ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک، 2 زخمی – حلب میں خودکش حملہ

army jeep

شام کی وزارتِ داخلہ کے مطابق حلب کے علاقے باب الفرج میں ایک مشتبہ خودکش حملہ آور نے نئے سال کی رات خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں ایک سکیورٹی فورس اہلکار ہلاک اور دو شدید زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب گشت پر مامور فورس نے حملہ آور کو مشکوک حرکات کے باعث روکا اور تلاشی لی، جس دوران اس نے اپنا دھماکا خیز بیلٹ پھاڑ دیا۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان نور الدین البابا کا کہنا ہے کہ حملہ آور کا تعلق ممکنہ طور پر داعش سے تھا، اور اس کی شناخت کے لیے تفتیش جاری ہے۔ ترجمان نے نشریاتی ادارے الاخبیریہ سے گفتگو میں کہا کہ حملہ آور "شدید نظریاتی و تنظیمی وابستگی” رکھتا تھا، جس کا تجزیہ جاری ہے۔

حملہ کب اور کہاں ہوا؟

  • مقام: باب الفرج، حلب، شمالی شام
  • تاریخ: 31 دسمبر کی رات
  • نوعیت: خودکش بم حملہ
  • ہلاکتیں: 1 سکیورٹی اہلکار
  • زخمی: 2 اہلکار

شام کی سرکاری نیوز ایجنسی SANA کے مطابق جائے وقوعہ کی تصاویر میں پتھر کی راہ داری تباہ حالت میں دکھائی دیتی ہے، ملبہ، مڑھی ہوئی دھات اور دھوئیں کے نشانات واضح نظر آرہے ہیں۔

تناظر اور علاقائی صورتحال

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب شام اور امریکا کے درمیان داعش کے خلاف مشترکہ کارروائیاں بڑھ رہی ہیں۔

  • اسی ماہ کے آغاز میں امریکا اور شامی فورسز کے قافلے پر حملہ ہوا تھا، جس میں 2 امریکی فوجی اور ایک مترجم ہلاک ہوئے۔
  • جوابی کارروائی میں امریکی فوج نے شام میں داعش کے درجنوں ٹھکانوں پر وسیع فضائی حملے کیے۔

شام کی موجودہ حکومت سابق باغیوں پر مشتمل ہے، جنہوں نے طویل 13 سالہ خانہ جنگی کے بعد 2024 کے آخر میں سابق صدر بشارالاسد کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا۔ حکومت میں سابق القاعدہ دھڑے کے وہ ارکان بھی شامل ہیں جنہوں نے داعش سے لاتعلقی اختیار کی تھی۔

نومبر میں شامی صدر احمد الشراء نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ داعش مخالف تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔

حملے کی ممکنہ وجوہات اور آئندہ خدشات

ماہرین کے مطابق:

  • داعش شام میں دوبارہ کاروائیاں بڑھانے کی کوشش کررہی ہے۔
  • مذہبی و سماجی مقامات کو نشانہ بنانا گروہ کی نئی حکمتِ عملی ہوسکتی ہے۔
  • نئے سال کی تقریبات پر حملہ کرنا دہشت پھیلانے کی علامتی کوشش ہے۔

سکیورٹی اداروں کے لیے ممکنہ اقدامات

  • گرجا گھروں، عبادت گاہوں اور عوامی مقامات پر اضافی تعیناتی
  • مقامی کمیونٹیز کے ساتھ ریئل ٹائم انٹیلی جنس تعاون
  • جدید اسکریننگ ٹیکنالوجی اور ڈرون نگرانی کا اضافہ

سوالات و جوابات (FAQ)

کیا کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کی؟

نہیں، تاحال کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

کیا حلب مزید حملوں کے خطرے میں ہے؟

حکام کے مطابق داعش کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں، اس لیے حفاظتی اقدامات سخت کیے جارہے ہیں۔

کیا متاثرین کی شناخت جاری ہے؟

جی، وزارتِ داخلہ واقعے کی مکمل تفصیلات جلد جاری کرے گی۔

انٹرایکٹو رائے شماری – اپنی رائے دیں

آپ کے خیال میں شام کو کس حکمت عملی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے؟

  • مذہبی مقامات پر سخت حفاظتی نظام
  • امریکا کے ساتھ مزید عسکری معاہدے
  • داعش کے خلاف مقامی فورسز کی تربیت
  • عوامی حساسیت مہمات

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں – سب سے دلچسپ جواب ہماری اگلی رپورٹ میں شامل ہوسکتا ہے۔

کال ٹو ایکشن

مزید ایسے عالمی سکیورٹی اپ ڈیٹس پڑھنے کے لیے ہمارا پیج بُک مارک کریں۔
روزانہ فوری نیوز الرٹس کے لیے ہمارا WhatsApp چینل جوائن کریں – اسکرین کے بائیں جانب فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں اور فوری نوٹیفیکیشن حاصل کریں۔

Disclaimer (English): All information is sourced from public news reports. Readers should verify before acting on any discussion.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے