لاہور ہائی کورٹ کے قریب واقع ایڈیشنل سیشن جج کے دفتر سے ایک غیر معمولی چوری کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج نور محمد بسمل کے چیمبر سے دو سیب اور ایک ہینڈ واش غائب ہوگئے، جس پر تھانہ اسلام پورہ میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ یہ خبر 9 دسمبر 2025 کو سامنے آئی، جب جج صاحب کے دفتر میں روٹین چیک کے دوران یہ اشیاء غائب ہونے کا پتہ چلا۔ ایف آئی آر کے تحت پولیس نے فوری طور پر قانونی کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف عدالتی محفوظ ماحول پر سوال اٹھاتا ہے بلکہ عوام میں بھی حیرت کی لہر دوڑا رہا ہے۔ جج کے چیمبر میں چوری جیسے واقعات عام نہیں ہوتے، اور یہ کیس عدالت میں چوری کا واقعہ کی حیثیت سے زیر بحث آ رہا ہے۔
واقعہ کی تفصیلات
لاہور کے مصروف عدالتی علاقے میں واقع ایڈیشنل سیشن جج نور محمد بسمل کا چیمبر ایک محفوظ جگہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، 8 دسمبر کی شام کو جب جج صاحب چھٹی پر گئے تو اگلے دن واپسی پر انہیں اپنے ڈیسک پر رکھے دو تازہ سیب اور ایک ہینڈ واش کی بوتل غائب ملی۔
ایف آئی آر کے مطابق:
- چوری شدہ اشیاء: 2 سیب اور 1 ہینڈ واش بوتل (250 ملی لیٹر)
- مقام: ایڈیشنل سیشن جج کا چیمبر، لاہور ہائی کورٹ کمپلیکس
- رپورٹ کرنے والا: جج کے سٹاف ممبر
پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ شروع کردیا ہے۔ اب تک کوئی ملزم گرفتار نہیں ہوا۔
عدالت میں چوری کا واقعہ
پاکستان میں عدالتی عمارتوں میں چوری کے واقعات نایاب ہیں، لیکن جب ہوتے ہیں تو بڑی خبر بن جاتے ہیں۔ چند سابقہ مثالیں:
- 2019 میں لاہور ہائی کورٹ میں ایک وکیل کے بیگ سے دستاویزات چوری
- 2022 میں اسلام آباد کی عدالت سے جج کے کمرے سے نوٹ بک غائب
اس بار سیب اور ہینڈ واش چوری کا کیس سوشل میڈیا پر مذاق کا باعث بنا ہے، مگر یہ عدالتی سیکیورٹی کی خامیوں کی طرف اشارہ بھی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دھرمیندر کی موت کے بعد پہلی سالگرہ: ہیما مالنی کی جذباتی ٹوئٹ وائرل
مقدمہ درج عدالت
مقدمہ دفعہ 379 (چوری) اور 457 (راستہ چھپ کر گھسنا) کے تحت درج ہوا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو 3 سے 7 سال قید تک ہو سکتی ہے، چاہے اشیاء کی مالیت کم ہی کیوں نہ ہو۔
- قانونی کارروائی کا آغاز: ایف آئی آر درج ہونے کے 24 گھنٹوں میں
- ممکنہ نتائج: جرمانہ 50 ہزار روپے تک + اضافی سیکیورٹی اقدامات
سیکیورٹی خامیوں پر نظرثانی کی ضرورت
عدالتوں میں چوری جیسے واقعات سے سبق سیکھنا ضروری ہے۔ تجاویز:
- بیومٹرک انٹری سسٹم لازمی کریں
- 24/7 نگرانی اور اضافی گارڈز
- سٹاف کو فوری رپورٹنگ کی تربیت
یہ عجب چوری کا کیس عدالتی نظام کی مضبوطی پر غور کرنے کا موقع دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنل گیمز: نورین فاطمہ نے 1.53 میٹرز کی چھلانگ لگا کر گولڈ میڈل جیت لیا
قارئین کے سوالات کے جوابات
کیا یہ چوری کیس سنجیدہ ہے؟
ہاں، قانون کی نظر میں تمام چوریاں قابل سزا ہیں۔
ملزم کون ہو سکتا ہے؟
ابتدائی تحقیقات میں کلیننگ سٹاف یا بیرونی ورکرز مشتبہ ہیں۔
عدالت کی سیکیورٹی کیسے بہتر ہو؟
جدید کیمرے اور اے آئی نگرانی کا استعمال کریں۔
قارئین کی رائے
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عدالتی سیکیورٹی میں فوری بہتری درکار ہے؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں!
اختتام
یہ 2 سیب اور ایک ہینڈ واش کی چوری کا کیس نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ عدالتی سیکیورٹی کے بارے میں سنجیدہ سوالات بھی اٹھاتا ہے۔ تازہ ترین عدالتی خبریں اور بریکنگ اپ ڈیٹس کے لیے کمنٹ کریں، شیئر کریں اور شامل رہیں۔
فوری WhatsApp الرٹس کے لیے ہمارا آفیشل چینل جوائن کریں (بائیں طرف فلوٹنگ بٹن) — روزانہ بریکنگ نیوز، خصوصی رپورٹس اور نوٹیفکیشنز براہ راست آپ کے فون پر! ہزاروں قارئین پہلے ہی ہمارے ساتھ ہیں، اب آپ کی باری۔ ابھی جوائن کریں!
Disclaimer: The provided information is published through public reports. Readers are advised to verify details independently before taking any action.