جسے اصولوں پر بات کرنی ہے وہ پی ٹی آئی سے بات کرے: سلمان اکرم راجا

سلمان اکرم راجہ

پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے ایک حالیہ انٹرویو میں سیاسی مذاکرات کے حوالے سے پارٹی کا واضح اور سخت موقف بیان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فی الحال مذاکرات کا کوئی مثبت ماحول موجود نہیں ہے۔ جو لوگ واقعی اصولوں کی بنیاد پر بات چیت کرنا چاہتے ہیں وہ پی ٹی آئی سے رابطہ کریں۔ سلمان اکرم راجا نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کسی ذاتی آسائش، چور دروازے یا وقتی فائدے کے لیے کسی بھی قسم کی بات چیت میں شامل نہیں ہوگی۔ یہ بیان پاکستان کی جاری سیاسی کشمکش میں ایک اہم پیش رفت ہے اور اس نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کی کمی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

سلمان اکرم راجا کی تین بنیادی شرائط

سلمان اکرم راجا نے مذاکرات کے لیے تین غیر متزلزل شرائط پیش کی ہیں جو پی ٹی آئی کے لیے ریڈ لائن ہیں:

  • انتخابات کو مکمل طور پر شفاف اور غیر جانبدارانہ بنانا
  • عوام کے دیے گئے مینڈیٹ کی مکمل بحالی اور اس کا احترام
  • عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری کو یقینی بنانا

انہوں نے زور دیا کہ ان تینوں نکات پر بات چیت کے بغیر کوئی پیش رفت ممکن نہیں۔ سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کسی بھی صورت میں مذاکراتی عمل سے الگ نہیں رکھا جا سکتا۔ وہ پارٹی کی مرکزی قیادت اور عوامی مینڈیٹ کے نمائندہ ہیں۔ ان کی عدم شمولیت کوئی بھی بات چیت نامکمل اور ناکام قرار دے گی۔

حکومت کی ملاقاتوں پر تنقید

سلمان اکرم راجا نے حکومت کی جانب سے کی جانے والی ملاقاتوں اور رابطوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقاتیں محض رسمی نوعیت کی ہیں۔ ان میں چائے پی جاتی ہے، بسکٹ کھائے جاتے ہیں اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ حقیقت میں یہ سب کچھ جھوٹ چھپانے اور عوام کو یہ دکھانے کے لیے کیا جاتا ہے کہ حکومت اپوزیشن سے بات چیت کر رہی ہے۔

انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی ایسی کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں بہت سی چائے پی گئی، بسکٹ کھائے گئے مگر کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ نہ تو کوئی سیاسی مسئلہ حل ہوا اور نہ ہی جمہوری اصولوں کی بحالی ہوئی۔ اس لیے اب پی ٹی آئی ایسی سطحی اور بے معنی ملاقاتوں میں دلچسپی نہیں رکھتی۔

رانا ثناء اللّٰہ کے بیان کا جواب

سلمان اکرم راجا کا یہ بیان وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ کے حالیہ بیان کے براہ راست جواب میں سامنے آیا ہے۔ رانا ثناء اللّٰہ نے کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان ڈائیلاگ یا مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی کے رہنما جب بھی ملتے ہیں تو یہی بات دہراتے ہیں کہ بانی مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ البتہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر انہیں عمران خان سے ملاقات کا موقع ملا تو وہ انہیں آمادہ کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔

رانا ثناء اللّٰہ نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں واپس آئیں، اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں فعال کردار ادا کریں، کچھ معاملات پر حکومت سے تعاون کریں اور اپنے داخلی معاملات میں بہتری لائیں۔ سلمان اکرم راجا کے بیان سے واضح ہے کہ پی ٹی آئی ان مشوروں کو اس وقت تک قبول نہیں کرے گی جب تک کہ بنیادی شرائط پر پیش رفت نہ ہو۔ پارٹی کا موقف ہے کہ پارلیمنٹ میں شرکت اس وقت تک معنی خیز نہیں جب تک مینڈیٹ کی توہین جاری رہے گی۔

پاکستان کی سیاسی صورتحال کا جائزہ

موجودہ سیاسی ماحول میں اعتماد کا شدید فقدان ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بات چیت کے امکانات کم نظر آتے ہیں کیونکہ دونوں فریق اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی کا زور جمہوری اصولوں کی بحالی پر ہے جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ پارلیمانی عمل کو مضبوط کرنے کے لیے اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں آنا چاہیے۔

یہ ڈیڈ لاک ملک کے معاشی، سماجی اور خارجہ مسائل کو حل کرنے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے سرمایہ کار خوفزدہ ہیں، مہنگائی بڑھ رہی ہے اور عوام میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر جلد از جلد اعتماد سازی کے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو یہ بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔

بحران سے نکلنے کے ممکنہ راستے

سیاسی بحران کو کم کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات اہم ہو سکتے ہیں:

  • دونوں فریقوں کی جانب سے اعتماد سازی کے چھوٹے اقدامات
  • آزاد عدلیہ کے ذریعے اہم مقدمات میں تیز رفتار فیصلہ
  • شفاف الیکشن کمیشن کے قیام پر اتفاق رائے
  • سیاسی قیدیوں کے مقدمات میں منصفانہ سماعت
  • پارلیمنٹ کو حقیقی طور پر فعال اور بااختیار بنانا
  • بین الاقوامی برادری کی طرف سے غیر جانبدارانہ ثالثی کی پیشکش

پی ٹی آئی کے لیے عملی تجاویز

پی ٹی آئی کو اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات پر توجہ دینی چاہیے:

  • اصولوں پر مبنی واضح مذاکراتی لائحہ عمل تیار کریں
  • عوامی حمایت کو منظم اور مربوط رکھیں
  • سوشل میڈیا اور عوامی جلسوں کے ذریعے پیغام کو پھیلائیں
  • قانونی ٹیم کو مزید فعال بنا کر عدالتی راستوں کو استعمال کریں
  • دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ رابطے بڑھائیں
  • پارلیمنٹ میں موجود اراکین کو زیادہ فعال بنائیں
  • داخلی تنظیم نو پر کام جاری رکھیں

یہ اقدامات پارٹی کی سیاسی ساکھ کو برقرار رکھنے اور مستقبل میں مضبوط پوزیشن حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

سوال 1: کیا پی ٹی آئی مذاکرات بالکل نہیں کرے گی؟

جواب: پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر صرف اصولوں پر۔ شفاف انتخابات، مینڈیٹ کی بحالی اور آزاد عدلیہ پر بات ہو گی۔

سوال 2: سلمان اکرم راجا نے حکومت کو کیا کہا؟

جواب: ملاقاتیں دکھاوے کی ہیں، چائے بسکٹ تک محدود ہیں اور جھوٹ چھپانے کا ذریعہ ہیں۔

سوال 3: کیا عمران خان مذاکرات میں شامل ہوں گے؟

جواب: ہاں، سلمان اکرم راجا کے مطابق عمران خان کو سائیڈ لائن نہیں کیا جا سکتا۔

سوال 4: رانا ثناء اللّٰہ نے پی ٹی آئی کو کیا مشورہ دیا؟

جواب: پارلیمنٹ میں واپس آئیں، کمیٹیوں میں بیٹھیں اور کچھ معاملات پر تعاون کریں۔

سوال 5: کیا یہ ڈیڈ لاک ختم ہو سکتا ہے؟

جواب: ممکن ہے اگر دونوں فریق اعتماد سازی کے اقدامات اٹھائیں اور اصولوں پر بات چیت کریں۔

یہ معلومات عوامی رپورٹس اور میڈیا بیانات پر مبنی ہیں۔ براہ مہربانی کسی بھی سیاسی فیصلے سے پہلے تصدیق کر لیں۔

اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں، آرٹیکل دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور تازہ ترین سیاسی خبروں کے لیے ہمارے WhatsApp چینل کو فالو کریں۔ بریکنگ نیوز اور اہم تجزیے براہ راست آپ کے فون پر – ابھی جوائن کریں اور سیاسی صورتحال سے مکمل آگاہ رہیں! (بائیں طرف فلوٹنگ WhatsApp بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن آن کر دیں۔)

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے