سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کی چیئرپرسن سینیٹر شہادت اعوان کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں بھارتی آبی جارحیت سے نمٹنے کے لیے دریائے چناب پر چنیوٹ کے مقام پر ڈیم بنانے کا اہم فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے حکام نے بتایا کہ اس ڈیم کی فزیبلٹی اسٹڈی مکمل ہو چکی ہے اور پی سی ون دستاویز تیاری کے آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے۔ یہ اقدام پاکستان بھارت آبی تنازع کو حل کرنے اور چناب دریا پانی مسئلہ کو کم کرنے کی طرف ایک قدم ہے۔
اس اجلاس میں 824 ارب روپے کے قومی فلڈ پروٹیکشن پلان کی منظوری کا بھی ذکر ہوا، جو مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری کا منتظر ہے۔ کمیٹی نے صوبوں کو دریاؤں پر تجاوزات فوری طور پر ہٹانے کی سختی سے ہدایت دی، جو سیلاب کے خطرات کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
بھارتی آبی جارحیت: پاکستان کا نیا ڈیم منصوبہ اور اس کی اہمیت
بھارت کی پانی جارحیت پاکستان کی معیشت اور زراعت کو مسلسل خطرے میں ڈال رہی ہے، خاص طور پر انڈس واٹر ٹریٹی تنازع کی روشنی میں۔ دریائے چناب پر ڈیم بنانا اس تنازع کا براہ راست جواب ہے، جو نہ صرف پانی کی بچت کرے گا بلکہ بجلی کی پیداوار اور سیلاب کنٹرول میں بھی مدد دے گا۔
تاریخی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 1960 کی انڈس واٹر ٹریٹی کے باوجود بھارت نے چناب اور جہلم پر متعدد ڈیمز تعمیر کیے، جس سے پاکستان کو سالانہ 3 بلین کیوبک میٹر پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ چناب ڈیم بنانے کا فیصلہ اس خلا کو پر کرنے کی کوشش ہے، جس کی متوقع لاگت 500 ارب روپے سے زائد ہو سکتی ہے اور یہ 2028 تک مکمل ہو سکتا ہے۔
سینیٹ کمیٹی کی ہدایات: دریاؤں پر تجاوزات کا خاتمہ
چیئرپرسن سینیٹر شہادت اعوان نے پنجاب اور سندھ سمیت تمام صوبوں پر سخت تنقید کی کہ دریاؤں کے راستوں سے تجاوزات نہ ہٹانے پر یہ مجرمانہ فعل ہوگا۔ اگلے مون سون سے قبل یہ کارروائی مکمل نہ ہوئی تو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں : ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے شیڈول کا اعلان آج ہوگا – پاکستان بھارت ٹاکرا 15 فروری کو کولمبو میں!
- فوری اقدامات: صوبائی حکومتوں کو 30 دن میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم۔
- ممکنہ فوائد: تجاوزات ہٹنے سے سیلاب کا خطرہ 40 فیصد کم ہو سکتا ہے، جیسا کہ 2022 کے سیلاب میں دیکھا گیا جہاں تجاوزات نے نقصانات کو دگنا کر دیا۔
- مثال: راوی دریا پر لاہور کے قریب تجاوزات نے 2019 میں بڑے سیلاب کا باعث بنے، جس سے 50 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
یہ ہدایات عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہیں، جو سیلاب سے متاثرہ 33 ملین افراد کی زندگیاں بچا سکتی ہیں۔
قومی فلڈ پروٹیکشن پلان: 824 ارب روپے کی سرمایہ کاری
کمیٹی کو بتایا گیا کہ 824 ارب روپے کا یہ پلان دریاؤں کی نگرانی اور سیلاب وارننگ سسٹم پر مبنی ہے۔ واپڈا نے ملک بھر میں ٹیلی میٹری سسٹم نصب کرنے کا منصوبہ بتایا، جو حقیقی وقت میں واٹر فلو کی نگرانی کرے گا۔
- ٹیلی میٹری سسٹم کی تفصیلات: 100 سے زائد سٹیشنز نصب، جو سیلاب سے 24 گھنٹے قبل الرٹ دیں گے۔
- فنڈنگ: مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری کے بعد فوری آغاز۔
- تاثر: 2022 سیلاب جیسے واقعات میں نقصانات 70 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جہاں معاشی نقصان 30 بلین ڈالر تک پہنچا تھا۔
یہ پلان پاکستان کا نیا ڈیم منصوبہ کا حصہ ہے، جو پائیدار ترقی کی ضمانت دے گا۔
سیلاب سے بچاؤ کے لیے عملی اقدامات: قدم بہ قدم گائیڈ
عوام کو سیلاب سے بچانے کے لیے یہ اقدامات اپنائیں:
- تیاری: گھر کے قریب سیلاب نقشے چیک کریں اور ایمرجنسی کٹ تیار رکھیں۔
- مونیٹرنگ: واٹر فلو ایپس ڈاؤن لوڈ کریں اور الرٹس آن رکھیں۔
- تجاوزات رپورٹ: مقامی انتظامیہ کو تجاوزات کی اطلاع دیں۔
- برآمدگی پلان: خاندان کے ساتھ محفوظ راستے طے کریں۔
یہ اقدامات 2022 سیلاب کی کیس سٹڈی سے مستفید ہیں، جہاں بروقت وارننگ نے ہزاروں جانیں بچائیں۔
سوالات و جوابات (FAQs)
دریائے چناب پر ڈیم کی لاگت کیا ہے؟
فزیبلٹی کے مطابق تقریباً 500 ارب روپے، بجلی اور آبپاشی کے فوائد سمیت۔
انڈس واٹر ٹریٹی تنازع کیسے حل ہوگا؟
ڈیم تعمیر سے پاکستان کی پانی کی خودمختاری بڑھے گی، قانونی چیلنجز کے ساتھ۔
تجاوزات کب تک ہٹائی جائیں گی؟
اگلے مون سون سے قبل، ورنہ مجرمانہ کارروائی۔
فلڈ پلان کی منظوری کب ملے گی؟
مشترکہ مفادات کونسل سے فوری توقع۔
حصہ لیں: ایک پول
کیا چناب ڈیم بھارتی آبی جارحیت کا مؤثر جواب ہوگا؟
- ہاں، فوری ضرورت ہے۔
- جزوی طور پر، مزید اقدامات چاہیے۔
- نہیں، سفارتی حل بہتر ہے۔
اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں اور بحث میں شامل ہوں!
اختتام: اپنی آواز بلند کریں
بھارتی آبی جارحیت سے نمٹنے کا یہ فیصلہ پاکستان کی مستقبل کی حفاظت کا ضامن ہے۔ تازہ اپڈیٹس، تجزیے اور سیلاب سے بچاؤ کی ٹپس کے لیے کمنٹ کریں، شیئر کریں اور متعلقہ مواد پڑھیں۔ ہمارے WhatsApp چینل کو فالو کریں – ایک کلک سے جوائن ہوں، نوٹیفکیشنز آن کریں اور ہر اہم خبر فوری ملیں، تاکہ آپ ہمیشہ تیار رہیں! [WhatsApp جوائن لنک یہاں]۔
نوٹ: The provided information is published through public reports. Confirm all discussed information before taking any step