راولپنڈی کے اڈیالہ روڈ پر فیکٹری ناکے کے قریب بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور کارکنوں کا دھرنا کامیاب مذاکرات کے بعد ختم ہو گیا۔ یہ احتجاج عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر شروع ہوا تھا جو شدید سردی میں نو گھنٹے سے زائد جاری رہا۔
اڈیالہ روڈ پر کیا ہوا؟
بانی پی ٹی آئی کی بہنوں نے صبح سویرے اڈیالہ جیل کے باہر پہنچ کر احتجاج شروع کیا۔ سینکڑوں کارکنوں نے سڑک پر دھرنا دے دیا جس سے اڈیالہ روڈ مکمل بند ہو گئی۔
- شدید ٹھنڈ کے باوجود کارکن ڈٹ کر بیٹھے رہے
- خواتین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد موجود تھی
- نعرے بازی اور پلے کارڈز کے ذریعے مطالبات دہرائے گئے
مذاکرات اور دھرنے کا خاتمہ
پولیس اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے درمیان طویل مذاکرات ہوئے۔ سینیٹر علامہ ناصر عباس، سلمان اکرم راجہ اور شاہد خٹک نے اہم کردار ادا کیا۔ بات چیت کامیاب رہی اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ تمام شرکاء پرامن طور پر روانہ ہو گئے۔
ٹریفک اور شہریوں پر اثرات
اڈیالہ روڈ بند ہونے سے راولپنڈی کی ٹریفک شدید متاثر ہوئی۔ طلبہ، دفتر جانے والے اور مسافر گھنٹوں پھنسے رہے۔ دھرنا ختم ہوتے ہی سڑک کھل گئی اور روانی بحال ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے پارک میں خیمہ زن 539 افغان باشندوں کی گرفتاری: پولیس کی بڑی کارروائی
عمومی سوالات (FAQs)
دھرنا کیوں شروع ہوا تھا؟
عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر۔
دھرنا کتنی دیر چلا؟
نو گھنٹے سے زائد، صبح سے شام تک۔
مذاکرات میں کون کون موجود تھا؟
سینیٹر علامہ ناصر عباس، سلمان اکرم راجہ اور شاہد خٹک سمیت دیگر رہنما۔
اب اڈیالہ روڈ کھلی ہے؟
جی ہاں، دھرنا ختم ہونے کے فوراً بعد ٹریفک بحال ہو گئی۔
آپ کی رائے
کیا آپ کو لگتا ہے کہ سیاسی قیدیوں سے ملاقات کا حق فوری ملنا چاہیے؟ نیچے تبصرہ کریں، خبر شیئر کریں، اور تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے بائیں طرف موجود WhatsApp بٹن پر کلک کر کے ہمارا چینل فالو کریں۔ فوری الرٹس براہ راست آپ کے فون پر!
The provided information is published through public reports.