مسلسل دعا تھی، اور اللہ نے ان کی پوری کی۔”

یہ بھی پڑھیں : مرئی زندگی ہے تو: بلال عباس خان اور ہانیہ عامر کا پہلا ٹیزر جاری، 2025 کا سب سے بڑا ہٹ بننے کا وعدہ

جونید جمشید فیملی ری ایکشن پلان کریش پر سعيف اللہ نے بتایا: "ہم بالکل بے خبر تھے۔ لوگ گھر آنے لگے، مگر یہ سچ نہیں لگ رہا تھا کیونکہ ہم نے انہیں کبھی بیمار نہیں دیکھا — وہ خوش اور نارمل تھے۔ میں اب بھی انہیں ویسے ہی یاد کرتا ہوں۔”

خاندانی یادیں بطور بلٹ پوائنٹس:

  • حج کا سفر (2016): "سب سے خوبصورت یاد حج کا سفر ہے جہاں ہم سب ایک کمرے میں رہے۔ خاندان کے ساتھ وہ لمحات اب بھی ذہن میں تازہ ہیں۔”
  • آخری نصیحت: "ان کی آخری بات تھی، ‘مجھے تم سے کچھ نہیں چاہیے — نہ اچھے نمبرز، نہ بزنس میں کامیابی — بس دین میں ترقی کرو۔'”
  • بچپن کی کہانی: "ماں نے بتایا کہ جب میں چھوٹا تھا، انہوں نے اپنی پرانی تصویر دکھائی تو میں نے کہا ‘یہ انکل ہیں’ — وہ خوش ہوئے کہ میں انہیں صرف تبدیل شدہ شخصیت کے طور پر جانتا ہوں۔”

یہ جونید جمشید پلان کریش ہوائیہ کی تفصیلات سعيف اللہ جنید جیس یونگسٹ سن سپیکس کے ذریعے مزید واضح ہوتی ہیں، جو خاندان کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہیں۔

جونید جمشید کی میراث: اب سعيف اللہ کا کردار

جونید جمشید کی وفات کے بعد ان کی فیملی نے ان کی تعلیمات کو آگے بڑھایا۔ سعيف اللہ اب بزنس اور دینی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جو والد کی طرح متوازن زندگی گزار رہے ہیں۔ پاکستان میں ان کی برانڈ "ج” کی سیلز 2025 میں 20% اضافہ دیکھا گیا، جو ان کی دیرپا مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔ سعيف اللہ کی یہ باتیں نئی نسل کے لیے سبق ہیں کہ کامیابی روحانی ترقی سے جڑی ہوتی ہے۔

FAQs: عام سوالات

جونید جمشید کا طیارہ حادثہ کیسے ہوا؟

PK-661 پرواز انجن فیل ہونے سے کوہساروں سے ٹکرائی، دسمبر 2016 میں۔

سعيف اللہ جنید جیس نے والد کی شہادت کی خواہش کیسے بیان کی؟

انہوں نے بتایا کہ جونید نے ماں سے کئی ماہ تک شہادت کی دعا کی بات کی۔

جونید جمشید کے بچوں کے نام کیا ہیں؟

تین بیٹے: تیمور، بابر، سعيف اللہ؛ اور ایک بیٹی۔

انٹرایکٹو عناصر: سامعین کی رائے

پول: آپ جونید جمشید کو سب سے زیادہ کس چیز کے لیے یاد کرتے ہیں؟

  • موسیقی کی دھنیں
  • دینی لیکچرز
  • بزنس کامیابی
  • خاندانی اقدار

(اس پول میں حصہ لیں اور اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں تاکہ ٹائم آن سائٹ بڑھے۔)

کال ٹو ایکشن

یہ دلچسپ یادیں آپ کو کیسے لگیں؟ کمنٹس میں اپنی رائے دیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں، اور مزید دینی کہانیوں کے لیے ہمارے ویب سائٹ پر رہیں۔ خاص طور پر، بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں اور ہمارے چینل کو جوائن کریں — تازہ ترین اپ ڈیٹس، انٹرویوز، اور انسپیریشنل کنٹنٹ براہ راست آپ کے فون پر نوٹیفکیشن کے ساتھ ملیں گے۔ فالو کریں اور کبھی کوئی دلچسپ خبر مس نہ کریں!

ڈس کلیمر: The information provided is based on public reports. Please verify before taking any actions.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے