پاکستانی فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے بگ بیش لیگ (بی بی ایل) 2025-26 کے سیزن میں برسبین ہیٹ کی جانب سے اپنا ڈیبیو کیا۔ جیلونگ کے اسٹیڈیم میں میلبورن رینیگیڈز کے خلاف کھیلے گئے میچ میں شاہین کی کارکردگی مایوس کن رہی، جہاں انہیں خطرناک گیند بازی کی وجہ سے امپائرز نے اٹیک سے ہٹا دیا۔ یہ واقعہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے قوانین کی سخت گیری کی ایک واضح مثال بنا اور کرکٹ حلقوں میں بحث کا موضوع رہا۔
شاہین آفریدی، جو پاکستان کے لیے بین الاقوامی سطح پر سینکڑوں وکٹیں لے چکے ہیں، کو برسبین ہیٹ نے بڑی امیدوں کے ساتھ ٹیم میں شامل کیا تھا۔ ان سے توقع تھی کہ وہ ٹیم کی بولنگ لائن کو مضبوط بنائیں گے اور مخالف بیٹرز پر دباؤ ڈالیں گے۔ تاہم ڈیبیو میچ میں لائن اور لینتھ کا مسئلہ ان پر بھاری پڑ گیا اور ان کی بولنگ کنٹرول سے باہر ہو گئی۔
میچ کا پس منظر
بگ بیش لیگ کا موجودہ سیزن پاکستانی کرکٹرز کی بھرپور شرکت کا شاهد ہے۔ شاہین آفریدی کے علاوہ محمد رضوان، بابر اعظم اور دیگر کئی سٹارز مختلف ٹیموں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ برسبین ہیٹ نے شاہین کو اپنی بولنگ اٹیک کی قیادت سونپی تھی، جو آسٹریلیوی کنڈیشنز میں ایک بڑا چیلنج تھا۔ آسٹریلیا کی تیز اور باؤنسی وکٹیں فاسٹ بولرز کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں، لیکن ان پر کنٹرول برقرار رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
میچ میں برسبین ہیٹ نے ٹاس جیت کر میلبورن رینیگیڈز کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی۔ رینیگیڈز کی ٹیم نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور 20 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 212 رنز کا بڑا ٹوٹل کھڑا کر دیا۔ ٹم سیفرٹ نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے سنچری اسکور کی، جبکہ اولی پیک نے بھی اہم رنز جوڑے۔ یہ ٹوٹل برسبین ہیٹ کے لیے مشکل ثابت ہوا۔
شاہین آفریدی کی بولنگ کی تفصیل
شاہین نے میچ کا آغاز کیا اور اپنے پہلے اوور میں 9 رنز دیے۔ دوسرے اوور میں انہوں نے تین ڈاٹ بالز ڈال کر اچھا تاثر دیا، جو یہ بتاتا تھا کہ وہ جلد ہی اپنی لینتھ پکڑ لیں گے۔ لیکن اس کے بعد صورتحال بدل گئی۔ 13ویں اوور میں پاور سرج کے دوران انہیں دوبارہ بولنگ دی گئی، جہاں ایک ہی اوور میں 19 رنز پڑ گئے۔ نو بالز اور وائیڈز کی وجہ سے پریشر بڑھتا گیا۔
سب سے اہم اور ڈرامائی لمحہ 18واں اوور تھا۔ شاہین نے ٹم سیفرٹ کو کمر کی اونچائی سے فل ٹاس گیند کی، جو نو بال قرار پائی۔ فری ہٹ پر کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا، لیکن اگلی گیند پر اولی پیک کو دوسرا ایسا ہی شاٹ مارا گیا، جو کمر سے اونچی فل ٹاس تھی۔ امپائرز نے فوراً قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں خطرناک بولنگ قرار دے کر باقی اننگز کے لیے اٹیک سے ہٹا دیا۔
شاہین کے چہرے پر اس وقت ہلکی مسکراہٹ تھی جب وہ واپس جا رہے تھے۔ برسبین ہیٹ کے کپتان نیتھن میک سویینی نے خود اوور کی باقی دو گیندیں مکمل کیں۔ شاہین کی حتمی بولنگ figures رہیں: 2.4 اوورز، 43 رنز، صفر وکٹیں، تین نو بالز اور دو وائیڈز۔ ان کی اکانومی ریٹ 16 سے اوپر رہی، جو ان جیسے عالمی کلاس بولر کے لیے غیر معمولی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شاہین کئی سال بعد بگ بیش کھیلنے کیلئے پرجوش، بابر اور رضوان سے متعلق کیا کہا؟
خطرناک بولنگ کے قوانین اور اس کی اہمیت
کرکٹ کے قوانین کے مطابق، اگر کوئی بولر ایک اوور میں دو کمر سے اونچی فل ٹاس گیندیں کرے تو اسے خطرناک اور غیر منصفانہ قرار دے کر باقی میچ کے لیے بولنگ سے روک دیا جاتا ہے۔ یہ قانون بیٹرز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے، کیونکہ ایسی گیندیں سر یا جسم پر لگنے کا خطرہ رکھتی ہیں۔ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں جہاں بیٹرز جارحانہ کھیلتے ہیں، وہاں بولرز پر دباؤ زیادہ ہوتا ہے، اور بعض اوقات کنٹرول کھو جاتا ہے۔
یہ واقعہ بی بی ایل کی تاریخ میں نایاب ہے اور کرکٹ پرستاروں کے درمیان بحث چھیڑ گیا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سخت فیصلہ تھا، جبکہ دیگر کہتے ہیں کہ قوانین سب کے لیے برابر ہیں۔ شاہین جیسے بولر کے لیے یہ ایک سبق ہے کہ نئی لیگ میں ایڈجسٹمنٹ کا وقت درکار ہوتا ہے۔
پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی
شاہین کے ہم وطن محمد رضوان بھی اس میچ میں رینیگیڈز کی طرف سے ڈیبیو کر رہے تھے۔ وکٹ کیپر بیٹر کے طور پر نمبر تین پر بیٹنگ کرتے ہوئے انہوں نے 10 گیندوں پر صرف 4 رنز بنائے اور جلد آؤٹ ہو گئے۔ یہ ان کے لیے بھی مایوس کن آغاز تھا۔ پاکستانی کھلاڑیوں کا ڈیبیو سیزن میں ابھی تک متاثر کن نہیں رہا، جو آسٹریلیوی کنڈیشنز کی سختی کو ظاہر کرتا ہے۔
میلبورن رینیگیڈز نے آخر میں میچ 14 رنز سے جیت لیا، جبکہ برسبین ہیٹ 198 رنز ہی بنا سکی۔ یہ شکست برسبین ہیٹ کے لیے سیزن کا برا آغاز تھی۔
شاہین آفریدی کا مستقبل اور ممکنہ واپسی
شاہین آفریدی جیسا بولر، جو دنیا بھر میں اپنی سوئنگ اور رفتار کی وجہ سے مشہور ہے، کے لیے یہ صرف ایک برا دن تھا۔ وہ ماضی میں بھی مشکل حالات سے نکل کر شاندار پرفارمنس کر چکے ہیں۔ آسٹریلیا کی وکٹوں پر ایڈجسٹ ہونے کے بعد وہ اگلے میچز میں بہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔ ٹیم مینجمنٹ بھی ان پر اعتماد کر رہی ہے اور یہ واقعہ ان کے لیے سیکھنے کا موقع ہے۔
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ایسے اتار چڑھاؤ عام ہیں۔ بولرز کو کنٹرول برقرار رکھنا پڑتا ہے، ورنہ نو بالز اور بییمرز مہنگے پڑ جاتے ہیں۔ شاہین کی صلاحیتوں پر کوئی شک نہیں، اور پرستاروں کو امید ہے کہ وہ جلد ہی وکٹیں لینا شروع کر دیں گے۔
- شاہین کی بولنگ figures: 2.4 اوورز میں 43 رنز، 0 وکٹ
- نو بالز اور وائیڈز: 3 نو بالز، 2 وائیڈز
- امپائر کا فیصلہ: دو بییمرز پر فوری ایکشن
- میچ نتیجہ: رینیگیڈز کی 14 رنز سے جیت
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی چیئرمین نے ایچ بی ایل پی ایس ایل 11 کی ونڈو کا اعلان کردیا
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
شاہین آفریدی کو بولنگ سے کیوں روکا گیا؟
دو بییمرز (کمر سے اونچی فل ٹاس گیندیں) کی وجہ سے، جو قوانین کے تحت خطرناک ہیں۔
شاہین کی مکمل بولنگ figures کیا رہیں؟
2.4 اوورز میں 43 رنز، صفر وکٹیں، تین نو بالز۔
میچ کون سی ٹیم نے جیتا؟
میلبورن رینیگیڈز نے 14 رنز سے۔
محمد رضوان نے کتنے رنز اسکور کیے؟
صرف 4 رنز 10 گیندوں پر۔
بییمر پر کرکٹ قوانین کیا کہتے ہیں؟
دوسرے بییمر پر بولر کو اننگز کے لیے بولنگ سے روک دیا جاتا ہے۔
شاہین اگلے میچز میں کیسے پرفارم کریں گے؟
ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے واپسی کی پوری امید ہے۔
یہ میچ کرکٹ کے غیر متوقع پن کی ایک اور مثال ہے۔ پاکستانی کرکٹرز بی بی ایل میں اپنا لوہا منوا سکتے ہیں۔ آپ کی رائے کیا ہے کہ شاہین جلد وکٹیں لینا شروع کر دیں گے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں اور تازہ ترین کرکٹ اپڈیٹس کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں – بائیں طرف واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں اور فوری نوٹیفیکیشنز حاصل کریں!
Disclaimer: The provided information is based on public reports; verify before any action.